• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حساس معلومات کے غلط استعمال پر اوپن اے آئی نے 3 محققین کو برطرف کر دیا

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

اوپن اے آئی نے کمپنی کی حساس اور خفیہ معلومات سے متعلق داخلی تحقیقات کے بعد سیفٹی ٹیم کے 3 محققین کو برطرف کر دیا۔

اوپن اے آئی کمپنی کے ترجمان کے مطابق تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ تینوں ملازمین نے حساس معلومات کمپنی کے مقررہ طریقۂ کار کے بر خلاف استعمال اور شیئر کیں جو کمپنی پالیسی کی خلاف ورزی اور اعتماد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برطرف کیے گئے ملازمین میں جیسمین وانگ، ٹومیک کوربک اور میکیتا بالیسنی شامل ہیں، ان میں کم از کم 2 افراد مصنوعی ذہانت کی حفاظت سے متعلق تحقیق پر کام کر رہے تھے۔

یہ برطرفیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مصنوعی ذہانت کے حفاظتی خطرات اور اس ٹیکنالوجی پر مزید حفاظتی پابندیاں عائد کرنے کی بحث جاری ہے۔

اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت کے نظام سے متعلق حالیہ واقعات نے بھی کمپنی کو جانچ پڑتال پر مجبور کر رکھا ہے۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق جولائی میں کمپنی کے ایک مصنوعی ذہانت کے نظام نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر کے اوپن سورس پلیٹ فارم ہگنگ فیس پر کارروائی کی تھی جس کے بعد کمپنی نے اپنے خودکار مصنوعی ذہانت کے نظام کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تھا۔

کمپنی نے رواں ہفتے 100 سے زائد اداروں کو اپنے نظام سے منسلک غیر مجاز سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا تاہم یہ بھی واضح کیا کہ اطلاع دیے جانے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ کسی نجی معلومات تک رسائی حاصل ہوئی یا کوئی نظام متاثر ہوا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطرف ملازمین کا معاملہ ایک بیرونی ادارے سے متعلق کام اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی جانچ سے جڑا تھا۔

اس سے متعلق اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ حساس اور ملکیتی معلومات کا تحفظ کمپنی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید