ایک خبرملی تو اڈیالہ جیل میں گزرے ایامِ اسیری یاد آگئے ۔خبر کچھ یوں ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکے کرپشن کے خاتمے کے ویژن کے تحت اہم کارروائی سامنے آگئی۔آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو رشوت کی پیشکش پر رنگے ہاتھوں گرفتار کروادیا ۔اس سے پہلے بھی انسداد رشوت ستانی مہم کے تحت نچلے درجے کے کئی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے مگر شاید بیانیہ نہیں بن رہا تھا اسلئے بڑی کارروائی ڈالنے کی ضرورت پیش آئی ۔اسکی مثال ایسے ہے جیسے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے شروع میں غیرمعروف اشتہاریوں کو ’’فل فرائی‘‘کرنا شروع کیا لیکن پھر ماحول بنانے کیلئے ایسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا جنکے بارے میں تاثر تھا کہ ان پر ہاتھ نہیں ڈالاجاسکتا۔
جیلوں میں کرپشن اور رشوت کا جوبازار گرم ہےا س کی جھلک دیکھنی ہے تو پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ اپنے چند بااعتماد اہلکاروں کو کسی فرضی مقدمہ میں حوالاتی کے روپ میں مختلف جیلوں میں بھیجیں ۔جیل کی ڈیوڑھی تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں معلوم ہو جائیگاکہ کس قدرمنظم انداز میں کرپشن کی جاتی ہے ۔جیل میں داخل ہوتے ہی جب تلاشی لی جاتی ہے توحوالاتیوں یا قیدیوںکے پاس موجود نقد رقم وصول کرکے رسید بنا دی جاتی ہے ۔اگر آپ کی جیب سے 3000 روپے نکلے ہیں تو پرچی2000روپے کی بنے گی۔آپ نے 2000روپے جمع کروائے ہیں تو رسید 1400روپے کی دی جائے گی اور آگے جیل میں جب کینٹین سے خریداری کریں گے تو مزید کٹوتی ہوگی ۔کیا اس سطح کی بدعنوانی محض نچلی سطح کے اہلکار اپنے طور پر کرسکتے ہیں ؟
وزیراعلیٰ پنجاب کا خیال ہے کہ انہوں نے قیدیوں اور حوالاتیوں کےبینک اکاؤنٹ کھلوا کر اور آن لائن خریداری کا نظام متعارف کرواکے رشوت کے دروازے بند کردیئے ہیں اور اب جیلوں میں رقم کا لین دین نہیں ہوتا مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ۔آپ نے اپنی گنتی تبدیل کروانی ہے یعنی ایک بیرک سے دوسری بیرک جانا ہے تو نذرانہ پیش کریں ،سب اچھا ہوجائیگا۔قید بامشقت ہوئی ہے مگر آپ کام کے بجائے آرام کرنا چاہتے ہیں جیل حکام کی مٹھی گرم کریں ،آپ کی جگہ کسی حوالاتی کو کام پر لگادیا جائیگا۔آپ اپنے سیل میں ٹی وی لگوانا چاہتے ہیں یا کوئی اور سہولت درکار ہے تو ہر چیز کے نرخ مقرر ہیں،قائداعظم کی سفارش سے سب کام ہوتے ہیں ۔آپ بیمار نہیں مگر اسپتال منتقل ہونا چاہتے ہیں تاکہ وہاں آرا م سے رہ سکیں تو اس کا ماہانہ بل ادا کرنا ہوگا۔یعنی اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو پورا سسٹم آپ کی خاطر مدارت میں لگ جائے گا۔منشیات کی خریدو فروخت عام ہے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے وہاں کسی قیدی یا حوالاتی کے پاس نقد رقم نہیں ہوتی تو لین دین کیسے ہوتا ہے ؟اگر بینک اکاؤنٹ سے رقم منتقل ہوتو اس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے تو پھر یہ نظام کیسے چلتا ہے ۔تو جناب ،قیدی یا حوالاتی اپنے اہلخانہ کے نام ایک کاغذ پر پیغام لکھ کردیتا ہے کہ اس نمبر پر اتنی رقم بھجوادیں ۔اس پرچی کی تصویر بنا کر واٹس ایپ کردی جاتی ہے اور رقم وصول ہونے کے بعد مطلوبہ سہولت مہیا کردی جاتی ہے ۔
میں اڈیالہ جیل میں تھا تو معلوم ہوا کہ جب سے ساجد بیگ سپرنٹنڈنٹ بنے ہیں ،منشیات کا دھندہ چوپٹ ہوگیا ہے لیکن رشوت ختم کرنا شاید کسی کے بس کی بات نہیں ۔کھانے کا معیار بہتر ہوا ہے اور دیگر انتظامات بھی مناسب ہیں ۔جیل حکا م کے بھی کچھ مسائل اور مجبوریاں ہوتی ہیں ۔مثال کے طور پر HSBجہاں مجھے رکھا گیا تھا ،وہاں صبح اور شام کے اوقات میں صرف آدھے گھنٹے کیلئے قید خانے کا دروازہ کھلتا تھا اور اپنی بیرک میں چہل قدمی کی اجازت ہوتی تھی ۔پہلا تاثر یہ تھا کہ عام قیدیوں کی طرح یہاں بھی کم ازکم دن کی روشنی میں نقل و حرکت کی آزادی ہونی چاہئے مگر پہلے دن ہی یہ تاثر زائل ہوگیاکیونکہ آدھے گھنٹے کی آزادی کے دوران ہی کوئی ہنگامہ ہوجاتا تھا ،اگر سارا دن گھومنے کی آزادی ہوتو قیدیوں کی آپس کی لڑائیاں ہی ختم نہ ہوں ۔
یوں تو جیل میں ہر قیدی کی الگ داستان ہوتی ہے مگر دو قیدیوں کی روداد سن کر بہت دُکھ ہوا۔میری ساتھ والی چکی میں تحریک انصاف کے وہ کارکن قید تھے جنہیں 9مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں سے سزائیں ہوئی تھیں ۔ان میں راولپنڈی کا ایک نوجوان راجہ احسان بھی تھا۔قد پانچ فٹ سے کم ، واجبی سی جسامت اور بے وقوفی کی حد تک سادہ ۔رکشہ چلاتا تھا ۔9مئی کو جی ایچ کیو کے دروازے کوایک خاتون ہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ تم میں سے کوئی مرد کا بچہ نہیں جو اس گیٹ کوکھول دے ۔قریب کھڑے راجہ احسان نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ دروازہ کھول دیا اور اب دس سال قیدِ بامشقت کاٹ رہا ہے۔بیوی چھوڑ کر چلی گئی،بوڑھی ماں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ۔معلوم ہوا تحریک انصاف والے ابتدائی چند ماہ گھر جاکر خرچہ دیا کرتے تھے مگر اب کوئی پرسان حال نہیں ۔یہ ان سیاسی کارکنوں کا انجام ہے جوجذباتی ہوکر توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور قیادت انہیں فراموش کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔دوسرا نوجوان جس نے 2009میںگولڈ میڈل لیااور سی ایس ایس کی تیاری کررہا تھا ،اسے قتل کے مقدمہ میں دھر لیا گیا ۔اب اس کی عمر قید مکمل ہونے میں چند ماہ باقی تھے مگر اس کے انگ انگ میں بدلے کی آگ دہک رہی ہے ۔بقول اس کے ایک شخص نے قتل کیا مگر سزا سات افراد کو ہوئی،باقی چھ بے گناہ ہیں۔اس کی زندگی برباد ہوگئی، مستقبل تباہ ہوگیا۔اب وہ باہر آکر کیا کرے گا؟اس کی گفتگو سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔جیلوں کے ماحول،پولیس تفتیش اور عدالتی نظام کی اصلاح نہ کی گئی اور محض نمائشی نوعیت کے اقدامات پر اکتفا کیا جاتا رہا تو یہ آگ ہر طرف پھیل سکتی ہے۔