• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کوئی بھی نیکی کا کا م کرتے ہوئے دل یہ کیوں چاہتاہے کہ اپنی اس نیکی کو لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے ۔ ہو سکے تو وڈیو یا تصاویر بنا کر اپ لوڈ کر دی جائیں ۔ اس لیے کہ آپ کے اندر ایک خونخوار درندہ رہتاہے ، جسے نفس کہا جاتا ہے ۔اس کے اندر کوئی اچھی عادت نہیں ہوتی ۔ لوگ جب اس کی تعریف کریں تو اسے بے حد و حساب لطف محسوس ہوتاہے ۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جسٹس ثاقب نثار اور جنرل راحیل شریف شایدیہی لذت کشید کرنے کے عادی تھے ۔ کیمرے اور پذیرائی کی خواہش انسان کو نیم دیوانہ کر دیتی اور ہر لمحہ وہ بڑھک مارتا پھرتا ہے ۔ نفس کیسی خوفناک چیز ہے ۔بلھے شاہ نے کہا تھا: 

جا جا وَڑدا مسجداں مندراں اندر

کدی مَن اپنے وچ وَڑیا ای نہیں

بلھے شاہ سمیت صوفی شعرا مسجد اور مندر کو ایک ترازو میں کیوں تولتے رہے ۔ کہاں بتوں کی پوجا اور کہاں خدائے واحد کی ۔ بلھے شاہ کی شاعری کا لب لباب یہ ہے کہ جب خالق کی پہچان ہی نہیں تو مسلمان اور ہندو میں کوئی فرق نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری عمر کسی ایک عقیدےکی اندھی تقلید اور باقی عقائد کی اندھی مخالفت میں گزر جاتی ہے ۔ کیا ہمارےہاں ایک دوسرے کی تکفیر کا عمل جاری نہیں رہتا؟

مسلمان کائنات میں خدا کی نشانیاں نہیں دیکھتے اور وہ علم حاصل نہیں کرتے ، جس سے انہیں حقیقی ایمان حاصل ہو ۔قرآن میں سینکڑوںمقامات پر غور و فکر کی تلقین کی گئی۔ غور وفکر مگر مشکل ہے ، عبادت آسان ۔

سِر تے ٹوپی تے نیت کھوٹی

لینا کی سِر ٹوپی دَھر کے؟

تسبیح پھِری پر دِل نہ پھِریا

لینا کی تسبیح ہتھ پَھڑ کے

چلِے کیتے پر رب نہ ملیا

لینا کی چِلیاں وِچ وَڑھ کے

بُلھے شاہ جاگ بِنا دُدھ نہیںجمدا

پانویں لال ہووے کڑھ کڑھ کے

خدا کا ایک اعلان بے حد حیرت انگیز ہے اور وہ یہ کہ نیت ٹھیک نہ ہو تو کسی عمل کا کوئی صلہ نہیں ۔ اس دنیا میں توہر شخص دوسرے سے اطاعت چاہتا ہے ،پیسہ چاہتا ہے اخلاص نہیں ۔ دفاتر میں ہر افسر کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ماتحت دل میں اس کے خلاف رنجش رکھتا ہے ۔ آخر میں مگر کام کو تولا جاتا ہے ، جذبات یا نیت نہیں ۔ میاں بیوی ساری زندگی ایک دوسرے کے خلاف رنجش پالتے مگر مجبوراً اکھٹے رہتے ہیں ۔ اس دنیا میں کسی شخص کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس کیلئےکام کرنیوالا دل میں اس کیلئے کیا جذبات رکھتا ہے ۔ واحد خدا ہے ، جو کہتاہے کہ نیت اگر میرے لیے خالص نہ ہوگی تو کوئی جزا نہیں ۔ انسان اس تنبیہ سے متنفر ہو سکتے ہیں ، خدا کو اس کی کوئی پروا نہیں ۔اس دنیا میں واحد خدا ہے ، جو اخلاص اور نیت کو تولتاہے ۔ باقی سب مال اور کام کے طلب گار ۔

صحیح مسلم حدیث 3518بتاتی ہے: قیامت کے دن سب سے پہلے تین افراد کا فیصلہ کیا جائے گا۔ 1۔ جس آدمی کو شہید کیا گیا، اسے لایا جائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا عمل کر کے لایا ؟ وہ کہے گا: میں تیرے راستے میں شہید ہوگیا۔ اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا: جھوٹ، تو نے اس لئے جہاد کیا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے اور دنیا نے تجھے بہادر کہہ دیا۔ اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔یہی سب کچھ ایک ریا کار عالم کے ساتھ ہوگا۔ ایک مال خرچ کرنے والا کہے گا: تیری راہ میں ، میں خرچ کرتا رہا۔ اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا: جھوٹ ۔ تو سخی کہلوانا چاہتا تھا اور وہ تو کہہ دیا گیا ۔ وہ چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔قرآن میں لکھا ہے : بے شک اللّٰہ کو پسند نہیں آتا کوئی اِترانے والا ، بڑائی مارنے والا...اور وہ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے اللّٰہ پر اور روزِ قیامت پر اور جس کا دوست شیطان ہو تو وہ کتنا برا ساتھی ہے ۔ النسا 36-38

لب لباب یہ ہے کہ جو نیکی آپ نے لوگوں کو دکھانے اور نیک کہلوا کر اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے کی، اس سے لوگ تو آپ کی تعریف کریں گے لیکن روزِ حشر صلے کی آپ توقع نہ رکھیں ۔ اب بہت سے لوگ کہیں گے کہ ہم تو اس لیے اپ لوڈ کرتے ہیں کہ ہمیں دیکھ کر دوسروں کو بھی توفیق ہو۔ اللّٰہ تو کہتا ہے کہ خفیہ اور علانیہ دونوں طرح سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے ۔ ہر انسان کو مگر اپنے اندر جھانک کر دیکھنا ہے کہ وہ کوئی نیکی کیوں کر رہا ہے ۔خلقِ خدا کی پذیرائی کیلئے یا خدا کیلئے ۔ کوئی نیکی کرتے ہوئے دل ہی دل میں ایک مرتبہ سوچیں کہ اگر میں اپنی اس نیکی کو سوشل میڈیا پہ پوسٹ نہ کروں تو کیا حرج ہے ۔ اس پر اگروہ نیکی کرنے کی خواہش ہی مر جائے تو سمجھ جائیں کہ دشمن آپ کے دل و دماغ کے اندر نقب لگا چکا ۔وہ دشمن جو آپ کے خون میں دوڑتا ہے ۔بلھے شاہ ہی نے کہا تھا:میری بُکل دے وچ چور   

سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی

حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

تازہ ترین