• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی چوباروں اور بیٹھکوں کی رونق بن گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلے انتظامی نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی بات کی اور پھر ستمبر 2026ء میں واضح الفاظ میں کہا کہ نئے انتظامی یونٹس ہر صورت میں بن کر رہیں گے۔ جناب احسن اقبال اور خواجہ آصف کے بیانات سے اس بحث میں مزید سنجیدگی کا عنصر داخل ہو گیا۔یہ محض ایک وزیر کی تقریر نہیں بلکہ ریاستی نظام کے قریب سمجھے جانے والے ایک اہم شخص کا واضح پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔ مقتدر قوتوں کی خواہش اپنی جگہ، مگر اس بحث کی اصل سنگینی اعداد و شمار سے واضح ہوتی ہے۔2023ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12کروڑ 73لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 56 لاکھ، خیبر پختونخوا کی تقریباً 4 کروڑ 6 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً ایک کروڑ 46لاکھ ہے۔ اسلام آباد کی آبادی بھی 22لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔رقبے کی تصویر اسکے برعکس ہے۔ پنجاب تقریباً 2لاکھ 5ہزار مربع کلومیٹر، سندھ ایک لاکھ 40ہزار 914، خیبر پختونخوا 74ہزار 521اور بلوچستان 3لاکھ 47ہزار 190 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یعنی بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا؛ اس کے برعکس پنجاب نسبتاً محدود رقبے میں ملک کی سب سے بڑی آبادی کو سمیٹے ہوئے ہے۔یہی آبادی اور رقبے کا عدم توازن نئے صوبوں کی بحث کو مزید تقویت دیتا ہے ۔

پاکستان میں یہ بحث آج پہلی مرتبہ نہیں ہو رہی۔ بہاولپور، جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دوسرے انتظامی خطوں کی تحریکیں مختلف ادوار میں سامنے آتی رہی ہیں۔ 2012-13ء میں پارلیمانی کمیشن نے بھی نئے صوبوں کے سوال پر تفصیلی غور کیا تھا اور جنوبی پنجاب کے انتظامی و نمائندگی کے مسائل کو ریکارڈ کیا تھا۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان میں نئے صوبے بنائے جائیں تو کیا اس سے عام آدمی کی زندگی واقعی بدل سکتی ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کیلئے ہمیں صوبائی دارالحکومتوں کا عام آدمی سے فاصلہ دیکھنا ہوگا کہ آج عام شخص کو اپنے مسائل کے حل کیلئے کتنا طویل سفر اختیار کرنا پڑتا ہے ۔

لاہور پاکستان کا ایک بڑا سیاسی، انتظامی، تعلیمی، طبی اور معاشی مرکز ہے۔ پنجاب کے دور دراز اضلاع کے شہریوں کو صوبائی دارالحکومت سے متعلق بڑے فیصلوں، اعلیٰ طبی سہولتوں، سرکاری اداروں، یونیورسٹیوں اور روزگار کے مواقع کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ اسی طرح تمام وسائل اور سہولیات محض ایک شہر میں جمع کر کے اس ایک شہر کو اتنا گنجان کر دیا گیا ہے کہ محض ایک لاہور پر مشتمل ایک الگ صوبائی اکائی تشکیل پا سکتی ہے اور مرکزی سوال یہ ہے کہ پنجاب کے 12 کروڑ سے زائد عوام میں سے کتنے لوگوں کو لاہور جیسی سہولتیں میسر ہیں؟میانوالی،بھکر ،راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے لوگ ان سہولیات کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔

2025-26 ءمیںصرف لاہور کیلئے تقریباً 85 ارب روپے کا خصوصی ترقیاتی پروگرام رکھا گیا، جبکہ پورے جنوبی پنجاب کیلئے تقریباً 80 ارب روپے مختص ہوئے۔ یعنی ایک شہر کے لیے رکھی گئی رقم جنوبی پنجاب کے وسیع خطے کے مجموعی ترقیاتی حصے کے تقریباً برابر ہے۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث صوبے کے دیگر اضلاع میں نہ صرف احساس محرومی پیدا ہوا ہے بلکہ ترقی کی دوڑ میں آدھے سے زیادہ صوبہ پیچھے رہ گیا ہے ۔سندھ میں بھی کراچی کی مرکزیت ایک نمایاں حقیقت ہے۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہری اور معاشی مرکز ہے، لیکن اندرونِ سندھ کے کئی اضلاع کراچی سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہیں۔ سکھر، حیدرآباد، لاڑکانہ اور میرپورخاص اپنی اپنی اہمیت رکھتے ہیں، مگر پورے سندھ کی حکمرانی کا مرکز کراچی میں مرتکز ہے۔

خیبر پختونخوا میں پشاور کے علاوہ ایبٹ آباد، سوات، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اہم مراکز موجود ہیں۔ بلوچستان میں مسئلہ مزید نمایاں ہے۔ تقریباً 3 لاکھ 47 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے اس صوبے میں آبادی کم اور جغرافیائی فاصلے غیر معمولی ہیں۔ بلوچستان حکومت کے مطابق صوبہ ملک کے 43۔6 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، مگر آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ ایسے میں ایک مرکز سے پورے صوبے کی مؤثر حکمرانی بذاتِ خود ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے۔اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ ہر چھوٹا صوبہ ترقی کرے گا اور ہر بڑا صوبہ ترقی نہیں کرے گا۔ البتہ دنیا کا تجربہ یہ ضرور بتاتا ہے کہ اختیارات کو عوام کے قریب لے جانے سے مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے ۔ بھارت میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کے نتیجے میں اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور تلنگانہ جیسی ریاستیں وجود میں آئیں۔ جہاں ترقی کے اعشاریے مثبت دیکھے گئے۔انڈونیشیا بھی ایک اہم مثال ہے جہاں 2001ء میں وسیع تر اختیارات کی منتقلی کے ذریعے مقامی حکومتوں کو معاشی اور انتظامی ذمہ داریاں دی گئیں۔ وہاں اگرچہ نتائج یکساں نہیں رہے۔ تاہم مجموعی طور پر بہتری ضرور دیکھی گئی ۔

پاکستان میں نئے صوبوں کے حق میں ایک اہم دلیل یہ بھی ہے کہ ہماری بڑی سیاسی جماعتیں بتدریج چند سیاسی خاندانوں اور چند بڑے شہروں میں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔سیاسی فیصلہ سازی میں ایک ہی خاندان اور ایک ہی شہر کے لوگ اہم کردار ادا کرتے ہیں جسکے نتیجے میں دیگر اضلاع کے سیاسی لوگ فیصلہ سازی سے غیر متعلق ہو کر رہ گئے ہیں ۔نئے صوبوں کی صورت میں ہر ضلع میں نئی سیاسی قیادت جنم لے گی جو ملک کے سیاسی کلچر میں خوبصورت اضافہ ثابت ہو گی۔اب وقت آگیا ہے کہ صوبوں کی تعداد کا فیصلہ عوام کی سہولت، انتظامی ضرورت، معاشی استطاعت اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر کیا جائے۔ شاید پاکستان کے آئندہ سیاسی نقشے کا سب سے اہم سوال یہی ہے: اقتدار کو دارالحکومتوں میں رکھا جائے یا عوام کے دروازے تک پہنچایا جائے؟

تازہ ترین