ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے موصول ہونے والی غلط معلومات کا نتیجہ تھا۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ حملہ دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کی جانب سے فراہم کردہ پرانی و ناقص معلومات پر مبنی تھا۔
رپورٹ میں اہداف کے تعین میں مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار کو بھی اس حملے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پالانٹیئر ٹیکنالوجیز کے ’میون اسمارٹ سسٹم‘ میں شامل اے آئی نے اسکول کو غلطی سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری تنصیب قرار دے کر اسے ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل کر دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے واضح تھا کہ فوجی تنصیب اور اسکول کے درمیان دیواریں اور داخلی راستے برسوں پہلے الگ کیے جا چکے تھے اور 2019ء میں بعض امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے بھی اس مقام میں تبدیلیوں کی نشاندہی کی تھی لیکن یہ معلومات امریکا کے مرکزی ہدف سازی کے ڈیٹا بیس میں محفوظ نہیں کی گئی تھیں، یہی وجہ ہے کہ ڈیٹا اسکول کو پاسدارانِ انقلاب کی تنصیب کے طور پر ظاہر کر رہا تھا۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتاری نے انسانی نگرانی اور جانچ پڑتال کے مواقع کم کر دیے، جس کے باعث اتنی بڑی غلطی ہوئی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگی فیصلوں میں مشینوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کی وجہ سے مستقبل میں بھی ایسے ہی المناک واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے دوران ایران کے شہر میناب میں واقع لڑکیوں کے اسکول ’شجرۂ طیبہ‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں طالبات سمیت 150 سے 175 کے قریب افراد شہید ہوئے تھے۔