عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے حالات مزید خراب ہوں گے۔
پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو میں ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ غیر جمہوری عمل ہوگا، ایسے اقدام سے صوبے کے حالات مزید خراب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ غیر جمہوری عمل ہوگا۔ ایمرجنسی کے نام پر عوام کے بنیادی، آئینی اور جمہوری حقوق سلب نہیں کیے جاسکتے۔
اے این پی سربراہ نے خیبر پختونخوا پر حکمران ٹولے کو مسلط کرنے والوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کو اس صورتحال تک پہنچانے والوں اور پالیسیوں کا احتساب ہونا چاہیے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ سزا ان کو ملنی چاہیے، جنہوں نے 13 سال سے پختونخوا پر یہ ٹولہ مسلط کیا ہے۔ ذمے داری ایک دوسرے پر ڈال کر صوبے کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ عوام کے تحفظ میں ناکامی پر کسی ایک فریق کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ گزشتہ انتخابات میں دھاندلی صرف خیبر پختونخوا نہیں پورے ملک میں ہوئی۔