• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

آج او پی ڈی میں مریض دیکھنا شروع ہی کئے تھے کہ کمرے میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کوئی تقریباً 30-35 سال کی عورت داخل ہوئی۔ میں نے بیٹھنے کو کہا اور پوچھا کیا ہوا ہے آپ کو؟ چہرے پر تھکن، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمایاں تھیں، بے زاری سے جواب دیا ڈاکٹر صاحبہ ہر وقت تھکی ہوئی رہتی ہوں، سر بھاری رہتا ہے، عجیب سی کمزوری ہے، کسی کام میں دل نہیں لگتا اور رات کونیند بھی پوری نہیں ہوتی۔

میں نے بنیادی سوالات کے ساتھ ایک سوال اور کیا آپ روزانہ کتنے گھنٹے سوتی ہیں؟ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی، نیند کہاں آتی ہے ڈاکٹر صاحبہ گھر کے کام، بچّوں کی فکر، پھر کچھ دیر موبائل اور سوشل میڈیا استعمال کرتے کرتے فجر کی اذان ہوجاتی ہے۔ اُس کےچند گھنٹوں بعد بچّوں کے اسکول کی تیاری، ناشتہ، کھانا پکانا اور گھر کے دیگر کام۔

میں یہ سوچ رہی تھی کہ یہ ایک عورت یا ایک مریضہ کی کہانی نہیں، یہ ہماری موجودہ اجتماعی زندگی کی ایک تصویر ہے۔ رات بھر نیند نہیں آتی ہے، بہت ساری طبّی وجوہ کے ساتھ ساتھ کچھ وجوہ ہماری اپنی پیدا کردہ بھی ہیں۔ ہم نے نیند کو زندگی کی انتہائی اہم ضرورت سمجھنے کے بجائے ایک ایسی چیز سمجھ لیا ہے جسے غیر ضروری مصروفیات کی وجہ سے قربان کیا جاسکتا ہے۔

حالاں کہ نیند ایک نعمت ہے۔ یہ جسم اور دماغ کے آرام ہی کے لئے نہیں بلکہ ایک بنیادی حیاتیاتی ضرورت ہے۔ نیند کے دوران ہمارے جسم کی قدرتی Healing ہوتی ہے۔ یعنی جسم کے اندر ہونےو الی قدرتی توڑ پھوڑ کی مرمت ہوتی ہے۔ بالغ افراد کو ہر رات کم از کم 7 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ نوزائیدہ بچّوں کو 14سے 17گھنٹے، شیرخوار بچّوں کو 12سے 15گھنٹے اور اسکول جانے والے بچّوں کو 9سے 12گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح 65سال سے زائد بزرگ افراد کو 7 سے 8 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔مسلسل نیند کی کمی سے کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

٭یادداشت اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ ٭چڑچڑاپن، بے دلی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔٭ کام کے دوران غلطیوں اور ڈرائیونگ کے دوران حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔٭ وزن میں اضافہ، بلڈ پریشر اور خون میں شوگر کےمسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔٭ جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ ٭جسم میں ہارمونز کے توازن اور تناسب پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بچّوں اور نوجوانوں کے لئے مناسب نیند ان کی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت، یادداشت اور جذباتی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔ ہمارے موبائل نے ہماری نیندیں چرالی ہیں ہم بستر پرسونے تولیٹ جاتے ہیں، مگر دماغ کہیں موبائل میں چھوڑ آتے ہیں۔ ہمارا موبائل ضرورت سے عادت اور عادت سے انحصار بن گیا ہے، کبھی صرف ایک پیغام دیکھنے کے لئے پانچ منٹ کے لیے موبائل اُٹھاتے ہیں وہ پانچ منٹ آدھے گھنٹے، ایک گھنٹے اور کبھی اس سے بھی زیادہ وقت گز ر جاتا ہے۔

ایک ویڈیو کے بعد دوسری ویڈیو، ایک پیغام کے بعد دوسرا پیغام ، سوشل میڈیا کی مسلسل اسکرولنگ، ویڈیو گیمز اور ہر چند منٹ بعد موبائل چیک کرنے کی عادت آہستہ آہستہ ہماری توجہ، وقت اور نیند کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ موبائل کے بے دریغ اور مسلسل استعمال سے ٭نیند متاثر ہوتی ہے ٭ آنکھوں پر دباؤ پڑتا ہے، بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے ٭گردن اور کمر میں درد بھی ہوسکتا ہے ٭ اس سے توجہ اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی ذمہ داریاں بھی متاثر ہوتی ہیں ٭ دوسری جانب ذہنی سکون بھی متاثر ہوتا ہے، کیوںکہ انسان دوسروں کا طرزِ زندگی دیکھ کر خود سے موازنہ کرنے لگتا ہے۔ منفی خبریں، بحث اور تکرار بعض افراد میں بے چینی اور اداسی کو بڑھادیتی ہیں ٭جسمانی سرگرمی کم ہوجاتی ہے ٭ خاندان کے افراد ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں، کیوں کہ وہ الگ الگ اپنے موبائلز میں مصروف رہتے ہیں۔ چائے ،کافی اور کیفین والی دیگر اشیاء بعض افراد میں دیر تک بے داری برقرار رکھ سکتی ہیں۔اسی طرح کچھ بیماریاں بھی نیند کومتاثر کرتی ہیں۔ مثلاً دمہ، تھائی رائیڈ کی بیماری، بلڈ پریشر، ذیابطیس اور معدے کی تکالیف۔ نفسیاتی عوامل اور نفسیاتی بیماریاں بھی نیندکو متاثر کرتی ہیں۔

یہاں پر ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے ؟٭ اگر کئی ہفتوں تک نیند کا مسئلہ برقرار رہے اور روزمرہ کے معمولات زندگی، کام یا پڑھائی متاثر ہونے لگیں۔٭ اگر نیند میں خراٹوں کے ساتھ سانس رکتی محسوس ہو یا بار بار نیند ٹوٹ جائے یا جاگنے کی شکایت ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔٭ کبھی کبھی نیند کی خرابی کے پیچھے ذہنی دباؤ، ادویہ، ہارمونز یا دوسری طبّی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں ،اگر یہ مسائل درپیش ہو رہے ہوں تو لازمی ڈاکٹر سے مشورہ کریں، نیند نہ آنے کی صورت میں خود سے نیند کی گولیاں لینا مناسب نہیں ہے۔ نیند نہ آنے کی اصل وجہ معلوم کرنا اور دوا دینا ڈاکٹر کا کام ہے۔

گھر میں کچھ اصول بنائیں: ٭ گھر میں No mobile zone بنائیں۔٭کھانے کی میز پر موبائل استعمال کرنے پر پابندی لگائیں ۔٭گھر کے لاؤنج میں گھروالوں کےساتھ موبائل استعمال نہیں کریں ٭بچّوں کے ساتھ روزانہ کچھ وقت بغیر موبائل کے گزاریں۔ ٭ گفتگو، کتاب بینی، کھیل اور واک کے لیے وقت نکالیں۔ ٭والدین خود بھی بچّوں کے سامنے موبائل استعمال کرنے سے گریز کریں۔

ٹیکنالوجی زندگی کو آسان بنانے کے لئے ہوتی ہے، اس کواپنی نیند اور زندگی کا سکون نہ چھیننے دیں۔ ٹیکنالوجی کواتنے فاصلے پر رکھیں کہ ہماری نیند، صحت، رشتے اور سکون ہم سے دور نہ ہوجائیں۔

کبھی کبھی صحت کے لئے پہلی دوا بھرپور اور پُرسکون نیند ہی ہوتی ہے، اپنی نیند کو آخری ترجیح نہیں بلکہ اپنی صحت کی پہلی ترجیحات میں شامل کریں، کیوں کہ جس طرح صحت مند جسم کو خوراک چاہیے، صحت مند دل کو سکون چاہیے بالکل اسی طرح صحت مند دماغ کو پُرسکون نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔

صحت سے مزید