دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی وجوہ میں سرِفہرست ’’امراضِ قلب‘‘ ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق 2025ء میں دنیا بھر میں کُل ہونے والی اموات میں سے تقریباً نصف دل کے امراض کے سبب ہوئیں۔ اگرچہ پاکستان میں دل اور شریانوں کے امراض کے ضمن میں درست اعداد وشمار دست یاب نہیں، لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہر چار میں سے ایک پاکستانی دل کی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے۔
یوں تو بہت سےعوامل امراضِ قلب کی شرح بڑھانے میں شامل ہیں، لیکن سرِفہرست لپڈ(Lipid) اورلائپوپروٹین(Lipoprotein) ہیں، اِن سے مراد LDL، HDL اور TL ہے، جب کہ خون میں چکنائی کی مقدار اورلپڈ کی بےترتیبی درست رکھنے کا انحصارغذا کے اُن اجزاء پر ہے، جوخون میں کولیسٹرول کی سطح متاثر کرتے ہیں۔
واضح رہے، موٹی تہہ والی چکنائیاں(Saturated Fatty Acids) خون میں LDL (خراب کولیسٹرول) بڑھا کر کولیسٹرول کی کُل مقدار میں اضافہ کرتی ہیں، جیسا کہ مکھن، پام آئل، کوکو دواش چربی، ہائیڈروجینیٹڈ گھی (جس سے ہائیڈروجن گیس گزاری جاتی ہے) اور جانوروں کی چربی وغیرہ۔ پاکستان میں زیادہ تر افراد بناسپتی گھی استعمال کرتے ہیں، جب کہ نہایت ضروری ہے کہ لوگوں کو نباتاتی تیل، جیسا کہ سرسوں اور کینولا تیل کے استعمال کے طرف راغب کیا جائے۔
کئی سالوں سے معالجین گائے کا گوشت نہ کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں، حالاں کہ بڑا گوشت فولاد، زنک اور وٹامن بی-12سے بھرپور ہوتا ہے، جب کہ پاکستان میں چھوٹا گوشت خاصا منہگا ہے، تو یہ کسی طور مناسب نہیں کہ عوام کو منہگے گوشت کے استعمال کی ترغیب دی جائے، لیکن واضح رہے، سفید گوشت (مرغی اور مچھلی کا) بھی سیچوریٹڈ فیٹ سے پاک نہیں، اس میں بھی کولیسٹرول کا کچھ نہ کچھ تناسب موجود ہے۔
ایک حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ڈارک چاکلیٹ دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں کارآمد ہے، کیوں کہ اس میں موجود فلیورنائیڈ چربی کم کرتے ہیں۔ تاہم، ڈارک چاکلیٹ میں بھی چربی، شکر اور کیلوریزموجود ہوتی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اپنی غذائی عادات میں توازن قائم نہیں رکھے گا، وہ حاصل کردہ خوراک سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
تحلیل ہو جانے والی چربی (Poly Unsaturated Fatty Acid) بنیادی طور پرسبزیوں، میوہ جات اور بیجوں میں پائی جانے والی چکنائی کی ایک قسم ہے، اس کی دو اہم غذائی اقسام ہیں۔ لینولینکن ایسڈLinolenic Acid، جو سرسوں، کینولا، السی کے بیجوں اور اخروٹ میں وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ دوم، Mono Unsaturated Fatty Acid ، جوعام طور پرسیچوریٹڈ مونو ایسڈ کے متبادل کے طور پر تجویز کی جاتی ہے، یہ خون میں HDL(اچھا کولیسٹرول) کم کیے بغیر LDL کی مقدار کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ایک اوراہم چکنائی الیک ایسڈOliec Acid ہے، جوزیتون اور کینولا میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں بہت سے ماہرینِ صحت روغنِ زیتون کااستعمال تجویز کرتے ہیں، لیکن ایک تو یہ خاصا منہگا ہے، دوم، پاکستانی کھانوں کے لیے مناسب بھی نہیں، کیوں کہ یہ پکانے کے دوران جلدی بھاپ بن کر اُڑ جاتا ہے، تو اس کی مقدار میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس کینولا کا تیل سستا اور پاکستانی کھانوں میں استعمال کے اعتبار سے مفید بھی ہے۔
ٹرانس فیٹی ایسڈ(Trans Fatty Acid ) ہائیڈروجینیشن کے عمل سے تشکیل دیا جاتا ہے۔ تیل سے ہائیڈروجن گیس گزارنے سے مضرِصحت اجزاء کیمیائی ردّوبدل کے بعد ہائیڈروجینیٹڈ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، جو LDL کی سطح بلند اور HDL کم کرتا ہے۔ اسی لیے ماہرینِ امراضِ قلب تجویز کرتے ہیں کہ غذا میں اس کا تناسب ممکنہ حد تک کم رکھا جائے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جزوی طور پر ہائیڈروجینیٹڈ چربی سے بچا جائے، جو کہ بیکری کی مصنوعات اور بازار کی تلی ہوئی اشیاء میں وافر مقدار میں استعمال ہوتی ہے۔
بناستی گھی، جو پاکستانی گھروں میں عام استعمال ہوتا ہے، اس سے بھی گریز کریں، جب کہ ایسی غذائی تراکیب، جن میں گھی کی جگہ تیل استعمال نہیں کیا جاسکتا، دیسی گھی کا استعمال بہتر ہوسکتا ہے کہ دونوں میں برابر چربی ہے، لیکن دیسی گھی میں ٹرانس فیٹی ایسڈ موجود نہیں۔
عموماً لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا مکھن، مارجرین کا استعمال محفوظ ہے؟ تو اب کچھ کمپنیز نے ایسی مارجرین تیار کرنی شروع کردی ہے، جس میں ٹرانس فیٹی ایسڈ موجود نہیں۔ ایسی مارجرین کا استعمال مکھن کی نسبت بہترہے، کیوں کہ مکھن میں کولیسٹرول کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔
مچھلی میں پائےجانےوالی پولی ای سچوریٹڈ فیٹی ایسڈ کو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کہاجاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ چربی والی مچھلی میں پایا جاتا ہے، مثلاً Sarclines, Salmon, Tuna, Singhare, Pompret, Hilsa, Mackesel وغیرہ۔ یہ چکنائی دل کی جھلی مضبوط رکھنے اور دل کی رفتار کی بےترتیبی کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ مچھلی کا استعمال دل کے دورے کے باعث واقع ہونے والی اموات کی شرح بھی کم کرتا ہے۔
مچھلی کےعلاوہ میوہ جات، خاص طور پر اخروٹ، اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے حصول کا مناسب ذریعہ ہے۔ میوہ جات میں اَن سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ کا توازن اورسیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ کا تناسب کم ہوتا ہے، نیز، کولیسٹرول کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور چوں کہ میوہ جات میں توانائی (انرجی) زیادہ ہوتی ہے، اس لیے خوراک میں ضرور، مگر کم مقدار میں شامل رکھنے چاہئیں۔
واضح رہے، غذا میں کولیسٹرول کے استعمال کی مقدار عام افراد میں 300mg سے کم اور دل کے مریضوں میں 200mg سے کم تجویز کی گئی ہے۔ اکثر لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ انڈے کا استعمال دل کے مریضوں لیے نقصان دہ ہے یا نہیں؟
عمومی تاثر ہےکہ انڈے میں کولیسٹرول کی مقدارزیادہ ہوتی ہے۔ اس سوال کے صحیح جواب کے لیے مرض کی نوعیت اور مجموعی خوراک میں انڈوں کاتناسب جاننا ضروری ہے۔ اگر ایک شخص روزانہ انڈے کا استعمال کرتا ہے، لیکن اس کی غذا میں سبزی کا استعمال زیادہ ہے تو وہ روز بھی انڈا کھا سکتا ہے، اس کے برعکس ایسے افراد، جن کو ذیابطیس یا کوئی اور مرض لاحق ہو، اور وہ گوشت کا استعمال زیادہ کرتے ہوں تو انہیں ہفتے میں دو سے تین بار ہی انڈا کھانا چاہیے۔ چوں کہ مجموعی طور پر انڈا غذائیت کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے، لہٰذا بلاسبب اس کے استعمال پرپابندی عائد نہیں کرنی چاہیے۔
Dietary Fiber(غذائی ریشے) دل کے امراض کا خطرہ، خون میں چربی کا تناسب، بلڈ پریشر اورکولیسٹرول کم کر کے انسولین کی حسّاسیت بڑھاتے ہیں۔ اناج، دالیں، بیج، جئی، جَو، السی، پھل، سبزیاں اور چوکر سب خون میں خراب کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خوراک میں اضافی ریشہ، بلڈپریشر اورسوجن کی شکایت کم کر کے دل کی صحت کو تحفظ دیتا ہے۔
یاد رہے، اگرخون میں ہوموسسٹین کی سطح بلند ہو تو خون کی نالیوں کی اندرونی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، خون غیر معمولی طور پر جمنا شروع ہوجاتا ہے، جس کے باعث دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تو ہوموسسٹین کی سطح برقرار رکھنےکے لیے امائنوایسڈ اور میتھولین اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے لیے غذا میں وٹامن 6 ، وٹامن 12 اور فولک ایسڈ کی مقدار اچھی ہونی چاہیے، جس کے لیے متوازن غذا کا استعمال ضروری ہے۔
متعدد تحقیقات سےثابت ہوا ہے کہ کچھ وٹامنز، جیسا کہ وٹامن سی، ای اور B-Casotene دل کے امراض سے بچاؤ میں مفید ہیں، تو اس کے لیے پھلوں، سبزیوں کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ فائٹوکیمیکلز زیادہ تر نباتاتی ذرائع ہی سے حاصل ہوتے ہیں اور یہ کولیسٹرول جذب ہونے سے روکتے ہیں۔ میوہ جات، چکّی کا آٹا، دالیں، بیج اور کچھ سبزیوں سے نکلے ہوئے تیل ان کی بہترین مثال ہیں۔
اِسی طرح چائے، پھل اور سبزیوں میں پانے جانے والے Floride بھی دل کے امراض کم کرتے ہیں۔ Mediereanean Diet،جواناج، پتّوں والی سبز سبزیوں، پھلوں، دالوں، بغیر نمک خشک میوہ جات، کم مرچ مسالے سے تیار مچھلی اور مرغی کے پروٹین پر مشتمل ہوتی ہے، امراضِ قلب کے خطرات کم کرتی ہے، یہاں تک کہ وزن کم کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔ دراصل ان میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس (Anti Oxidants) سےخون کی نالیوں کی سوزش کم کرنے، دل کو بہتر طور پر کام کرنےمیں مدد ملتی ہے۔
چیا سیڈز میں کئی ایسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں، جو دل کی دائمی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مفید ہیں۔ ان میں موجود (ALA)الفا، لینولینک کی وافر مقدار اور اومیگا3- فائدہ مند ہے۔ یہ دل میں جمنے والی چربی کم کرتے ہیں، خاص طور پر کولیسٹرول۔
نیز، دل کی دھڑکن منظّم، بلڈپریشر بہتر اور سوزش بھی کم کرتے ہیں۔ دن میں کم ازکم دو چمچ پانی کے ساتھ یا بغیر پانی کے استعمال کریں۔ اِسی طرح السی کے بیجوں (Flax Seeds) میں بھی کئی ایسے غذائی اجزاء پائےجاتے ہیں، جو دل کی شریانیں کھولتے ہیں۔ اِسی لیے انھیں ’’سُپر فوڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔
ان میں موجود Lignah، اومیگا3 فیٹی ایسڈ اور اببا معدنیات شامل ہیں، جو ازحد مفید ہیں۔ السی کے تیل میں تقریباً53 فی صد ( (ALS لافالینولینک ایسڈ موجود ہے، جس میں Oleic Acid پایا جاتا ہے اور یہ امراضِ قلب کےعلاج کے لیے نہایت سودمند ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ خون میں خراب کولیسٹرول اور VLDL کی سطح نمایاں طور پرکم کرسکتا ہے۔ اسے دن میں کم از کم دو چمچ تک استعمال کریں۔
(مضمون نگار، شعبہ ’’فوڈ اینڈ نیوٹریشن سائینسز‘‘ سے ایم ایس سی، ایم فِل ہیں اور اس وقت بطور کلینیکل ڈائی ٹیشن، ڈاؤ یونی ورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، اوجھا کیمپس، کراچی سے منسلک ہیں)