نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جہاں دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت و حکومت امن، ترقی اور باہمی تعاون کے وعدے دہرا رہے ہیں۔یہاں میں بتاتا چلوں کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی موقع ہے کہ تمام بین الاقوامی قیادت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہے۔ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ اگر عالمی رہنما اس اجتماع کو محض تقاریر اور رسمی ملاقاتوں تک محدود رکھیں گے تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پس پردہ سفارتکاری تیز کی جائے، اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق ہو اور امریکا اور ایران دونوں کو یہ باور کرایا جائے کہ ان کے درمیان ہونے والی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ سیکرٹری جنرل اور بااثر ممالک کو چاہیے کہ فوری طور پر فریقین کے مابین ثالثی کیلئے مؤثر میکانزم تشکیل دیں۔
اس ضمن میں مسلم دنیا کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ایران مسلم امہ کا اہم رکن ہے اور اس کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ خلیجی ریاستیں، ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک اپنے باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کا کردار اس معاملے میں خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر مسلم ملک ہے جبکہ امریکا کے ساتھ بھی ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔ پاکستان دونوں کے ساتھ رابطے کی پوزیشن میں ہے اور اپنی سفارتی صلاحیت سے مفاہمت کا پل بننے کی کوشش کر سکتا ہے۔اس سلسلے میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات ہماری معیشت اور سلامتی پر براہِ راست مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مہاجرین کی ممکنہ آمد، سرحدی صورتحال اور بلوچستان جیسے حساس علاقوں پر اثرات! یہ سب ایسے خدشات ہیں جنہیںنظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ایک طرف سفارتی سطح پر امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرے اور دوسری جانب کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری رکھے۔امریکا ایران کشیدگی کے تناظر میں ایک نہایت اہم مسئلہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ ہے اور اس خطے میں کسی بھی محاذ آرائی کا مطلب تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہے ۔ توانائی کا نیا بحران ان کی معیشتوں کو مزید تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس صورتحال اور جنرل اسمبلی اجلاس کے تناظر میں آج اقوامِ متحدہ کے سامنے ایک واضح انتخاب ہے، یا تو وہ اپنے منشور کے مطابق عالمی امن کی ضامن بن کر ابھرے یا پھر بے عملی کے باعث اپنی افادیت کھو دے۔ امریکا ایران کشیدگی سمیت تمام بین الاقوامی اور علاقائی تنازعات، خواہ وہ فلسطین یا کشمیر کا مسئلہ ہو یا کسی بھی اور خطے کا تنازع، اس ادارے کی فوری اور سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ بین الاقوامی رہنماؤں کو چاہیے کہ نیویارک میں جمع ہونے کے اس موقع کو تاریخ ساز بنائیں اور دھمکیوں اور جوابی دھمکیوں کے اس سلسلے کو مذاکرات کی میز پر ختم کرائیں۔ دنیا مزید کسی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اگر آج امن کو موقع نہ دیا گیا تو کل ہمیں شاید پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے۔دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی اور علاقائی امن، اسلاموفوبیا، انسانی حقوق، پاکستان کی سلامتی ، آبی حقوق ، دہشتگردی ، معاشی ترقی اور موسمیاتی انصاف پر پاکستان کامؤقف پیش کیا۔ خطے اور سفارتی کوششوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطی کے تنازعے کے نتیجے میں انسانی جانوں، معیشتوں اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری عملی قدم اٹھاتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر بٹھایا، اسلام آباد مذاکرات سے لیکر مفاہمتی یادداشت تک تاریخی اقدامات کئے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے ان راستوں کے کھلے رہنے پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی شدید مذمت کی ،حرمین شریفین کے تقدس کو نا قابل تسخیر گردانتے ہوئے اسے ریڈ لائن قرار دیا۔ بھارتی جارحیت پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو بلا جواز بیرونی حملے کا سامنا کرنا پڑا، اس نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل51کے تحت حق دفاع استعمال کرتے بھارت کو بھر پور جواب دیا جسے وہ ہمیشہ یادر کھے گا۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کو نا گزیر قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام 8دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی بھارت کی طرف سے یکطرفہ معطلی کو غیر قانونی قرار دیا اور واضح کیا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہئے، پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی ہر کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا ۔ وزیر اعظم نے غزہ کے بچوں اور معصوم شہریوں کے المیوں کو عالمی خاموشی کے خلاف فرد جرم قرار دیا۔ اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان، مساجد کی بے حرمتی اور بھارت میں ہندو تو انظریے کے تحت سہارنپور کی150سال پرانی مسجد کے انہدام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ دنیا میںمذہبی نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ جنگ کے مقابلے میں امن کا انتخاب ہی بڑی بہادری ہے۔