• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان آج پاکستان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں قانون کی حکمرانی کا علم بردار اور سویلین بالادستی کاچیمپئن تسلیم کیاجائے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے شخص کی جانب سے سامنے آ رہا ہے جسکی سیاست ایک سادہ سے اصول پر استوار رہی ہے۔ ادارے اس وقت مقدس ہیںجب تک وہ اسکے مفادات کی خدمت کریں، اور جب ایسا نہ کریں تو وہ ناجائز قرار پاتے ہیں۔ اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان کو آئین کا وجود معلوم نہیں ہوا۔ انہیں صرف یہ معلوم ہوا کہ اب وہ انکے حق میں استعمال نہیں ہو رہا۔ اصول کی اصل آزمائش تب ہوتی ہے جب اس پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔ کیا عمران خان نے آئینی عمل کا احترام اس وقت بھی کیا جب وہ انکے مخالفین کے حق میں تھا؟ کیا انہوں نے عدالتوں کی آزادی کا دفاع اس وقت بھی کیا جب انکے فیصلے انہیں ناگوار گزرے؟ کیا انہوں نے غیر منتخب اداروں کو سیاست سے دور رکھنے کی کوشش اس وقت بھی کی جب انہی اداروں کی مدد انہیں اقتدار میں برقرار رکھ رہی تھی؟ کیا انہوں نے قانون کے سامنے سر تسلیم خم کیا جب وہ انکے اپنے دروازے پر پہنچا؟ ان کاریکارڈ ہر سوال کا ایک ہی جواب دیتاہےکہ آج ایک معیار کی تلقین کرنیوالے شخص نے خود ہمیشہ دوسرا معیار اختیار کیا۔

2014 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پارلیمانی اکثریت کیساتھ اقتدار سنبھالے بمشکل ایک سال گزرا تھا کہ عمران خان اسلام آباد میں کئی ماہ پر محیط دھرنالے آئے۔ احتجاج ہر جماعت کا حق ہے، مگر انکا مطالبہ کسی جمہوری طریقۂ کار کے مطابق مسئلے کا حل نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک منتخب وزیراعظم پارلیمان میں اعتماد کھوئے بغیر مستعفی ہو جائیں۔ وہ یہ اشارہ دے رہے تھے کہ انہیں کسی غیر منتخب قوت سے توقع ہے کہ وہ انکی خاطر منتخب حکومت کا خاتمہ کر دے گی۔عوامی مینڈیٹ کیخلاف یہ مہم جاری رہی۔ 2017ء میں، جب ملک وژن 2025ء کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن تھا، نواز شریف کی نااہلی ایک ایسے عدالتی شب خون کے طور پر پہچانی جاتی ہے جس نے پاکستان کو بحرانوں کے ایک لامتناہی سلسلے میں دھکیل دیا۔ عمران خان اسکے سب سے پُرجوش حامی، شریکِ کار اور سب سے بڑے فائدہ اٹھانیوالے تھے۔ اسکے بعد2018ءکے انتخابات مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں پر دباؤ اور انتخابی نتائج میں ردوبدل کے ناقابلِ تردید الزامات کے سائے میں منعقد ہوئے۔ آج سیاسی انجینئرنگ کا سب سے بڑا مخالف بنا کر پیش کیے جانیوالے سیاستدان کو ایک ایسے انتخابی میدان سے اقتدار تک پہنچایا گیا جسکی شفافیت اور ساکھ شدید متنازع ہے۔ اقتدار میں آ کر عمران خان پارلیمان کو مضبوط کر سکتے تھے۔ انہوں نے اسکے برعکس راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے غیر منتخب اداروں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کیلئے بھرپور استعمال کیا۔ انکے عملی طرزِ سیاست میں سویلین بالادستی کا مطلب اداروں کی پشت پناہی کیساتھ صرف اپنی بالادستی کو دوام دینا تھا۔2019ء میں انکی حکومت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دی اور اسے قانونی تحفظ دینے کیلئے پارلیمان سے قانون سازی کرائی۔ تین سال کے اندر ہی عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اسی جنرل کو ٹھہرا رہے تھے اور توسیع کو غلطی قرار دے رہے تھے۔ جب اپوزیشن رہنما سیاست میں فوجی مداخلت پر تنقید کرتے تھے تو عمران خان انہیں غدار قرار دیتے تھے۔ لیکن مارچ 2022ء میں، جب اسٹیبلشمنٹ نے تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا، تو انہوں نے غیر جانبداری ہی کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ جلسوں میں وہ کہتے تھے کہ صرف جانور نیوٹرل ہوتا ہے کیونکہ جانور اچھائی اور برائی میں فرق نہیں کر سکتا۔ ایک جملے میں انکا اصل موقف سامنے آ گیا۔ وہ کبھی اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے باہر نہیں چاہتے تھےوہ اسے اپنے ساتھ چاہتے تھے۔ غیر جانبداری صرف اس وقت غداری بن گئی جب اس نے انہیں تحفظ دینا چھوڑ دیا۔انہوں نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کبھی نہیں کی۔ وہ بار بار واضح کرتے رہے کہ وہ صرف فوجی قیادت سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اسی ادارے سے جسکے سیاسی کردار کی مذمت کا دعویٰ کرتے ہیں۔9مئی 2023ء کو انکی جماعت کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے ہجوم کے تشدد کے ذریعے آرمی چیف کو ہٹانے کی ایک سنگین سازش تھے اور اس ذہنیت کی عکاسی کرتے تھے کہ وہ خود کو ریاست سے بالاتر سمجھتے ہیں۔بیس برس تک عمران خان نئے پاکستان، ایک بہترین ٹیم، شفاف حکومت اور اپنی ذاتی ساکھ کے بل پر اربوں کی سرمایہ کاری لانے کے وعدے کرتے رہے۔ اقتدار کی باگ ڈور ملتے ہی ان دعوؤں کی حقیقت کھل گئی۔ چار سال کی حکومت نے آشکار کر دیا کہ ان کھوکھلے نعروں کے پیچھے عملی صلاحیت نہ ہونے کی برابرتھی۔انکی حکومت کے دوران معاشی اشاریے بگڑتے گئے، مہنگائی بڑھی، زرمبادلہ کے ذخائر گھٹے اور بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال خراب ہوتے ہوتے 2022ء کے موسمِ بہار تک ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے دہانے پہنچ گئی تھی۔ انکی حکومت نے شرحِ نمو کو چھ فی صد تک پہنچانے کیلئے آخری سال درآمدات کے دروازے کھول دیئے، جس سے پچاس ارب ڈالر سے زیادہ کا، تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ پیدا ہوا۔ اس نے زرمبادلہ کے ذخائر کھا لیے اور پاکستانی روپے کی قدر کو تیزی سے گراوٹ کی طرف دھکیل دیا۔ خارجہ پالیسی بھی تباہ کن رہی: حکمتِ عملی کے بغیر دکھاوا اور سفارتی تنہائی کو خودداری کا نام دینا۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نوےکی دہائی میں ایک دوسرے کی سخت حریف رہیں۔ دونوں نے بعض مواقع پر غیر منتخب قوتوں کو ایک دوسرے کیخلاف استعمال ہونے دیا۔ دونوں نے اسکی قیمت ادا کی اور جمہوریت نے بھی۔اس تجربے سے ایک سبق حاصل ہوا، مگر بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد۔ 2006 میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے۔ دونوں جماعتوں نے عہد کیا کہ وہ اقتدار حاصل کرنے یا منتخب حکومت گرانے کیلئے کبھی غیر جمہوری ذرائع کا سہارا نہیں لیں گی، پارلیمان کو مضبوط کریں گی ۔عمران خان نے اسکے برعکس راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کبھی ایسے کسی ضابطے کو قبول نہیں کیا۔ اقتدار میں انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف کیساتھ ان مشاورتوں کیلئے بھی بیٹھنے سے انکار کیا جو آئین تقاضا کرتا ہے، مثلاً چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے میں۔ 2019 میں بھارت کے پاکستان پر حملے کے موقع پر بھی انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کیا۔ انہوں نے ہر حریف کو مجرم اور ہر سمجھوتے کو غداری سمجھا۔ جب اسٹیبلشمنٹ انکے حق میں تھی تو اسے گلے لگایا اور جب وہ انکے حق میں نہ رہی تو اسکی مذمت شروع کر دی۔

یہ اصول نہیں، مفاد کیساتھ بدلتا ہوا موقف ہے۔عمران خان کو اپنے مخالفین پر تنقید کرنے، عدالت میں اپنا دفاع کرنے اور عوام سے ووٹ مانگنے کا پورا حق ہے۔ لیکن انہیں یہ حق نہیں کہ قوم سے اپنا ماضی اور کارکردگی بھلا دینے کا مطالبہ کریں۔ انکا جھگڑا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے نہیں، اس حمایت کے چھن جانے سے ہے، قانون کے غلط استعمال سے نہیں، قانون کے خود ان پر اطلاق ہونے سے ہے۔ سویلین بالادستی سے نہیں، اس پارلیمان سے ہے جس نے بالآخر ان کیخلاف ووٹ دیدیا۔ یہی انکے سیاسی بیانیہ کے پیچھے چھپا دوہرا چہرہ ہے۔

تازہ ترین