تاریخ کبھی یک طرفہ نہیں ہوتی۔ اسکے صفحات پر دوستی بھی لکھی جاتی ہے، قربانی بھی، احسان بھی اور کبھی احسان فراموشی بھی۔ پاکستان اور افغانستان کی داستان بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان ہے جس نے گزشتہ نصف صدی میں افغان عوام کیلئے اپنے دروازے کھولے، لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، افغانستان کے مشکل ترین ادوار میں اس کا ساتھ دیا اور اپنی معیشت، سلامتی اور سماجی ڈھانچے پر اس مہمان نوازی کا بوجھ برداشت کیا؛ دوسری طرف آج وہی پاکستان افغانستان کی سرزمین سے ہونیوالی دہشت گردی کیخلاف کارروائی پر مجبور ہے۔اس تلخ صورت حال کو سمجھنے کیلئے تاریخ کے چند اوراق پلٹنا ضروری ہیں۔
12 نومبر 1893ء کو برطانوی ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ڈیورنڈ لائن وجود میں آئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد افغانستان نے اس سرحد کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، جبکہ پاکستان اسے اپنی بین الاقوامی سرحد قرار دیتا ہے۔ یوں 1947ء سے یہ معاملہ پاک افغان تعلقات میں ایک مستقل حساس مسئلہ بنا ہوا ہے۔پھر 1979ء آیا۔ سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں۔ UNHCR کے مطابق 1980ء کی دہائی میں پاکستان نے 33 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔
اگست 2026ء کے اختتام پر بھی پاکستان میں 735,891 رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود تھے، جبکہ 2002ء سے اب تک تقریباً 47.65لاکھ افغانوں کی رضاکارانہ واپسی میں UNHCR نے سہولت فراہم کی ہے۔
پاکستان نے صرف مہاجرین کی میزبانی ہی نہیں کی بلکہ افغانستان کے سیاسی بحرانوں میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ 1990ء کی دہائی میں طالبان کے ابھرنے کے بعد 1997ء میں پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا۔
مگر تاریخ کا اگلا باب پاکستان کے لیے انتہائی کربناک تھا۔2001ء کے بعد دہشت گردی نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تحریک طالبان پاکستان نے ریاست، فوج، پولیس اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ پاکستان بارہا کابل سے مطالبہ کرتا رہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ مگر سرحدی علاقوں میں دراندازی اور دہشت گرد حملوں کا سلسلہ ختم نہ ہوسکا۔
اس جنگ نے پاکستان سے بھاری قیمت وصول کی۔ بازار، مساجد، اسکول، پولیس اسٹیشن اور فوجی تنصیبات دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے۔ مگر 16دسمبر 2014ء کا سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور پوری قوم کے دل پر نقش ہوگیا۔ اس حملے میں 149افراد، جن میں 132بچے شامل تھے، شہید ہوئے۔
پھر وقت بدلا۔ 2021ء میں طالبان دوبارہ کابل پر قابض ہوئے اور ساتھ ہی TTP کی سرگرمیوں، سرحدی حملوں اور باہمی الزام تراشی نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید کشیدہ کردیا۔پاکستان کا مؤقف مسلسل یہی رہا کہ دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں پناہ گاہیں میسر ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ افغان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی۔ نتیجتاً سفارتی احتجاج، مذاکرات اور رابطوں کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوسکا۔اور جب سفارت کاری مطلوبہ نتیجہ نہ دے سکی تو پاکستان نے اپنی سلامتی کے دفاع کیلئے عسکری طاقت استعمال کی۔ستمبر 2026ء کی حالیہ کارروائی اسی طویل کشمکش کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے اندر بعض اہداف کو نشانہ بنایا
موجودہ بحران میں پاکستان کی عسکری قیادت کے سامنے بھی ایک مشکل امتحان ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک تجربہ کار عسکری کمانڈر کی حیثیت سے ایسے ماحول میں فوج کی قیادت کر رہے ہیں جہاں مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں کے سکیورٹی چیلنجز، دہشت گردی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔
پاکستان نے ماضی میں بھی اپنی سلامتی کے دفاع میں سخت فیصلے کیے ہیں۔ بھارت کے ساتھ جنگیں ہوں، دہشت گردی کے خلاف طویل فوجی آپریشنز ہوں یا بلوچستان میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں، ریاست نے مختلف محاذوں پر چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ موجودہ افغان بحران بھی اسی قومی سلامتی کے وسیع تناظر کا حصہ ہے۔
لیکن طاقت کے استعمال کا مقصد جنگ کو طول دینا نہیں بلکہ خطرے کو روکنا ہونا چاہیے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ فوجی دفاع کے ساتھ سفارتی محاذ بھی فعال رکھے۔ چین، ترکی، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے ذریعے مذاکرات اور ثالثی کے امکانات کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ خطے کو ایسی طویل کشیدگی سے بچانا سب کی ذمہ داری ہے جس کا فائدہ بالآخر دہشت گرد تنظیموں کو پہنچ سکتا ہے۔یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان افغان عوام کا دشمن نہیں۔ جس ملک نے 33 لاکھ تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی، جس نے چار دہائیوں تک ان کے لیے اپنی معیشت اور معاشرت کے دروازے کھلے رکھے، اس ملک کے عوام کو دشمن قرار دینا تاریخ سے ناانصافی ہوگی۔لیکن دوستی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین، اپنے شہریوں اور اپنی خودمختاری کو مسلسل خطرے میں رکھے۔پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنی سلامتی کی قیمت پر نہیں۔
کابل کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال کرنیوالے عناصر کے بارے میں ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتا ہے یا ماضی کی تلخیوں کو مستقبل کی کشیدگی میں تبدیل ہونے دیتا ہے۔پاکستان کیلئے بھی راستہ واضح ہے: سرحد محفوظ، فوج چوکس، دہشت گردی کے خلاف کارروائی بلاامتیاز، سفارت کاری متحرک اور قومی مفاد مقدم۔افغانستان کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کی صلاحیت یا ارادے سے محروم ہے۔ لیکن پاکستان کو بھی یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کی طاقت کا مقصد کسی ملک کو فتح کرنا نہیں بلکہ اپنے شہریوں کو محفوظ بنانا ہے۔
تاریخ کا فیصلہ میدانِ جنگ سے زیادہ دور اندیشی کرتی ہے۔ آج پاکستان کے سامنے سب سے بڑا ہدف افغانستان سے جنگ نہیں، بلکہ افغانستان سے آنے والی دہشت گردی کا خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔پاکستان دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتا ہے، امن کی میز پر بیٹھ سکتا ہے، افغانستان کے عوام کیلئے دل کھول سکتا ہے۔ لیکن جب بات اس کی سرحد، خودمختاری اور شہریوں کی جان کی ہو تو پاکستان کو کمزور سمجھنا تاریخ کی ایک اور بڑی غلطی ہوگی۔