• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کئی برس بعد امریکہ سے اس کا فو ن آیا ۔لہجہ ٹوٹا ہوا ، آواز بھرائی ہوئی۔بولا: کیا ملحد ٹھیک کہتےہیں ؟ ا س کائنات کا کوئی خدا نہیں ؟ میں چونک پڑا ۔میں نے پوچھا: کیا ہوا۔ اس نے کہا: ایک ہی تو زندگی میں میرا آسرا تھا ، میرا خدا۔پچھلے چند ماہ ملحدین سے میل ملاقات رہی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ایک اتفاق تھا کہ اس زمین کے ابتدائی ہنگامہ خیز ایام میں برستی بارشوں اور کڑکتی بجلیوں میں کچھ عناصر باہم ملے اور ایک زندہ خلیہ وجود میں آیا۔ اس زندہ خلیے نے ارتقا کے نتیجے میں کئی ارب سال میں پانچ ارب قسم کی سپیشیز اتفاقاًپیدا کیں ۔ انسان ان میں سے ایک ہے ۔

ملحدین نے کہا : انسان ارتقا کے نتیجے میں اتفاقاً اسی طرح وجود میں آیا، جیسے گوریلا، چمپنزی اور ڈائنا سار ۔ آدم اور حوا والی داستان میں کوئی صداقت نہیں۔ انسان بھی کوئی ایک نہیں تھا ۔ چھوٹے بڑےقد اور چھوٹے بڑے سر والی کئی انسانی سپیشیز اس دنیا میں اپنا وقت گزار کر ختم ہو چکیں ۔ مثلاً مشہورِ زمانہ ٹین ایج لڑکی لوسی جو کہ آسٹرالوپیتھیکس نامی سپیشیز سے تعلق رکھتی تھی ۔ وہ بتیس لاکھ سال پہلے فوت ہوئی ۔کولہے اور گھٹنے کی ہڈیاں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ دو ٹانگوں پہ سیدھی کھڑی ہو کر چلتی تھی۔ دماغ اگرچہ چمپنزی جتنا ۔

ملحدین نے کہا :زمین کی کٹھن زندگی میں انسان نے خود کو بہلانےکیلئے خدا کا تصور تراشا۔ اس نے دنیا میں اپنی ناکامیوں کا بدلہ لینے کیلئے آخرت کی زندگی کا تصور تخلیق کیا۔

میرے دوست نے روتے ہوئے کہا : خدا کی Existenceکے بارے میں میرے دلائل ختم ہو چکے ۔ میں تشکیک کا شکار ہوں ۔ میںبچپن سے خدا پہ ایمان رکھتا ہوں ۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت میں شدید جذباتی بحران سے گزررہا ہوں ۔

میں نے کہا :ایک اندھا بھی دیکھ سکتاہے کہ اس زمین پہ زندگی پیدا کرنے سے پہلے خصوصی انتظامات کیے گئے کیونکہ زندگی بہت نازک ہوتی ہے ۔چاند پر دن میں جہاں سو ڈگری درجہ حرارت ہوتاہے ،وہاں رات کو منفی سوتک گر جاتا ہے ۔ اوزون، موزوں مقناطیسی میدان ، مٹی، جس میں رنگا رنگ پودے اگ سکیں اور جانوروں کو خوراک مہیا کر سکیں ۔ آکسیجن ،بارش، پینے کا پانی اور پانی کا سائیکل ۔ زمین کا اتنا بڑا چاند بھی جو اس کے محور پہ اثر انداز ہوتا اور سمندروں کو حرکت دیتا ہے۔

سائنسدان تو خود کہتے ہیں کہ زندگی جتنا حیران کن Phenomenon ہم نے کائنات میں اور نہیں دیکھا۔سائنسدان جب ایک زندہ خلیے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو حیرت کے سمندر میں اتر جاتے ہیں ۔ ڈی این اے آنکھیں کھول دیتاہے اور خلیے کا توانائی کا نظام مائیٹو کونڈریا بھی ۔ دل خون کو دوڑا کر ایک ایک خلیے تک توانائی پہنچاتا اور فاسد مادے باہر نکالتا ہے ۔مگر یہ سب اپنے آپ ہو رہا ہے ؟ ایک انسانی جسم میں 37ٹرلین خلیات ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہوتے ہیں ،بجائے جھگڑنے کے ۔کیا یہ اتفاق ہے ؟ یہ توایسا ہی ہے ، جیسے ایک طوفان اینٹوں ، بجری اور سیمنٹ کو ملا کر ایک خوبصورت عمارت بنا دے ، جس میں کوئی عیب نہ ہو۔ڈیزائن تواس کائنات کے ذرے ذرے میں نظر آ رہا ہے ۔ کیا مخلوقات کا سینٹرل نروس سسٹم ،ریڑھ کی ہڈی کے مہرے دیکھ کر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں ؟

چلیے ، پھر بھی مان لیتے ہیں ، سب اتفاقاً ہوا۔ اتفاقاً ایک زندہ خلیے سے پانچ ارب سپیشیز پیدا ہو گئیں ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ پانچ ارب میں سے صرف ایک کائنات کی تخلیق پہ غور کرنے لگی۔ اس نے انٹرنیٹ ایجاد کیا۔ اس نے لباس پہنا اورٹریفک سگنل ایجاد کیا۔ باقی مخلوقات پیٹ بھرنے اور بچے پیدا کرنے تک محدود رہیں ۔ انسان خلا میں دوربینیں بھیجنے لگا۔وہ مردے دفنانے اور شاعری کرنے لگا۔ آٹھ ارب انسانوں میں سے ایک ہزار خدا پہ ایمان لے آتے تو پھر بھی سمجھ میں آتا،آج 8 ارب انسانوں میں سے چھ ارب کسی نہ کسی خدا پہ ایمان رکھتے ہیں ؛حالانکہ ان میں سے کسی نے خدا کو دیکھا تک نہیں ۔ مسلمان ، یہودی اور عیسائی تو ایک ہی خدا پہ ایمان رکھتے ہیں ۔

ملحدین کی اکثریت وہ ہے ، جسے ذاتی زندگی میں روک ٹوک سے نفرت ہے ۔ یا وہ ، زندگی میں پیش آنے والے کسی واقعے کی وجہ سے خدا سے ناراض ہیں ۔ بعض وہ ، جنہیں دوسروں کے نظریات پر ضرب لگانے سے پیدا ہونے والی تسکین کی لت لگ گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف خدا کے علمی انکار تک محدود نہیں رہتے بلکہ اذیت پہنچانے کیلئے پیغمبرؑ اور صحابہ کے طرزِ عمل پہ تنقید کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام نے غلامی کو جائز قرار دیا؛حالانکہ اسلام نے غلام کو آزاد کرنے کو عظیم نیکی قرار دیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا مقام دیکھ لیجیے ۔ اسلام نے حکم دیا ،جو خود کھاؤ، انہیں کھلاؤ، جو خود پہنو، انہیں پہناؤ ۔

ایک ڈیڑھ صدی قبل امریکی ریستورانوں میں کتوں اور کالوں کا داخلہ منع تھا ۔ بابائے گائناکالوجی کہلانے والے ڈاکٹر جیمز میرین سمز نے انیسویں صدی میں غلام عورتوں کے جسم پر ایسے ایسے تجربات کیے کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن یہ لوگ امریکہ پربرائے بیت بھی تنقید نہیں کرتے ۔

مشرک اس بات کا مذاق اڑاتے رہے کہ بھلا جب مرنے کے بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ میرے ملحد بھائی بھی تیس چالیس سال تصورِ خدا کے خلاف زور لگا لیں ، کیا فرق پڑتا ہے۔ ویسے بھی اب انسان کا سورج غروب ہونے والا ہے ۔

جاہ و جلال، دام و درم اور کتنی دیر

ریگِ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر

پل بھر میں ہو رہے گا حسابِ نبود و بود

پیچ و خم و وجود و عدم اور کتنی دیر

شام آ رہی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا

تُم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟

تازہ ترین