امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے پہلی بار یو ایف اوز یعنی نامعلوم فضائی مظاہر (UFO) سے متعلق خفیہ دستاویزات اور ویڈیوز کا پہلا بڑا ذخیرہ جاری کر دیا، جس کے بعد دنیا بھر میں ایک بار پھر خلائی مخلوق کی موجودگی سے متعلق بحث شدت اختیار کر گئی۔
رپورٹس کے مطابق جاری کی گئی فائلوں میں 1940ء کی دہائی سے لے کر حالیہ برسوں تک کے ایسے واقعات شامل ہیں جن میں فلائنگ ساسرز، چمکتے ہوئے گولے، پراسرار اڑتی اشیاء اور عجیب فضائی مظاہر دیکھے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ان دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی کیا گیا، ٹرمپ نے اس اقدام کو غیر معمولی شفافیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکی عوام خود فیصلہ کریں کہ آخر حقیقت کیا ہے؟
پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ 160 سے زائد فائلوں میں بعض ایسی رپورٹس بھی شامل ہیں جنہیں امریکی حکام نے تشویش ناک اور اب تک کے سب سے دلچسپ کیسز قرار دیا ہے۔
ایک خفیہ رپورٹ جو دسمبر 1947ء کی ہے، اس میں فلائنگ ڈسکس دیکھی جانے کے متعدد واقعات درج ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابلِ اعتماد افراد کی جانب سے مسلسل موصول ہونے والی اطلاعات نے اس معاملے کو امریکی فضائیہ کے لیے سنجیدہ بنا دیا تھا۔
اسی طرح 1948ء کی ایک ٹاپ سیکریٹ انٹیلی جنس رپورٹ میں نامعلوم طیاروں اور فلائنگ ساسرز کے مشاہدات کا ذکر کیا گیا ہے۔
سب سے حیران کن واقعات میں 2023ء کے چند مشاہدات شامل ہیں، جن میں امریکی وفاقی اہلکاروں نے آسمان پر چمکتے ہوئے نارنجی گولے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 3 مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے آسمان میں ایک بڑے نارنجی orb کو چھوٹے سرخ گولے خارج کرتے دیکھا۔
ایک اور واقعے میں 2 وفاقی ایجنٹس نے ایک چمکتے ہوئے نارنجی گولے کو پہاڑی چٹان کے قریب معلق دیکھا، جسے مشہور فلم دی لارڈ آف دی رنگز کے آئی آف سورون سے مشابہ قرار دیا گیا۔
جاری کی گئی فائلوں میں ناسا کے مشن اپولو 17 کی مون لینڈنگ کی ایک تصویر بھی شامل ہے، جس میں چاند کی سطح کے اوپر 3 پراسرار روشنیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ، یونان، جاپان اور متحدہ عرب امارات کے قریب بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر بھی پورٹل پر جاری کی گئی ہیں۔
خفیہ فائلوں کی ریلیز کے بعد یو ایف اوز میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے ویب سائٹ کا رخ کیا ہے، جس کے باعث پورٹل پر شدید ٹریفک دیکھنے میں آیا اور متعدد صارفین نے ویب سائٹ کریش ہونے کی شکایت بھی کی۔
امریکی انٹیلی جنس کی سربراہ تلسی گبارڈ نے بھی اس اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام طویل عرصے سے حکومت سے اس معاملے پر شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے۔
تاہم پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ اب تک کسی بھی فائل یا تحقیق میں زمین سے باہر ذہین مخلوق کے وجود کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا۔
واضح رہے کہ مارچ 2024ء میں جاری ایک امریکی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متعدد مشتبہ مشاہدات دراصل موسمی غبارے، جاسوس طیارے، سیٹلائٹس یا دیگر معمول کی سرگرمیاں تھیں، نہ کہ خلائی مخلوق۔