سابق امریکی انٹیلی جنس افسر ڈیوڈ گرش نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے ایسے نامعلوم اڑنے والے اجسام (UFOs) برآمد کیے جن میں مختلف اقسام کی غیر انسانی مخلوقات موجود تھیں، جن میں ریپٹیلینز یعنی چھپکلی نما انسانوں جیسی مخلوق، رینگنے والے جانوروں جیسی ہیئت کی حامل مخلوق اور گرے یعنی چمکدار آنکھوں والے خاکی رنگ کے جاندار شامل ہیں۔
ڈیوڈ گرش نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے بعض مخلوقات نے امریکی فوجی اہلکاروں کو قتل کیا تھا۔
گرش امریکی فضائیہ کے سابق افسر اور نیشنل جیو اسپیشل انٹیلی جنس ایجنسی (NGA) اور نیشنل ریکونیسنس آفس (NRO) کے سابق انٹیلی جنس افسر ہیں، ان کے مطابق مجھے یہ معلومات 2020ء میں یو اے پی ٹاسک فورس کے ساتھ کام کے دوران ملیں۔
گرش نے دعویٰ کیا ہے کہ میں نے ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک مبینہ یو ایف او حادثے کی جگہ پر فوجی اہلکار دکھائی دے رہے تھے، خلائی جہاز کے اندر 4 مردہ مخلوقات موجود تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی مخلوق انسان نما تھی اور ’یونانی دیوتاؤں‘ سے مشابہت رکھتی تھی۔
گرش نے دعویٰ کیا کہ میں نے اپنی تحقیقات کے دوران یہ ویڈیو دیکھی اور آزادانہ طور پر اس کے مستند ہونے کی تصدیق بھی کی۔
گرش نے کہا کہ عینی شاہدین نے بڑی جسامت کی چھپکلی نما مخلوقات دیکھنے کی اطلاعات بھی دیں، میں نے خود ان مخلوقات کو نہیں دیکھا، تاہم میں ان گواہوں کے بیانات کو قابلِ اعتبار سمجھتا ہوں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مخلوقات 7 فٹ سے زیادہ قد کی، گوریلے جیسی جسامت اور کھردری جلد کی حامل تھیں۔
گرش کے مطابق بعض ریپٹیلین مخلوقات یو ایف او حادثے میں زندہ بچ گئی تھیں، تاہم بعد میں فوجی اہلکاروں نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ایک مخلوق کی جانب سے امریکی اہلکار کو قتل کیے جانے کے بعد فوج نے کارروائی کی۔
گرش نے دعویٰ کیا کہ ریپٹیلین مخلوقات ’ٹک ٹیک‘ کی شکل کے یو ایف او کو چلا رہی تھیں، جو 2004ء میں امریکی بحریہ کے کمانڈر ڈیوڈ فریور کی جانب سے سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب دیکھے گئے مبینہ فضائی جسم سے مشابہ تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ مبینہ غیر انسانی مخلوقات میں ’چھوٹے گرے‘ بھی شامل تھے اور بعض مختلف اقسام کی مخلوقات ایک دوسرے کے خلاف بھی جارحانہ رویہ رکھتی تھیں۔
ڈیوڈ گرش کے مطابق مختلف غیر انسانی مخلوقات کے درمیان مبینہ جھڑپیں بعض یو ایف اوز کے حادثات اور بعد میں امریکی حکومت کی جانب سے ان کے ملبے یا طیاروں کی بازیابی کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہیں۔
سابق امریکی انٹیلی جنس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے مختلف شکلوں کے مبینہ خلائی جہاز برآمد کیے، جن میں ٹک ٹیک، ڈسک، انڈے، بوم رینگ اور ہلال نما اشکال شامل ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت طویل عرصے سے ان مبینہ ٹیکنالوجیز کا مطالعہ کر رہی ہے، مکمل یا جزوی طور پر محفوظ خلائی جہازوں سے مواد برآمد کیا گیا اور ان کی ٹیکنالوجی کو ریورس انجینئرنگ کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
گرش نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت ختم ہونے سے پہلے ان مبینہ پروگراموں اور تحقیقات سے متعلق معلومات منظرِ عام پر آ جائیں گی۔