قارئین !یہ امر واقع ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے ایجنڈےکے تحت پاکستان میں موجود اپنی پراکسیز کو سرگرم کرکے بالخصوص بلوچستان اور خیبر پی کے میں دہشتگردی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کیلئے اسے افغان طالبان حکومت کی مکمل معاونت حاصل ہے۔ ان دہشتگرد فتنوں کی سرکوبی کیلئے ہماری سکیورٹی فورسز مختلف آپریشنز کے ذریعے سرگرمِ عمل ہیں اور اپنی جانیں تک نچھاور کر رہی ہیں۔ کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کے باہر مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے دوران دہشتگردی کی سفاکانہ کارروائی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں 15 پولیس اہلکار اور افسران نے ملک اور عوام کی حفاظت کا فریضہ ادا کرتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں جبکہ اس بم دھماکے سے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح ہو گئی کہ پاکستان کو درپیش دہشتگردی کا چیلنج کسی ایک علاقے یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، ریاستی استحکام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کا ہمہ گیر ایشو ہے۔ دہشتگردی کی اس کارروائی کے بعد پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے جس عزم و حوصلے سے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، وہ بلاشبہ پوری قوم کی جانب سے خراجِ تحسین کا متقاضی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 7حملہ آوروں کیخلاف کارروائی کی گئی اور کلیئرنس آپریشن میں6دہشتگرد مارے گئے جبکہ مختلف مراحل میں فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشتگردوں نے کارروائی کیلئے بھرپور تیاری کر رکھی تھی۔بلا شبہ یہ واقعہ ہمارے سکیورٹی نظام کیلئے بھی ایک چیلنج ہے۔ پولیس لائنز جیسی حساس تنصیبات کو دہشتگردوں کی رسائی سے محفوظ رکھنا، انٹلیجنس معلومات کے بروقت تبادلے کو یقینی بنانا، حساس مقامات پر حفاظتی حصار مزید مضبوط کرنا اور حملے کی صورت میں فوری ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانا بے شک وقت کی اہم ضرورت ہے چنانچہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دہشتگردوں کے قلع قمع کے علاوہ ان کے سہولت کاروں، مالی معاونین، اسلحہ و بارود کے ذرائع، ان کے باہمی روابط کے نیٹ ورکس اور منصوبہ سازوں تک پہنچنا بھی اس ضرورت کا حصہ ہے۔بھارتی سرپرستی میں سفاک دہشتگردوں کے عزائم کا اس سے ہی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ بیک وقت ملک کے مختلف علاقوں کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں چنانچہ کوہاٹ کے اس سانحہ کیساتھ ہی فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد بلوچستان میں سرگرم نظر آئے جن کیخلاف سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کر کے اس دہشتگرد فتنے کے 7دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ بے شک پاکستان تو اس امر کی مسلسل نشاندہی کرتا آیا ہے کہ ملک میں دہشتگردی کی بعض کارروائیوں کو بیرونی سرپرستی اور سہولت کاری حاصل ہے اور پاکستان اسی تناظر میں اپنے خلاف استعمال ہونیوالے ہر بیرونی نیٹ ورک اور سہولت کاری کو بے نقاب کرنے کیلئے سیاسی، سفارتی، انٹیلی جنس اور دیگر تمام ذرائع بروئے کار لا رہا ہے۔یقیناً خطے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال بھی پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہے اور افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے تو پاکستان اپنے تحفظات کا متعدد فورموں پر اظہار بھی کر چکا ہے، اس صورتحال میں پاکستان کیلئے اپنی سرحدی نگرانی، داخلی سلامتی اور انٹلیجنس تعاون کو مزید مؤثر بنانیکی ضرورت ہے۔ جب کسی ملک کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہو تو اس معاملے کو محض الزام تراشی تک محدود رکھنے کے بجائے سفارتی سطح پر مسلسل اور نتیجہ خیز بنیادوں پر اٹھایا جانا چاہئے۔ بے شک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے اہم محاذ قومی یکجہتی کا ہے۔ دشمن ہمیشہ معاشرے کی داخلی کمزوریوں، سیاسی اختلافات، لسانی و علاقائی حساس معاملات اور اداروں کے مابین عدم اعتماد کی فضا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے چنانچہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشتگردی کے مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کے مستقل مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ حکومت، اپوزیشن، پارلیمنٹ، صوبائی حکومتیں، سیاسی اور مذہبی قیادتیں، میڈیا اور سول سوسائٹی، غرض سب کو اس درپیش چیلنج کے مقابلے کیلئے اپنی اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اس صوبے کے پولیس اہلکاروں نے محدود وسائل کے باوجود دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ کوہاٹ کے شہدا اسی عظیم قربانی کا تازہ باب ہیںاور انکے اہل خانہ کو محض تعزیتی بیانات کی بجائے ریاست کی عملی سرپرستی، مناسب مالی معاونت، ان کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے تحفظ کی ضمانت بھی ملنی چاہئے۔ پاکستان کو آج دہشتگردی کے خلاف ایک ایسی جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس میں فوج اور پولیس کی کارروائی کیساتھ ساتھ سیاسی استحکام، مؤثر حکمرانی، سرحدی حفاظت کی موثر حکمتِ عملی، جدید انٹیلی جنس، سائبر نگرانی، دہشتگردوں کی مالی معاونت کی روک تھام اور عدالتی نظام کی مضبوطی بھی شامل ہے۔ ہمیں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں محض وقتی کامیابی کے بجائے مستقل امن کا ہدف پیش نظر رکھنا ہوگا۔ کوہاٹ کے شہدا کا خون ہم سے اس امر کا ہی متقاضی ہے کہ ہم دہشتگردی کیخلاف اپنے عزم کو کمزور نہ ہونے دیں۔ سکیورٹی فورسز تو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کا فریضہ ادا کر رہی ہیں چنانچہ قوم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کے بیانیے اور نفرت و تشدد کے راستے کو مسترد کر دے۔ آج ملک کی اندرونی کمزوریوں پر قابو پانے، اداروں کو مضبوط بنانے، قومی اتحاد مستحکم کرنے اور دہشتگردی کے ہر نیٹ ورک کو قانون کی گرفت میں لانے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور کوہاٹ کے شہدا ء کا خون قوم سے اسکا ہی متقاضی ہے جو اس ارضِ وطن کے استحکام اور محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔