امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں شاندار سرکاری عشائیہ دیا جس میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔
عشائیے میں ٹیسلا کے سرپراہ ایلون مسک، ایپل کے سربراہ ٹم کک، این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین سمیت متعدد امریکی ٹیکنالوجی رہنما شریک ہوئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹیکنالوجی کی نامور شخصیات کو عشائیے میں مدعو کرنے سے یہ واضح ہوا کہ امریکا نے تجارت اور مصنوعی ذہانت کو شی جن پنگ کے دورے کے اہم موضوعات میں شامل رکھنے کی کوشش کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ نے دن کا آغاز سرکاری استقبالیے، فوجی پریڈ اور فضائی مظاہرے سے کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ملاقات کو بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مختلف نظام رکھتے ہیں تاہم دونوں قوموں کے عوام کے درمیان تعلقات برقرار ہیں۔
شی جن پنگ نے زیادہ محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا کو امن کے ساتھ بقائے باہمی اختیار کرنا ہو گی اور ذمے دار بڑی طاقتوں کے طور پر کام کرنا ہو گا۔
انہوں نے اس دوران مصنوعی ذہانت کو انسانی کنٹرول میں رکھنے پر بھی زور دیا۔
چینی صدر نے تائیوان کی آزادی کی مخالفت میں امریکی صدر سے احتیاط برتنے کا مطالبہ کیا جبکہ ایران جنگ مذاکرات کے ذریعے جَلد ختم کرنے پر زور دیا۔
شی جن پنگ کے دورے کے دوران وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین نے چینی صدر کے خلاف نعرے لگائے اور ہانگ کانگ کی آزادی کے مطالبات کیے۔
عشائیے میں امریکی صدر نے شی جن پنگ کو امریکا کی قومی علامت عقاب کا خصوصی مجسمہ تحفے میں دیا، اس دوران مہمانوں کو مختلف خصوصی کھانے پیش کیے گئے۔
ٹرمپ نے عشائیے کے بعد مہمانوں کو وائٹ ہاؤس میں زیرِ تعمیر 400 ملین ڈالرز کے نئے بال روم کا دورہ بھی کروایا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی تاہم امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ بندی میں مزید 2 ماہ کی توسیع پر اتفاق ہوا ہے جو جنوری تک برقرار رہے گی۔
شی جن پنگ کا دورہ آج امریکی قومی آرکائیوز کے دورے کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو جائے گا جہاں امریکا کی آزادی کے اعلامیے کی تاریخی دستاویز موجود ہے۔