امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
امریکا ایران حالیہ مذاکرات سے واقف 3 ذرائع نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی پیش رفت کرانے کے لیے قطری ثالثوں کی کوششوں میں بہت کم پیش رفت ہوئی، دونوں فریق اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ قطری حکام مذاکرات میں پیش رفت کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے، امریکا اور ایران دونوں کے رویے سے قطری حکام کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے، قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں عباس عراقچی اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔
ایکسیوس کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں قطر کے 2 صفحات پر مشتمل سمجھوتے کی تجویز پر بات ہوئی، قطر کی تجویز میں ایران کا امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ قطر کی تجویز میں امریکا سے ایران کے جوہری معاملات پر رعایت کا مطالبہ شامل تھا۔
عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد قطری ثالث واشنگٹن میں جیرڈ کشنر اور امریکی حکام سے بھی ملے، قطری ثالث سے ملاقات کے ایک حصے میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک ہوئے، تاہم مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق معاملہ تعطل کا شکار ہے، ایرانی ایسے مطالبات کر رہے ہیں جنہیں امریکا قبول نہیں کر سکتا، امریکا سمجھتا ہے کہ وہ جیت رہا ہے، اس لیے اسے سمجھوتہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
ایکسیوس کے مطابق پاکستان اور مصر سمیت دیگر علاقائی ثالثوں نے بھی ایران پر جوہری معاملات میں رعایت دینے پر زور دیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اس معاملے پر تب ہی غور کرے گا جب امریکا جون کے مفاہمتی سمجھوتے پر واپس آئے گا۔