• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں پھر مظاہرے، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ

بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کو لے کر آج بھارت کے کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ نئی دلی میں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج پر پولیس نے دھاوا بول دیا جہاں کئی افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔

جنتر منتر پر ایک بار پھر پولیس نے دھاوا بول دیا، دہلی پولیس نے مظاہرہن کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ مظاہرہ چیف الیکشن کمیشن کے خلاف ہوا جس میں شریک مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمیشن استعفی دیں۔

طلبہ رہنما نیہا بورا، یوگیندر یادو اور دیپانکر بھٹہ چاریہ سمیت متعدد افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ نیہا بورا نے دہلی پولیس سے کہا کہ عام عوام کو نہیں، گنیش کمار کو پکڑیں۔

جنتر منتر سے ابھرنے والے دی وائر کے اسپیشل کراسپانڈنٹ محمد عرفان کو بھی حراست میں لیا گیا جبکہ ان کا مائیک بھی پھینک دیا گیا۔ 

واضح رہے کہ اس تنازعے کی جڑ بھارتی اخبار کی ایک خصوصی رپورٹ بنی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران دو الیکشن کمشنرز نے کم از کم 14 مرتبہ ووٹر ڈیٹا، نئے ووٹرز کے اندراج اور انتخابی فہرستوں کی سیکیورٹی سے متعلق فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض فیصلے دونوں کمشنرز کی معلومات کے بغیر کیے گئے۔

اسی تنازعے میں کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی الیکشن کمیشن پر ’ووٹ چوری‘ کے الزامات عائد کرچکے ہیں، جبکہ ممتا بینرجی نے گنیش کمار کی گرفتاری اور ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ پر دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کردیا۔

اسی تنازع پر بھارت کی ابھرتی ہوئی پارٹی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے گنیش کمار کو کل تک استعفے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مطالبہ منظور نہ ہوا تو 2 اکتوبر سے ممبئی میں ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ 

خیال رہے کہ مختلف تنظیم کے صدر اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر تعلیم کا استعفیٰ دلوا چکے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید