وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاکستان، ترکیہ اور سعوی عرب کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا۔
وزیراعظم نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کر رہا ہوں، ہم اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کر رہا ہوں، پاکستان نے امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا، جنگ سے آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آگئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے، ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انھیں تنازعے کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے، ہم لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔
بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا، بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کیا، پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
ٹرمپ کی وژنری قیادت کے باعث لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں
شہباز شریف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی وژنری قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک آل آوٹ جنگ کے دہانے پر تھے، یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔
کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے
وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے، کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے، کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، میں کشمیری بہنوں بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کے لیے اپنی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے یہاں تک کہ انھیں ان کا حق نہیں مل جاتا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، تھا اور رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں امن کے لیے انتہائی ضروری ہے، 8 دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہےہیں، اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق وعدے پورے کرے۔
سندھ طاس کا پانی سارے خطے کے لیے ہے
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس کا پانی سارے خطے کے لیے ہے، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا جس کی کوئی ویلیو نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔
نسلوں سے فلسطینی عوام آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نسلوں سے فلسطینی عوام آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیگر بچوں کی طرح جینے کا حق ہے، فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔
دہشتگردی عالمی آمن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے
شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی عالمی آمن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے، دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے صف اول کی ریاست کے طور پر دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا، ہماری مسلح افواج اور بہادر شہریوں کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے، امن پسند دنیا پاکستان کی لازوال قربانیوں کو جھٹلا نہیں سکتی۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے افغان سرزمین استعمال کررہے ہیں، افغان حکام اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔