بھارت میں خواتین سے زیادتی کے واقعات نے خواتین کے تحفظ سے متعلق بحث دوبارہ تیز کر دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بدھ کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سیکڑوں طلبہ نے احتجاجی مارچ کیا جنہوں نے پلے کارڈز اٹھا کر ایک حالیہ ہائی پروفائل واقعے کے بعد خواتین کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے 3 افراد نے 17 سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ ایک مندر کے قریب پارک میں پیش آیا جہاں ملزمان نے لڑکی اور اس کے 17 سالہ دوست کو دھمکایا، 1 ملزم نے اسلحے اور چاقو کے زور پر لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، بعد ازاں دیگر 2 ملزمان نے بھی متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس حالیہ واقعے نے 2012ء ایک واقعے کی یاد تازہ کر دی جس میں بس کے اندر ایک 23 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کر کے اسے قتل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد بھی ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں بھارت میں روزانہ اوسطاً 80 زیادتی کے واقعات رپورٹ کیے گئے۔
خواتین کے حقوق کی کارکن یوگیتا بھایانہ نے غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی اس جرم کے اصل حل پر کام نہیں کر رہا اور وہ حل ذہنیت کی تبدیلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب بھی یہ ذہنیت پائی جاتی ہے کہ دیر گئے گھر سے باہر رہنا عورت کی غلطی ہے، یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ معاشرہ اب بھی اس طرح سوچتا ہے۔
خاتون وکیل شلپی جین کا کہنا ہے کہ پولیس اور عدالتوں کے پاس مقدمات کی اچھی طرح سے تفتیش کرنے کے ذرائع کی کمی ہے، مسئلہ قانون میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں ہے جو اسے نافذ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جج اور پولیس اہلکار کام کے بوجھ تلے دبے ہیں، ایک پولیس اسٹیشن 2 سے 3 لاکھ لوگوں کے معاملات سنبھالتا ہے، یہ نظام کیسے چلے گا؟ یہ ایک نہ ختم ہونے والا بُرا چکر ہے۔
شلپی جین کا کہنا ہے کہ زیادتی کے ایک عام مقدمے میں 7 سے 8 سال لگ جاتے ہیں اور اگر مقدمہ سپریم کورٹ تک چلا جائے تو 20 سال لگتے ہیں جس کے نتیجے میں مجرموں کے دل سے قانون کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور متاثرین امید کھو بیٹھتے ہیں۔