گزشتہ ایک ہفتے سے میں اپنی لائبریری کی کتابوں کی Catalogingکروارہی تھی۔ کبھی خوش کبھی اداس ہورہی تھی کہ حسن عسکری اور شاہد احمد دہلوی کی کتابوں کو دیکھ کر میرے سامنے ایسے ایسے منظر آرہے تھے جو کسی نے لکھے بھی نہیں۔ وہ زمانہ لکھنے کا (میرے لئے) نہیں تھا کہ میں تو ان لوگوں کی گفتگو کبھی سلیم احمد کے گھر چارپائیوں پہ بیٹھ کر سنتی تھی۔ اب میرے مطالعے کے ساتھ میری گفتگو میں کبھی بہت پہلے نئے لفظ سامنے آئے ، ان حروف کی تاریخی حیثیت ڈھونڈنے بیٹھتی تو کبھی ارسطو کے زمانے میں کبھی ابن خلدون کے زمانے میں نکل جاتی۔
اسی دوران مزدک کی کہانی میرے سامنے آگئی یہ نام سنا ہی نہیں تھا۔ مگر یاد آیا ، فہمیدہ ریاض نے ایک ناولِٹ لکھا جس کا عنوان تھا’’ فلسفہ فراموشی‘‘ مزدک کی کہانی کی تفصیل بتاتے ہوئے فہمیدہ نے لکھا تھا کہ مزدک کی کہانی چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی، یعنی ورودِ اسلام سے پہلے ایرانی اور رومن سلطنتوں کے ٹکراؤ میں گندھی ہے۔ میں نے اتنا سا دیباچہ پڑھا تھا کہ ٹرمپ اور ایران کی موجودہ دلیر ایرانی حکومت اور آبنائے ہرمز کا مسئلہ سامنے آکے کھڑا ہوگیا۔ میں نے اس وقت اس زمانے کی داستان کی طرف توجہ مبذول کی جب تاریخ، ماقبل تاریخ کے بطن سے تازہ تازہ پیدا ہوئی تھی اور مذاہب ارتقائی منازل میں تھے یہ مجھے بہت اچھا لگا جب فہمیدہ نے لکھا کہ یہ تاریخ بلوچستان سے دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہاں ایرانی سلطنت کا پرچم لہراتا تھا۔
ابھی بھی ایرانی قوم کا حوصلہ بے مثل ہے۔ ہمارے فلسطینیوں نے ڈھائی سال تک یہودیوں کے ظالمانہ حملے سہے کہ آج جب وہ خود کھلے میدان میں ٹرالر چلاتے ہیں، انسانی ہڈیاں زمین میں دبی دکھائی دیتی ہیں۔ اب شیلف سے کتاب اٹھاتی ہوں جو بہت ضخیم ہے یہ کتاب ہے دنیا کی سو عظیم کتابیں۔ القرآن سے شروع کر کے، سو عالمی مفکرین، دانشور اور فلسفی جن کو بلکہ بہت سوں کو آپ نے پڑھا بھی ہوگا۔ اُسے قندِ مکرر سمجھیں کہ آج جب کتاب خرید کر پڑھنے والے روز بروز کم ہورہے ہیں کہ نت نئی تحقیقات جو دستاویزی فلموں اور اے آئی کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ تو نہیں کرتے۔ بگاڑ پھیلاتے ہیں۔ خبر ہے کہ لوگ مغربی دنیا میں تو مستقل کہہ رہے ہیں کہ یہ اے آئی دنیا کو کھاجائےگی۔ مگر مجھے تو اپنے اس کتاب کو مرتب کرنے والی شخصیت سے آپ کی ملاقات کروانی ہے۔ ستار طاہر، نام سمجھ گئے ہوں گے یہ کتاب 1986ء میں پہلی دفعہ شائع ہوئی۔ ستار طاہر، بہت محنتی آدمی تھے۔
اول اول تو انہوں نے، تراجم کے ذریعے گھر کا چولھا روشن کیا اور پھر زندگی خرچ کر کے ہماری یادوں میں رہ گئے۔ وہ دراصل قاسم محمود کی طرح عمدہ سے عمدہ کتاب تلاش کرکے، ترجمہ کرکے اور اس زمانے کے مشہور کاروان ادب لاہور سے شائع کرواتے، یہ کتاب سینکڑوں کتابوں کے ڈھیر میں سے اُچک لی۔ بیکار دوپہروں میں اس کتاب کا سہیل پنا بڑا دلربا لگا۔
اس ضخیم کتاب کے ساتھ چپکی ہوئی ایک اور بھولے ہوئے شخص و شاعر صلاح الدین پرویز کی تخلیقی وزن کی غماز کتاب’’سارے دن کا تھکا ہوا پرش‘‘۔ کتاب کے اوپر منہ رکھ کر سوچ میں اسکا ادب اسکا دولت مند ہونے کا غرور اور ہر شہر کی خواتین کو زبردستی ساڑیوں کا تحفے دینا اور شاعری، ناول ، گیت ، خطوں کے انداز میں یہ کتاب۔اسکی پہلی کتاب ’’نمرتا‘‘ اردو، ہندی اور انگلش میں خوبصورت ناول تھا۔ صلاح الدین پرویز، بڑا سخت مسلمان تھا۔ نعتیہ نظمیں بھی لکھیں اور بتایا کہ پروردگار نے آدم کو پیدا کیا اور اُسے آنکھ دی۔ اس لئے آدم کو انسان کہتے ہیں۔آدم سے عالم کو انگشتری نگینہ ملا۔ اماں جو شرِ انسانیت کی کونپل پھوٹی تو تھکے ہارے پرش کی داستان شروع ہوئی۔صلاح الدین پرویز نے سوچا کہ جب آدم میں روح پھونکی جارہی تھی۔ یہ محبت تھی جو لکھنے والے کے قلب کا مرکز ہے۔ اسی طرح وہ زندگی کو اپنا امتحان اور آزمائش سمجھتا رہا۔ وہ لکھتے ہوئے بھی کہتا تھا، سنسار سورہا ہے۔ پروردگار جاگ رہا ہے اور صلاح الدین پرویز اپنی داستان سنا رہا ہے۔ ا س کو محسوس ہوتا تھا کہ مشاہدہ اس کی آنکھوں کا نور ہے اور تجربہ اس کے قلب کا زخم ہے۔
صلاح الدین پرویز، کبھی عرب میں کبھی لندن تو کبھی امریکہ مگر اتنی تیزی سے لکھنے والا، کس تیزی میں اپنے رب کے حضور چلاگیا۔
ایک اور شخص جسے لکھنے کی بھی جلدی تھی۔ ترجمہ کرنے، کتاب چھپوانے اور ہم جیسے دوستوں کو ہر روز نئے نئے موضوعات دیتا اور ضد کرتا کہ بیٹھو لکھو، اُسے تنویر انجم بھی عزیز تھی اور عذرا عباس بھی میری آدھی سے زیادہ شاعری وہ انگلش میں سنوارتا رہا۔ مجھ سے دس سال چھوٹا تھا مگر سارے جہاں کی تخلیقات خود بھی ترجمہ کرتا، سندھی، انگلش اور ہمارے سامنے لاطینی، امریکی کہانیوں کے ترجمہ کرنے کی لت وہ سب ہم عمر لکھنے والوں کو لگا گیا۔ اور آج تک تمام نئے لکھنے والوں کی تحریروں میں مارکیز، بورخیس، یوسا، ماریا لاٹوے، لیوپولڈخونیز، جیسے سب لاطینی لکھنے والوں کی تصانیف کے ذریعے، سمجھاگیا کہ ادب آواز دیتا ہے کہ میرےزمانے کی آفتوں، مشقتوں، سیاسی بحرانوں اور بھوک جیسے موضوعات کو طلسماتی انداز میں لکھو کہ پڑھنے والے اپنے معاشرے کے آشوب کو کرداروں سے کہلوائیں۔ تاکہ عورتوں اور بچوں کے جنسی استحصال کو ختم کیا جاسکے۔ وہ جلدی میں تھا۔ دونوں بیٹوں کو لمز میں پڑھا یا ،شادیاں کیں اور ایک دن صبح بلڈپریشر آسمان تک اُسے لے گیا۔ وہ تھا ڈاکٹر آصف فرخی۔