• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کیا ہے؟ ایرانی تہذیب کو فنا کی دھمکی دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کی رعونت اور غزہ میں بھوک سے بلکتے بچے کو دیکھیے تو حیرت ہونے لگتی ہے ۔ زندگی آخر ہے کیا؟ جشنِ طرب یا غم کا نوحہ ۔کرہ  ارض کی تاریخ میں جو قتل و غارت برپا رہی ، اسے دیکھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ زندگی کو آخر پیدا ہی کیوں کیا گیا۔ جس وقت ایلون مسک مریخ پہ ایک نئی دنیا آباد کرنے کی تمنا میں سرمست ہے ، کرہ ء ارض کے75کروڑ انسان بھوک سے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔

ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی

ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا

لطیفہ یہ ہے کہ 75کروڑ انسان بھوکے ہیں ، ایک ارب موٹاپے کے ہاتھوں تنگ۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں ، جو سالگرہ کے تحفے کے طور پر ٹائی ٹینک کا جائزہ لینے جاتے اور آبدوز پھٹنے سے مر جاتے ہیں ۔ دوسری طرف وہ بھوکے ننگے جو غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کشش میں ڈوب مرتے ہیں ۔

زندگی کیا ہے ؟ نامور ماہرِ فلکیات اور طبعیات دان اسٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا: زندگی سب عجوبوں سے زیادہ حیرت انگیز عجوبہ ہے۔ Life is the strangest phenomenon known۔ خدا کے انکار اور اقرار کے درمیان جھولتے ہوئے اس بڑے دماغ نے پھر ایک بڑی عجیب بات کہی: کائنات اگر زندگی تخلیق کر سکتی ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہے ۔ سوال توہاکنگ سے یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ کائنات ہے کون ، جس نےزمین پہ زندگی تخلیق کی ۔ کیا کرہ ارض کائنات ہے ، جو انسان کے ہاتھوں تباہ و برباد ہونے کے قریب ہےلیکن کر کچھ نہیں سکتا؟ کیا بے جان خلا کائنات ہے ؟ کیا سورج کائنات ہے، جو اپنا ایک تہائی ایندھن جلا چکا اور دس ارب سال بعد فنا ہو جائے گا ؟ کیا بلیک ہول کائنات ہے ، جو اپنا نام رکھےجانے کیلئے بھی انسان کا محتاج ہے ؟ کیا زمین ، سورج، خلا اور بلیک ہول کچھ سوچ سکتے ہیں ؟سوال تو یہی ہے ، کس نے اس نیلے سیارے پر زندگی کو پیدا کیا ؟مٹی میں دفن بیج کو پھاڑ کر کون تناور درخت بناتا ہے ۔

 قرآن چونکہ صرف سائنسدان ہی کیلئے نہیں بلکہ ان پڑھ انسان کیلئےبھی نازل ہوا ، اسلئے اس میں آسان ترین الفاظ میں ساری کہانی بیان کی جاتی ہے ۔ ابراہیمؑ جب ،باری باری ستارے، چاند اور سورج کو خدانہ ہونےکا کہہ کر ردکر رہے تھے تو دراصل وہ بڑی گہرائی میں کائنات کا جائزہ لے رہے تھے ۔  ہاکنگ جسکے بارے میں کہتاہے کہ کائنات اگر زندگی پیدا کر سکتی ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہے ۔ ابراہیمؑ غور کر رہے تھے کہ کیا زمین پر یہ زندگی اپنے آپ پیدا ہوئی ، یا اسکا کوئی خالق بھی ہے ۔ سورج ، چاند اور ستاروں کا جائزہ لیتے ہوئے ، وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سب تو خود مخلوقات ہیں ، خالق ہرگز نہیں ۔ سائنسدان کہتاہے کہ کائنات اگر زندگی پیدا کر سکتی ہے تو کچھ بھی کر سکتی ہے ۔ ابراہیمؑ اسی پر غور کر رہے تھے ، جب خدا سے انہوں نے یہ کہا:رب ارنی کیف تحیی الموتیٰ؟یا رب تومجھے دکھا کہ مردہ کو زندہ کیسے کرتاہے؟ 

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب

موت کیا ہے، انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا

اسٹیفن ہاکنگ اور بڑے سائنسدانوں کا مسئلہ یہ بھی تھا کہ اگر وہ خدا کا وجود تسلیم کرتے تو الحاد پہ قائم مغربی معاشرے میں انہیںملامت کا سامنا کرنا پڑتا ۔ چرچ نے ماضی میں وہ گل کھلائے کہ اب ہر خدا پرست کو کٹھ ملا سمجھ کر حقارت کی نظر سے دیکھا جاتاہے ۔ ادھر خدا کہتاہے کہ میں مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کروں گا ۔ قرآن میں لکھا ہے :کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ کر پائیں گے ۔ کیوں نہیں ، ہم تو اس کے فنگر پرنٹ بھی دوبارہ بنائیں گے ۔ سورۃ قیامہ،3،4۔

جن چیزوں سے سورج، چاند ، ستارے اور کائنات کی تمام اشیا بنی ہیں ، انہی میں سے کچھ عناصر سے انسان اور دوسری زندہ اشیا بھی وجود میں آئیں ۔ سائنسدان بتاتے ہیں کہ انسان کا 99 فیصد جسم چھ عناصر یعنی ہائیڈروجن ، نائٹروجن، کیلشیم ، فاسفورس، کاربن اور آکسیجن سے مل کر بنا ہے ۔ سورج اور تمام ستارے بنیادی طور پر ہائیڈروجن کے بنے ہوتے ہیں ۔ کوئلہ ، ہیرے ، درخت ، پیٹرول اور گیس کاربن سے بنے ہیں ۔یہ بات کتنی عجیب ہے کہ ہمارے جسم کی ہائیڈروجن اور کاربن سوچ سکتی ہیں ، سورج اور ستاروں کی ہائیڈروجن سوچ نہیں سکتی ۔ یا ہمارے ذہنو ں پر پردے ہیں اور ہم اسے سوچتا ہوا دیکھ نہیں سکتے ؟

سائنسدان کہتے ہیں کہ اتفاقاً چند عناصر جڑے اوراپنے آپ پہلا خلیہ تخلیق ہوا ۔ اپنے آپ ارتقا کے عمل میں وہ اربوں قسم کی مخلوقات میں تبدیل ہوا ۔یہ ایک اتفاق ہے کہ اس زمین پر بارش نازل ہوتی اور سبزہ پھوٹ پڑتا ہے ۔ یہ اتفاق ہے کہ پودے آکسیجن پیدا کرتے ہیں ۔ یہ ایک اتفاق ہے کہ اربوں قسم کی مخلوقات میں سے ایک نے لباس پہننا شروع کیا ۔حیاتیاتی یا سائنسی طور پر انسان بھی دوسرے جانوروں جیسا ایک جانور ہے ۔ اس کےباوجود وہ شاعری کرنے اور تخلیقِ کائنات کے تھیسز لکھنے لگا تویہ ایک اتفاق ہے۔ سوچ بچار پہ آئے تویہ انسان ایجادات کرتا اور قتل و غارت پہ اترے تو آسمان سےبم گراتا ہے ۔ آدمی نوری مخلوقات سے افضل بھی ہو سکتاہے ، بدترین جانوروں سے بدتر بھی ۔

بہکا تو بہت بہکا سنبھلا تو ولی ٹھہرا

اس چاک گریباں کا ہر رنگ نرالا تھا

سب سے بڑا سوال مگر یہی ہے ، خدا ہے یا نہیں ؟ غور کریں تو کائنات کے ایک ایک ذرے پہ اس کا نقش نظر آتا ہے ۔ انکار کرنے پہ آئیں توزندگی اپنی بے کراں آرزوئوں کے تعاقب میں گزاریں اور کفارِ مکہ کی مانند بوسیدہ ہڈیوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر قہقہےلگاتے لگاتے قبر میں اتر جائیں ۔

تازہ ترین