عالمی ادارہ برائے صحت اور ورلڈ ہارٹ فیڈریشن(WHF) کے زیرِ اہتمام دنیا بھر میں ہر سال29 ستمبر کو ’’دل کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، یہ دن کسی نہ کسی تھیم کے تحت منایا جا تا ہے اور رواں برس کا تھیم ہے ’’دھڑکن نہ چھوٹے ‘‘(Do not miss a beat)۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کے علاقوں میں ایک منٹ میں تقریبا آٹھ لوگ امراضِ قلب کے باعث فوت ہو تے ہیں، جب کہ دنیا بھر میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد دل کی بیماریوں کے باعث ہر سال زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور ہر پانچ میں سے ایک شخص اور ہر آٹھ میں سے ایک خاتون دل کی بیماری میں مبتلا ہے۔
ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے 2026 کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق امراضِ قلب (Cardiovascular Diseases—CVDs) دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں ۔اور ہر سال تقریباً 20.5 ملین افراد امراضِ قلب کے باعث جان سے چلے جاتے ہیں، جو دنیا بھر کی تمام اموات کا تقریباً 33 فی صد، یعنی تقریباً ہر تین میں سے ایک ہلاکت ہے۔1990 ءسےاب تک کی سالانہ اموات 12.1 ملین سے بڑھ کر 20.5ملین ہوچکی ہیں، یعنی شر حِ اموات میں تقریباً 60 فی صد اضافہ ہوا۔
یہی امر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئےعالمی ادراہ برائے صحت اور ورلڈ ہارٹ فیڈریشن نے ’’عالمی یوم ِقلب ‘‘کو منانے کا فیصلہ کر کے لوگوں کو اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ دل کی بیماریوں سےمتعلق آگاہی حاصل کرکے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے شرحِ اموات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں دل کے مریضوں کی تعداد 18ملین سے بڑھ کر30 ملین تک پہنچ جائے گی اور ان بیماریوں کے بنیادی اسباب میں تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، ذہنی دباؤ، فاسٹ فوڈز کا بکثرت استعمال، ناقص کوکنگ آئل اور ورزش نہ کرنے جیسے عوامل شامل ہیں۔
عالمی ادارہ ء صحت کے مطابق دل کے امراض میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہےاور اس ضمن میں ہارٹ وسیکولر ڈیزیز گو یا ’’اُم الامراض‘‘ ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے، جو دل اور خون کی نالیوں کو متاثر کرتی ہے۔
اس کے سبب جب خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں، تو دل کے دورے یا فالج کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ نیز، اس کے سبب دماغ، گردے اور آنکھیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
دل کی دیگر بیماریوں میں مایو کارڈیل انفارکشن (Myocardial Infarction) بھی عام ہے، جسے عام زبان میں ’’دل کا دورہ‘‘ کہا جاتا ہے، یہ ایک سنگین طبّی حالت ہے، جو اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب دل کے پٹھوں تک خون اور آکسیجن پہنچانے والی شریان میں خون کا بہاؤ اچانک متاثر یا بند ہو جائے۔
اس کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچنا شروع ہو جاتا ہے اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ نقصان جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ سینے میں دباؤ یا شدید درد، سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈے پسینے، متلی، چکر آنا، بازو میں درد، درد کا کندھے، گردن یا جبڑے تک پھیل جانا، اس کی عام علامات میں شامل ہیں، تاہم، واضح رہے، ہر مریض میں علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
اس کاخطرہ کم کرنے کے لیے بلڈ پریشر، کولیسٹرول ، شوگر اور وزن کنٹرول میں رکھنا، سگریٹ نوشی سے اجتناب، متوازن غذا کا استعمال اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند وزن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ دل کے دورے کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کرنا انتہائی اہم ہے، کیوں کہ علاج میں تاخیر دل کے پٹھوں کو پہنچے والے نقصان میں اضافہ کر سکتی ہے۔
جب کہ ،بروقت تشخیص اور مناسب علاج مریض کی زندگی بچانے اور دل کو مستقل نقصان سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یاد رہے، اس بیماری کی صورت میں اکثر دل کوخون فراہم کرنے والی شریانیں بند ہو جاتی ہیں اور جب دل کے کسی حصّے میں خون کا بہاؤ مکمل طور پر رُک جائے تو دل کے پٹھّوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور یہ نقصان بعض اوقات موت کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دل، خون پمپ کرنے کے قابل ہی نہیں ہوتا، لہٰذا یک دم بند ہو جاتا ہے۔ بعض حالتوں میں دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز یا سُست ہو جاتی ہے، جب کہ کچھ حالتوں میں بازوؤں اور ٹانگوں کی تنگ شریانیں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال کر بھی دل بند کر دیتی ہیں۔
دل کی پیدائشی بیماریاں بھی ،شر ح ِامراض قلب میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں، جو پیدائش کے ساتھ شروع ہو کر موت تک جاتی ہیں۔ یہاں اختصار کے ساتھ امراض ِقلب کی چند وجوہ کا ذکر لازم ہے، جن میں ہارٹ وسکولر ڈیزیز، ایتھروا سکلروسس، ہائی بلڈ پریشر، ، شوگر، ہائی کولیسٹرول ، بار بار سوزش یا انفیکشن ہونا شامل ہیں۔
واضح رہے، دل کی امراض عمومی طور پر مردوں میں 45 سال اور خواتین میں 55 سال کی عمر کے بعد شروع ہوتے ہیں، لیکن یہ طے شدہ امر نہیں، بعض افراد میں یہ عمر کے کسی حصے میں بھی ہو سکتے ہیں۔ علامات کی بات کریں، تو میں اکثر سانس کی تنگی، سینے، بائیں بازو میں درد، کمزوری، تھکاوٹ، پیروں، ٹخنوں، ٹانگوں اور چہرے پر سوزش، خون کی کمی، تھوڑا سا چلنے سے سانس پھول جانا اور اکثر چکر آنا وغیرہ عام ہیں۔