• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومیں اپنی تاریخ صرف یاد رکھنے کیلئے نہیںبلکہ اپنی غلطیوں سے بچنے کیلئےپڑھتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جنہیں جتنا سمجھا جائے، اتنا ہی موجودہ حالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ون یونٹ کا قیام، مشرقی پاکستان کا بحران اور پھر سقوطِ ڈھاکا ایسے ہی واقعات ہیں جنکے اثرات آج بھی ہماری سیاست، وفاقی نظام اور صوبائی تعلقات میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔1955ء میں مغربی پاکستان کے چار صوبوں، سندھ، پنجاب، سرحد اور بلوچستان کو ملا کر ایک ہی صوبہ بنا دیا گیا جسے ون یونٹ کہا گیا۔ اسکا بنیادی مقصد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی برابری قائم کرنا تھا، مگر اس انتظام نے مختلف صوبوں اور قومیتوں میں یہ احساس بھی پیدا کیا کہ انکی الگ شناخت اور سیاسی اختیار محدود کیا جا رہا ہے۔ ون یونٹ تقریباً پندرہ برس قائم رہا اور 1970ء میں اسے ختم کرکے صوبوں کو دوبارہ بحال کیا گیا۔

ون یونٹ کے دور میں سندھ سمیت مغربی پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی اس نظام کے خلاف سیاسی مزاحمت ہوئی۔ مسئلہ صرف انتظامی حدود کا نہیں تھا۔ اصل سوال شناخت، اختیارات، وسائل اور سیاسی نمائندگی کا تھا۔پھر 1971ء آیا، اور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ پیش آیا۔ سقوطِ ڈھاکا کو صرف ایک جنگی شکست کہہ دینا شاید تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ یہ سیاسی، آئینی، معاشی، انتظامی اور عسکری عوامل کے ایک طویل سلسلے کا نتیجہ تھا۔ سب سے بڑا سبق یہی تھا کہ ملک صرف طاقت سے متحد نہیں رہتے۔ انہیں انصاف، نمائندگی، سیاسی شمولیت اور باہمی اعتماد بھی درکار ہوتا ہے۔آج پچپن برس بعد پاکستان ایک بار پھر کئی پیچیدہ مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ سیاسی تقسیم گہری ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، مہنگائی اور توانائی کی قیمتیں عام آدمی کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، جبکہ سیکورٹی کے مسائل بھی موجود ہیں۔ ستمبر 2026ء میں سیاسی کشیدگی کے باعث اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر سیکورٹی اقدامات اور احتجاجی سرگرمیوں نے ایک مرتبہ پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ سیاسی اختلاف اگر مسلسل تصادم میں تبدیل ہو جائے تو ریاستی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے۔معاشی میدان میں بھی صورتحال مکمل طور پر بے فکری کی متقاضی نہیں۔ اگست 2026ء میں مہنگائی 11.15 فیصد تک پہنچنے کی نشاندہی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے کی، جبکہ خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں کو اہم دباؤ کے عوامل قرار دیا گیا۔ایسے حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے کیا سیکھ رہے ہیں؟آج بھی پاکستان میں صوبائی حقوق، وسائل کی تقسیم، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث جاری ہے۔ بعض حلقے بڑے صوبوں کو انتظامی مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں اور نئے صوبوں کو بہتر حکمرانی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے حلقے سمجھتے ہیں کہ صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حالیہ بحث میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نئے صوبے بننے کے باوجود اگر ادارے کمزور، احتساب محدود اور اختیارات مرکز میں مرتکز رہیں تو محض انتظامی تقسیم بنیادی مسائل ختم نہیں کرتی۔ سوال یہ ہےکہ کیا ہم اختلاف کو طاقت سے دبانا چاہتے ہیں یا دلیل، آئین اور سیاسی مکالمے سے حل کرنا چاہتے ہیں؟پاکستان کی خوبصورتی اسکے مختلف صوبوں، زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں میں ہے۔ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان صرف انتظامی نقشے پر بنے ہوئے نام نہیں بلکہ اپنی مخصوص تاریخی اور ثقافتی شناخت رکھتے ہیں۔ وفاق کی مضبوطی کا تقاضا یہ نہیں کہ ان شناختوں کو کمزور کیا جائے، بلکہ انہیں آئینی دائرے میں عزت، اختیار اور مساوی مواقع دیے جائیں۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ صوبوں کے مسائل حقیقی ہیں۔ کراچی کے شہری مسائل ہوں، سندھ کے پانی اور زراعت کے معاملات، بلوچستان کی محرومی، خیبر پختونخوا کی سیکورٹی اور معاشی مشکلات یا پنجاب کے آبادی اور وسائل سے متعلق مسائل،ہر مسئلے کا سیاسی اور انتظامی حل ضروری ہے۔لیکن حل کا راستہ ایسا ہونا چاہیے جو فاصلے کم کرے، اعتماد پیدا کرے اور وفاق کو مضبوط کرے۔ اگر کسی صوبے یا علاقے میں احساسِ محرومی ہے تو اسے نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی انتظامی اصلاح ضروری ہے تو اسے بھی صرف جذباتی نعروں کے ذریعے رد نہیں کیا جا سکتا۔ اصل ضرورت وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، آئینی طریقہ کار اور عوامی رضامندی کی ہے۔کوئی شک نہیں کہ 18ویں ترمیم نے صوبائی خودمختاری کو مزید مضبوط کیا اور آئین کے آرٹیکل 140-A کے ذریعے مقامی حکومتوں کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا اصول بھی واضح کیا۔ مگر اصل سوال آج بھی عملدرآمد کا ہے۔

اگر ہم واقعی پاکستان کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف وفاق اور صوبوں کے درمیان طاقت کی تقسیم پر نہیں بلکہ عوام کو اختیار دینے پر توجہ دینا ہوگی۔ مضبوط بلدیاتی ادارے، شفاف مالیاتی نظام، آزاد اور مؤثر ادارے، قانون کی حکمرانی، سیاسی برداشت اور مسلسل جمہوری عمل کسی بھی وفاق کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ آج کے حالات ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ سیاسی تقسیم، معاشی مشکلات اور اداروں پر عوام کے اعتماد میں کمی کو معمولی مسئلہ سمجھنا خطرناک ہوگا۔پاکستان کو آج ایک دوسرے سے لڑنے سے زیادہ ایک دوسرے کو سننے کی ضرورت ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی کمزوری نہیں، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا ضرور ریاست کو کمزور کرتا ہے۔تاریخ کا مقصد ماضی کو بار بار دہرانا نہیں بلکہ مستقبل کو بہتر بنانا ہے۔ ون یونٹ ختم ہو گیا، مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو گیا، لیکن ان واقعات کے اسباق آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ان اسباق کو صرف کتابوں میں پڑھتے ہیں یا اپنی سیاست، حکمرانی اور قومی رویوں میں بھی جگہ دیتے ہیں۔پاکستان کی مضبوطی اس میں نہیں کہ اختلاف ختم کر دیا جائے۔ اصل مضبوطی اس میں ہے کہ اختلاف کے باوجود سب کو آئین، انصاف اور جمہوری عمل کے تحت ساتھ لے کر چلا جائے۔

تازہ ترین