• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوام متحدہ کے اجلاس کے دن نیویارک کی فضا میں ستمبر کی خنکی تھی۔ ہوا کے جھونکے مشرقی دریا کے کنارے واقع اقوام متحدہ کی عمارت تک پہنچ رہے تھے۔ باہر پرچم لہرا رہے تھے۔ اندر جنرل اسمبلی کے ہال میں مختلف ملکوں کے نمائندے اپنی نشستوں پر موجود تھے۔ سماعتی آلات، روشنیاں اور کیمرے مقرر کے مقام کی طرف متوجہ تھے۔ اسی عالمی ایوان میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کیلئے کھڑے ہوئے۔دنیا جنگوں، معاشی دباؤ اور بے اعتمادی سے گزر رہی ہے۔ ایسے وقت میں وزیراعظم نے صرف پاکستان کی مشکلات نہیں گنوائیں بلکہ امن کیلئے اس کا کردار بھی پیش کیا۔ خطاب کا مرکزی پیغام واضح تھا:مذاکرات کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے اور جائز حقوق نظرانداز کرکے پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔

پہلا نکتہ سفارت کاری تھا۔ وزیراعظم نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنےکیلئے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا۔ دونوں ملکوں کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانا اس خواہش کا اظہار تھا کہ مسائل جنگ کے بجائے بات چیت سے حل ہوں۔ ہتھیاروں کے شور میں مکالمے کی گنجائش پیدا کرنا ذمہ داری ہے۔دوسرا نکتہ سعودی عرب سے یکجہتی تھا۔ شہباز شریف نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی اور حرمین شریفین کی سلامتی کو پاکستان کیلئے سرخ لکیر قرار دیا۔ ان الفاظ میں دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلق اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی تھی۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔تیسرا نکتہ سمندری راستے تھے۔ وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رکھنے پر زور دیا۔ ان سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل وابستہ ہے۔ اگر انہیں تصادم کا مرکز بنا دیا جائے تو نقصان دور دراز ممالک کی معیشتوں اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی تک پہنچے گا۔چوتھا نکتہ بھارت کے ساتھ کشیدگی تھا۔ وزیراعظم نے گزشتہ سال کی فوجی محاذ آرائی میںپاکستان کے حقِ دفاع کا مؤقف دہرایا۔ ساتھ ہی کہا کہ دو ایٹمی پڑوسیوں کو دوبارہ جنگ کے دہانے تک پہنچنے سے بچانا ہوگا۔ اپنے دفاع کے ساتھ ذمہ دارانہ سفارت کاری بھی خطے کی ضرورت ہے۔

پانچواں نکتہ کشمیر تھا۔ شہباز شریف نے دنیا کو یاد دلایا کہ پاکستان کشمیری عوام کو نہیں بھولا۔ انہوں نے حقِ خودارادیت اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کا مطالبہ دہرایا۔ کشمیریوں کو پاکستان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا یقین دلایا۔ یہ مقدمہ اسی عالمی ایوان میں پیش ہونا چاہیے تھا۔چھٹا نکتہ سندھ طاس معاہدہ تھا۔ وزیراعظم نے بھارت کی طرف سے اسے یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کا مؤقف مسترد کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔ پانی کو سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنانا خطے کے امن کے لیے خطرناک ہوگا۔

ساتواں نکتہ فلسطین تھا۔ وزیراعظم نے فلسطینیوں کی تکالیف، بے دخلی اور جانی نقصان کا ذکر کیا۔ انہوں نے 1967ءسے پہلے کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرایا، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔ غزہ کے بچوں کو بھی دنیا کے دوسرے بچوں کی طرح سلامتی اور زندگی کا حق حاصل ہے۔آٹھواں نکتہ دہشت گردی اور افغانستان تھا۔ شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی اور بھاری معاشی نقصان کا حوالہ دیا۔

انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکیں، اور افغان عوام، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں، کے بنیادی حقوق کا احترام کریں۔نواں نکتہ معیشت اور موسمیاتی انصاف تھا۔ وزیراعظم نے زراعت، صنعت، معدنی وسائل، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کی تربیت کی بات کی۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی معاونت اور قرضوں میں سہولت مانگی۔ پاکستان عالمی آلودگی میں کم حصہ ڈالتا ہے لیکن موسمیاتی نقصانات برداشت کرتا ہے۔ امیر ممالک کو اپنے مالی وعدے پورے کرنے چاہئیں۔

دسواں نکتہ اقوام متحدہ کی اصلاحات اور اسلاموفوبیا تھا۔ شہباز شریف نے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور امتیاز پر تشویش ظاہر کی اور سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ اور جواب دہ بنانے پر زور دیا۔ عالمی اداروں پر اعتماد تبھی بڑھے گا جب تمام قومیں محسوس کریں گی کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں شہباز شریف کو ایک بہترین شخصیت قرار دیا۔ ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوانے میں ان کے کردار کو لاکھوں جانیں بچانے کا سبب کہا تھا۔ نیویارک میں وزیراعظم کی مصروفیات کے دوران رانا مشہود احمد خان کی موجودگی بھی قابلِ ذکر تھی۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی کمی محسوس ہوئی۔ سیکرٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل سے میری ماضی میں کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ وہ ذہین اور معاملہ فہم افسر ہیں۔جاپان میں ان کی خدمات کی اچھی یادیں آج بھی میرے ساتھ ہیں۔

ایک طرف وزیراعظم اقوام متحدہ میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کر رہے تھے، دوسری طرف تحریکِ انصاف اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاری میں مصروف تھی۔ احتجاج سیاسی حق ہے، مگر شہری زندگی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔ خیبر پختونخوا، جہاں تحریکِ انصاف حکمران ہے، دہشت گردی اور روزگار کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے نتائج اور بدعنوانی کے الزامات پر بھی جواب دہی ہونی چاہیے۔ میری رائے میں صوبائی قیادت کو دارالحکومت کی طرف مارچ پر توانائی لگانے کے بجائے عوام کو سلامتی، ملازمتیں اور مؤثر حکمرانی دینی چاہیے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، صوبے کے عوام کی ضرورتیں مزید انتظار نہیں کر سکتیں۔

رات گئے نیویارک میں ہلکی بارش ہوئی تو شہر کی روشنیاں بھیگی سڑکوں پر جھلملانے لگیں۔ دن میں اقوام متحدہ کے ایوان سے پاکستان کا پیغام دنیا تک پہنچ چکا تھا: ہم امن کے لیے کردار ادا کریں گے، کشمیر کو نہیں بھولیں گے، اپنے پانی اور سلامتی کا دفاع کریں گے اور دوستوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ اس آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بیرونِ ملک سفارتی محنت کے ساتھ وطن میں استحکام بھی ضروری ہے۔

تازہ ترین