ٹیلی وژن اسکرین پر ایک ایسا شخص بیٹھا تھا جو برسوں سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا ہے، جس نے مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا، جو صوبائی حکومت میں وزیرِ اطلاعات بھی رہا اور جس کا سیاسی سفر کسی ایک جلسے، کسی ایک ٹوئٹ یا کسی ایک عہدے کا محتاج نہیں۔ مگر آج وہ اپنے ہی لوگوں کے رویے پر اس قدر دل گرفتہ تھا کہ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ آنسو صرف شوکت یوسفزئی کے نہیں تھے۔ یہ دراصل اس سوال کے آنسو تھے کہ کیا کسی سیاسی جماعت میں اختلافِ رائے کی بھی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے؟ شوکت یوسفزئی نے 4 اکتوبر کے اسلام آباد مارچ کے بارے میں اپنی جماعت کی قیادت کو ایک رائے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مارچ کو مزید مؤخر کرنے پر غور ہونا چاہیے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ماضی کے احتجاجی مارچوں میں پارٹی کارکنوں نے مشکلات اٹھائیں، گرفتاریاں ہوئیں، جانی نقصان بھی ہوا، مگر سیاسی طور پر ان تجربات سے کیا حاصل ہوا، اس پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔ 29ستمبر کو انہوں نے قیادت کو خط بھی لکھا اور سکیورٹی صورت حال اور ایمرجنسی کے خدشے کو سامنے رکھتے ہوئے مارچ مؤخر کرنے کی تجویز دی۔ یہ رائے درست ہے یا غلط، اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن کیا صرف رائے رکھنے کی سزا غداری کا طعنہ ہے؟ تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے عمران خان سے لاتعلقی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کسی مخالف جماعت میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ موجودہ حالات میں ایک سیاسی فیصلے کے ممکنہ نتائج پر دوبارہ غور کیا جائے۔ اس کے جواب میں اگر کسی کو غدار، بزدل یا ’’بھاگنے والا‘‘ قرار دے دیا جائے تو پھر سیاسی جماعت اور ہجوم میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟
جیو نیوز کے پروگرام میں شوکت یوسفزئی نے خود کہا کہ انہیں ان الزامات سے شدید دکھ ہوا اور سوشل میڈیا پر ان کی وفاداری پر سوال اٹھائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا کے بعض کارکن پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یہاں اصل مسئلہ شوکت یوسفزئی نہیں، بلکہ وہ سیاسی کلچر ہے جس میں اختلاف کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔پی ٹی آئی کے اندر یہ مسئلہ نیا نہیں۔ جب بھی کوئی رہنما پارٹی کی مقبول لائن سے ذرا سا مختلف مؤقف اختیار کرتا ہے، سوشل میڈیا پر ایک مخصوص جارحانہ حلقہ اس کے خلاف مہم شروع کر دیتا ہے۔ مسئلہ اختلافِ رائے نہیں رہتا، مسئلہ شخصیت بن جاتا ہے۔ دلیل پیچھے چلی جاتی ہے اور الزام آگے آ جاتا ہے۔ اور پھر اس ماحول میں ہر شخص سوچتا ہے کہ اگر میں نے اپنی رائے دی تو میرے ساتھ کیا ہوگا؟ یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے خطرناک صورت حال ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود پی ٹی آئی کے اندر مکالمے اور مذاکرات کی آوازیں بارہا اٹھتی رہی ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان مسلسل سیاسی حل اور مذاکرات کی بات کرتے رہے ہیں۔ 25 ستمبر کو بھی انہوں نے حکومت سے بات چیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی کارکنوں اور حکومت کے درمیان تصادم نہیں ہونا چاہیے۔ جیل میں موجود شاہ محمود قریشی اور دوسرے سینئر رہنماؤں کی طرف سے بھی قومی مکالمے اور سیاسی مذاکرات کی بات سامنے آ چکی ہے۔ مارچ 2026 میں کوٹ لکھپت جیل سے جاری ایک خط میں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید نے قومی یکجہتی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ شاہ محمود قریشی اس سے قبل بھی سیاسی بحران کے حل کے لیے مکالمے کو ضروری قرار دے چکے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر جیل میں بیٹھا ہوا ایک سینئر رہنما مذاکرات کی بات کر سکتا ہے، پارٹی چیئرمین سیاسی راستہ نکالنے کی بات کر سکتے ہیں، تو باہر موجود ایک پارٹی رہنما اگر کسی احتجاج کے ممکنہ نتائج پر سوال اٹھا دے تو وہ اچانک غدار کیسے بن جاتا ہے؟ یہاں عمران خان کی ذمہ داری کا سوال بھی آتا ہے۔ پی ٹی آئی کا سب سے بڑا سیاسی حوالہ آج بھی عمران خان ہیں۔ پارٹی کے اندر اگر سوشل میڈیا کا کوئی ایسا کلچر پروان چڑھ چکا ہے جس میں مخالف رائے رکھنے والے اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس کلچر کو روکنے کی اخلاقی اور سیاسی قوت بھی بنیادی طور پر اسی قیادت کے پاس ہے۔ کسی جماعت کے کارکنوں کو اختلاف کرنے والے ساتھی کو دشمن سمجھنے کے بجائے اس کی بات سننے کی تربیت بھی قیادت ہی دیتی ہے۔ اور شاید سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بیرسٹر گوہر جیسے نسبتاً نرم مزاج اور مکالمے پر یقین رکھنے والے رہنما بھی اس سوشل میڈیا دباؤ سے محفوظ نہیں رہے۔ حالانکہ ایک سیاسی جماعت میں ایسے لوگ بھی ضروری ہوتے ہیں جو آگ میں تیل ڈالنے کے بجائے پانی ڈال سکیں۔
4 اکتوبر کا مارچ ہوگا یا نہیں، اس کا فیصلہ پی ٹی آئی کی قیادت کرے گی۔ فی الحال جماعت نے اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کیا ہے اور بیرسٹر گوہر نے بھی اس کال کو برقرار رکھنے کی بات کی ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات غیر معمولی رہے ہیں۔ مگر اصل سوال مارچ سے بڑا ہے۔ کیا پی ٹی آئی اپنے اندر اختلافِ رائے کے لیے جگہ پیدا کرے گی؟ شوکت یوسفزئی کو رُلانے والوں کو شاید یہ سوچنا چاہیے کہ ایک ایسا شخص جو مشکل ترین دور میں بھی پارٹی کے ساتھ کھڑا رہا، اگر آج اپنی جماعت کے کارکنوں کی سلامتی کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے تو اس کی نیت پر حملہ کرنے کے بجائے اس کی دلیل کا جواب دیا جانا چاہیے۔ سیاست میں وفاداری کا مطلب خاموشی نہیں ہوتا۔ وفاداری کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے قائد اور اپنی جماعت کو وہ بات بتا دے جو شاید سننے میں اچھی نہ لگے مگر اسے درست سمجھتا ہو۔ شوکت یوسفزئی کے آنسو شاید پی ٹی آئی کے لیے ایک موقع ہیں۔ یہ فیصلہ کرنے کا موقع کہ پارٹی اختلافِ رائے کو برداشت کرے گی یا ہر اختلاف کرنے والے کو غداری کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔ کیونکہ جس جماعت میں اپنے لوگ بولنے سے ڈرنے لگیں، وہاں سب سے بڑا نقصان مخالف نہیں کرتا بلکہ خاموشی کرتی ہے اور یہی تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے۔
یہ تجربہ بھی کر دیکھئے