خیبر پختونخوا میں حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں وہاں اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ 4اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت اس وقت سیاسی اور انتظامی بحران سنبھالنے کی پوزیشن میں بھی ہے یا نہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کے واقعات نے خیبر پختونخوا کے عوام کو مسلسل خوف میں مبتلا کر رکھا ہے، دوسری طرف افغانستان کیساتھ تعلقات اور سرحدی صورتحال بھی تشویش ناک ہے، تیسری طرف صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان سیاسی فاصلے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اب گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے آئینی آپشنز بھی سیاسی گفتگو کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ پانی اب واقعی سر سے گزرچکاہے۔ ایسے ماحول میں صوبائی حکومت کی پہلی اور بنیادی ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ، پولیس اور انتظامیہ کو مضبوط بنانا اور دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی ہونی چاہئے تھی لیکن بدقسمتی سے خیبر پختونخوا کی سیاست اسلام آباد سے باہر نکلنے کا نام نہیں لے رہی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 4اکتوبر کو لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ خود تحریک انصاف کے بعض سینئر رہنمااس فیصلے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا خط ظاہر کرتا ہے کہ کہیں ایک احتجاجی فیصلے کی قیمت خود صوبائی حکومت یا پوری جماعت کو ادانہ کرنی پڑ جائے۔ دہشت گردی کے موجودہ واقعات کے دوران صوبائی حکومت کی ترجیح اسلام آباد کا لانگ مارچ ہونی چاہئے یا امن کا قیام؟ خیبرپختونخوا کے شہری یہ نہیں پوچھتے کہ وفاق صحیح ہے یا صوبہ۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ان کے بچوں کی جان محفوظ کیوں نہیں؟ دہشت گرد دوبارہ منظم ہونے میں کیسے کامیاب ہو رہے ہیں؟ اور حکومتیں ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے مشترکہ حکمت عملی کیوں نہیں بنا رہیں؟یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا جواب سیاسی نعروں سے نہیں دیا جا سکتا۔وفاقی حکومت کی طرف سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے امکانات کا ذکر اب کھلے عام ہونے لگا ہے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس فیصلے کو عوامی قبولیت حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیلئےیہ صُورتحال ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ کا عہدہ صرف پارٹی کارکنوں کے جذبات کی ترجمانی کا نام نہیں، اس میں ان لوگوں کی ذمہ داری بھی شامل ہے جو تحریک انصاف کے ووٹر نہیں۔اسی طرح وفاقی حکومت کیلئےبھی یہ امتحان کچھ کم نہیں۔ اگر مرکز خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کو صرف سیاسی مخالف سمجھ کر دیکھے گا اور ہر مسئلے کا حل گورنر راج میں تلاش کرے گا تو سیاسی تقسیم مزید گہری ہوگی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی مشاورت میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی بات سامنے آ ئی اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی سطح پر انتظامی اور آئینی مسئلہ تصور کیا جا رہا ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر لانگ مارچ ہوا تو کیا ہوگا؟اگر کارکن بڑی تعداد میں اسلام آباد پہنچ گئے تو وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے گی۔ اگر مارچ توقع کے مطابق کامیاب نہ ہوا تو تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھیں گے۔ اور کسی ناخوشگوار واقعے نے حالات کو مزید خراب کردیا تو گورنر راج یا ایمرجنسی کی بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔اس برعکس لانگ مارچ موخر کر دیا جاتا ہے تو تحریک انصاف کو سیاسی طور پر یہ سوال ضرور برداشت کرنا پڑے گا کہ اس نے احتجاج کی کال کیوں واپس لی۔ مگر شاید یہی وہ مقام ہے جہاںسیاست میں بعض اوقات جنگ نہ لڑنے کا فیصلہ بھی سیاسی حکمت عملی ہوتا ہے۔پی ٹی آئی کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج عمران خان کی رہائی کا مطالبہ ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کا مستقبل بھی ایک حقیقت ہے۔ کسی سیاسی حکمت عملی کے نتیجے میں صوبائی حکومت ہی خطرے میں پڑ جائے تو پارٹی کو یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ اس نے کیا کھویا کیا پایا؟خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے دوراہےپر کھڑا ہے جہاں تین راستے واضح دکھائی دیتے ہیں: سیاسی تصادم، مذاکرات یا آئینی مداخلت۔ پہلا راستہ انتشار پیدا کرے گا۔ دوسرا بظاہر مشکل مگر سیاسی بحران کم کرنے کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔ تیسرا راستہ غیر معمولی ہے اور اگر کبھی استعمال ہوا تو اسکے اثرات صرف ایک حکومت تک محدود نہیں رہیں گےبلکہ وفاق اور صوبےکے تعلقات متاثر ہوں گے۔اسی لئے سب سے زیادہ ضرورت سیاسی اَنا ترک کردینے کی ہے۔ وفاق کو بھی سوچنا ہوگا کہ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ سیاسی مخالف حکومت کو کمزور کرکے جیتی جا سکتی ہے؟ پی ٹی آئی کو بھی سوچنا ہوگا کہ کیا دہشت گردی کے ماحول میں اسلام آباد کی طرف مارچ صوبے کے عوام کے مسائل حل کرسکتا ہے؟ صدرو وزیراعظم کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آئینی اختیارات استعمال کرنے سے پہلے سیاسی حل کی کتنی گنجائش باقی ہے۔ایسے وقت میںپاکستان کو اندرونی سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ اگر ایک طرف سرحدی خطرات ہوں، دوسری طرف دہشت گردی کے واقعات ہوں اور تیسری طرف ملک کی ایک اہم صوبائی حکومت وفاق سے براہ راست سیاسی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہو تو یہ صورتحال کسی بھی ریاست کیلئے آسان نہیں ہوتی۔عوام اب تھک چکے ہیں۔ انہیں لانگ مارچ سے زیادہ اپنے بچوں کی سلامتی چاہئے۔ ایک اچھی حکمرانی چاہئے۔ انہیں یہ یقین چاہئے کہ جو حکومت اقتدار میں ہے وہ انکی جان و مال کی حفاظت کیلئے موجود ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی، سیاسی کشیدگی اور انتظامی بحران اسی طرح ایک دوسرے میں گھلتے رہے تو پھر کسی ایک فریق کی سیاسی کامیابی بھی عوام کی کامیابی نہیں ہوگی۔4 اکتوبر کا لانگ مارچ کامیاب ہوگایا نہیں، گورنر راج لگے گا یا نہیں،اس کا فیصلہ آنے والے دن کریں گے۔ لیکن ایک بات آج ہی واضح ہے کہ خیبر پختونخوا اب مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دان ایک قدم پیچھے ہٹ کر صوبے کے عوام کی طرف دیکھیں۔ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے تو اسے بند نہ کیا جائے، سیاسی اختلاف ہے تو اسے سیاسی طریقے سے حل کیا جائے، دہشت گردی ہے تو تمام ریاستی ادارے ایک صف میں کھڑے ہوں، حکمرانی میں کمزوری ہے تو اسے درست کیا جائے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں،اصل سوال نہ سہیل آفریدی ہے، نہ اسلام آباد کا لانگ مارچ، نہ گورنر راج۔ سوال صرف ایک ہے کہ ہم کب محفوظ ہوں گے؟