• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایکس بکس کنٹرولرز سے چلنے والے لیزر ہتھیار نصب کر دیے: رپورٹ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سمیت مشرقِ وسطیٰ میں جدید لیزر ہتھیار نصب کر دیے۔

یہ لیزر ہتھیار ڈرونز اور آنے والے کروز میزائلز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان ہتھیاروں کو فوجی اہلکار تبدیل شدہ ایکس باکس گیمنگ کنٹرولرز سے چلا رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمۂ جنگ نے بتایا ہے کہ لیزر ہتھیار روایتی میزائلز کے مقابلے میں کم لاگت کے ساتھ اہداف کو تباہ کر سکتے ہیں، بجلی سے پیدا ہونے والی انتہائی طاقت ور لیزر شعاع ہدف پر مرکوز ہو کر اسے گرم کرتی ہے جس سے ڈرون یا دیگر ہدف ناکارہ یا تباہ ہو جاتا ہے۔

دفاعی ٹیکنالوجی کے ماہر مارک نیس کے مطابق لیزر کے ذریعے ڈرون کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ اس کے سینسرز کو ناکارہ کرنے یا پورے ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے شعاع کو مخصوص مقام پر مرکوز کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں نصب ’ہائی انرجی لیزر ود انٹیگریٹڈ آپٹیکل ڈیزلر اینڈ سرویلنس‘ نظام 60 کلو واٹ لیزر استعمال کرتا ہے، یہ نظام بڑا اور بھاری ہونے کے باعث جنگی بحری جہازوں پر نصب کیا گیا ہے۔ 

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی میکسیکو کی سرحد پر ڈرونز کے خلاف بھی استعمال کی جا رہی ہے تاہم ماہرین کے مطابق اسے ابھی انسانی اہداف کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔

امریکی میڈیا نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا تقریباً 50 سال سے اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے اور منصوبے پر تقریباً 500 ملین ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں، بوئنگ نے نسبتاً چھوٹا لیزر نظام بھی تیار کیا ہے جو تیسرے درجے کے ڈرونز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

60 کلو واٹ لیزر، مگر وزن اور موسم بڑی رکاوٹ

رپورٹ کے مطابق یہ لیزر نظام اتنا بڑا اور بھاری ہے کہ اسے فی الحال جنگی بحری جہازوں پر نصب کیا گیا ہے، فوجیوں کی جانب سے ایسے لیزر نظام کو بیگ میں اٹھا کر میدان میں لے جانے کا امکان فی الحال کم ہے۔

امریکی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیزر ہتھیاروں کی مؤثر کارکردگی کے لیے صاف آسمان ضروری ہے اور ایک ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز کے حملوں کی صورت میں ان کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید