• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملائیشیا نے بچوں سمیت تقریباً 1500 میانمار شہریوں کو واپس بھیج دیا

---تصویر بشکریہ رائٹرز
---تصویر بشکریہ رائٹرز

ملائیشیا نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے اعتراضات کے باوجود بچوں سمیت تقریباً 1500 میانمار شہریوں کو واپس بھیج دیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق یہ اقدام مہاجرین کی واپسی کے پروگرام کے تحت کیا گیا، جبکہ ملائیشیا اور میانمار کے درمیان طے پانے والے منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 5 ہزار افراد کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

ملائیشین حکام کا کہنا ہے کہ واپسی کا عمل مکمل طور پر رضاکارانہ ہے، تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار میں جاری خانہ جنگی کے باعث اس پروگرام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق واپس بھیجے جانے والوں میں ایک ہزار 370 مرد، 79 خواتین، 20 لڑکے اور 7 لڑکیاں شامل ہیں، جن کی عمریں 8 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔

ملائیشیا کی وزارت داخلہ کے مطابق ان افراد کی واپسی کے لیے میانمار کی حکومت نے شناخت کی تھی، جبکہ مزید افراد کو شناخت، دستاویزات اور تصدیقی مراحل مکمل ہونے کے بعد واپس بھیجا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ میانمار میں موجودہ حالات مہاجرین کی محفوظ اور پائیدار واپسی کے لیے سازگار نہیں۔

میانمار میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے اور فوج مختلف مسلح گروہوں کے خلاف متعدد محاذوں پر لڑ رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید