امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے دوران گوگل کے سی ای او سندر پچائی کو ’مونسٹر‘ قرار دے دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ لوگ کون ہیں، یہ دنیا کے سب سے بڑے اور بااثر لوگ ہیں۔
اُنہوں نے سندر پچائی کو متعارف کرواتے ہوئے ازرہِ مزاح کہا کہ یہ شخص سندر پچائی ایک ’مونسٹر‘ ہے اور کوئی انہیں جانتا بھی نہیں ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ کتنی شاندار زندگی ہے کہ آپ اتنے بڑے ’مونسٹر‘ ہوں اور آپ کو کسی طرح کے سیاسی یا عوامی ہنگاموں سے بھی نہ گزرنا پڑے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر معمولی تبصرے پر وہاں موجود افراد نے قہقہے لگائے۔
اُنہوں نے’مونسٹر‘ کا لفظ تنقید کرنے کے لیے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں بے پناہ اثر و رسوخ اور کامیابی کے باوجود بھی سندر پچائی کے لائم لائٹ سے دور سادہ زندگی گزارنے پر تعریف کرنے کے لیے استعمال کیا۔
سندر پچائی نے بھی صورتِ حال کو مزاحیہ انداز میں لیتے ہوئے جواب دیا کہ انہیں اُمید ہے کہ’میں مونسٹر ہوں‘ سے بہتر ٹیگ لائن ملے گی، جس پر شرکاء دوبارہ مسکرا دیے۔
یہ گفتگو وائٹ ہاؤس میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک اجلاس کے بعد ہوئی، جہاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے اے آئی کی حفاظت اور نگرانی کے لیے رضا کارانہ معاہدے پر بھی بات کی۔