• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2021 ءمیں کیا دیکھا یلغار طالبان کی، 2021ء میں اور کیا دیکھادہشت گردی، خاص کر پاکستان کے ہر شہر میں، بچوں کیساتھ زیادتی، عورتوں پر تیزاب پھینکنا، مذہب کے نام پر قتل۔ پاکستان میں یوں تو حکومتوں نے سکھوں اور ہندوؤں کے تہواروں کو سرکاری سطح پر کسی حد تک منایا جبکہ آج کل انڈیا میں جو شخص ماشاء اللہ کہے اس کو گولی مار دی جاتی ہے اور جو نماز پڑھتا دکھائی دے، اس کےآگے شیطان کھڑے کر دیتے ہیں۔ اس طرز فکرکو مذہبی جنون بنا دیا گیا ہے۔ افغانستان میں طالبان نے عورتوں اور بچیوں کو گھروں میں قید، اسکول بند، کالج بند، ٹی وی بند، فلم سینما بند کردئیے۔ وہی افغانستان جہاں فردوسی اور حافظ کا کلام پڑھا اور گایا جاتا تھا۔ وہاں صرف ایک حکم، مٹھی بھر داڑھی رکھو۔ بدخشاں سے تو انار آتے تھے، وہاں سے اب گولیاں اور کارتوس آرہے ہیں۔

ابھی اتنا لکھا تھا کہ مذہبی جنونیت میں غزہ کے اجڑے آباد میدانوں میں، آج کل یہودی وہاں اپنی بستیاں بنا رہے ہیں۔ ٹریکٹر سے زمین اکھیڑتے ہیں تو انسانی جسم کے ٹکڑے پوچھتے ہیں کیا اب بھی کروڑوں فلسطینیوں کو مار کر تمہارے اندر کا زہر آگ کی طرح لپک رہا ہے۔ ابھی نیتن یاہو کا بغض باقی ہے اس نے ایران میں ٹرمپ کے کندھوں پر بیٹھ کر، سات سو سالہ ایرانی تہذیب کو مٹانے اور سربراہ کو زیر زمین بھی نہ چھوڑا۔ اسکی بیٹیوں، نواسیوں تک کو بم مار کر اپنے کرتوت پر ناز کیا۔ ٹرمپ امن کا نوبل انعام مانگنے کیلئے صحافیوں کی دعوتیں کرتے انکو بار بار کہتے کہ لکھو میرا نام اور امن کا انعام کہ میں نے آٹھ جنگیں بند کروائی ہیں۔

ایک دم میرے سامنے والٹیر کھڑا دکھائی دیا۔ یاد ہے ناں، اس نےاپنے زمانے اور آنے والے زمانوں میں فرانس کی تاریخ اور تہذیب ایسے بدلی کہ آج کے دانشور اور نوجوان دنیا بھر میں قبول کر رہے ہیںکہ وہ ایک سچا انقلابی تھا۔ آج انقلاب فرانس کو پڑھیں تو والٹیر کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں۔ دنیا بھر کے نوجوان 1794ءسے آج تک اس کا نام لیکر، نعرے مارتے ہیں۔ اور برسرِ اقتدار قوتیں، نالاں ہوکر والٹیرکو کئی بار جیل میں ڈالتی رہیں۔ مگر خرد افروزی، روشن خیالی اور ایک معلم کی طرح اس کا ایمان تھا کہ جو لکھنے والا ظلم کرنے والوں کے خلاف بولتا نہیں اس کی تحریریں بے معنی ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ والدین جو اپنے بچوں کو ہنر اور علم سے آگاہ نہیں کرتے،وہ اپنی اگلی نسل کی تربیت نہیں کرتے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس کا جی چاہے وہ صحافی بن جاتا ہے، گھٹیا تحریریں بہت فروخت ہوتی ہیں مگر ایسی تحریروں کو پڑھنے والے بھی چمگادڑ کی طرح الٹی مَت رکھتے ہیں۔سیاست میں مداری بھی بہت مقبول ہوتے ہیں کہ وہ لفظوں سے کھیلتے اور سستے جذبوں کو سبب بے سبب بیان کرکے جاہلوں سے تالی بجواتے ہیں۔

قدرتی قانون کیا ہے؟ وہ ہمیں انصاف کو محسوس کرنا سکھاتا ہے، جیسے آپ بچے کو مارنا نہیں، محبت کرنا سکھاتے ہیں ہمارے گھروں میں پچاس برس پہلے بچے کو گالی دینےپر اور لڑنے پر فخر کیا جاتا تھا ۔ آج کے بچے اےون ،اتنا سیکھ گئے ہیں کہ مغربی استاد چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بچوں کو بارہ برس تک ایسے علم کی تربیت مت دو۔ یہ وہی دانشور ہیں جو اس صدی کے اوائل میں بچے کو دودھ پلانے کے لیے کارٹون فلم کے سامنے لٹا دیتے تھے۔ پھر وہ عادی ہو جاتا۔ آخر معاشرے نے اے۔ون کو قبول کیا۔ سارے جہاں میں ٹک ٹاک کے باعث قتل ہونے لگے تو وہی پروفیسر کہنے لگے کہ بچوں کو قدرت، فطرت، درخت، چڑیوں اور پتوں کو دیکھنے پھولوں کو ہاتھ میں لینے اور چڑیوں کے بچوں کو جب وہ اپنے بچوں کو کھلا رہی ہوں تو مائیں اپنے بچوں کو دکھائیں اور خود بھی بچوں کو کھلائیں۔

اب ہماری 13کروڑ نوجوان نسل میں کوئی مستری، کوئی مالشیا، کوئی نقلی بال لگانے والا اور کوئی نہیں بلکہ پڑھنے والے ہزاروں کتاب نہیں پڑھتے شیشہ پیتے ہیں۔ سائیکل کو پنکچر لگانے والے، بہت سے بچوں کے پاس میں گئی پوچھا کیا پڑھا؟ وہ ہنس کے کہتا ہے بابا نے کام پر لگا دیا۔ میں شام کو اماں کے ہاتھ میں کبھی دس کبھی 20 روپے پکڑاتا ہوں۔ اسطرح میں نے پٹرول پمپ پہ کام کرتے نوجوان دیکھے، پوچھا کیا پڑھا ہے وہ پاگلوں والا قہقہہ مار کر کہتے، گھر میں باپ کی گالیاں سن کر گھر سے بھاگ آئے، یہیں رہتے، یہیں پانچ برس سے کام کرتے کرتے اب پنکچر بھی لگا لیتا ہوں۔ ور ک شاپس میں کام کرتے بچوں سے جب پوچھا ’’کام کیسے ملا‘‘ بولا ابّا گھر نہیں تھا اماں مجھے یہاں چھوڑ گئی گاڑی ٹھیک کرنا بھی آگیا اماں کہتی ہے تو روز دو سو کمانے لگے گا تو تیری شادی کر دوںگی۔

آؤ والٹیر میرے ملک پاکستان میں جہاں بچے گھر کی روٹی چلاتے اور سائیکل کو پنکچر لگاتے، ہر گلی میں کھلی ورکشاپ میں کام کر رہے ہیں۔ غریب کا بچہ، بڑا ہو کرپڑھ لکھ چکنےکے بعداچھا بولنے لگے تو کوئی زمیندار اس پر پیسے لگا کر تحصیل دار بنوانے نکلتا ہے۔

تازہ ترین