پاکستان ایک بار پھر ایک ایسے سیاسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف احتجاج کی سڑک ہے اور دوسری طرف مذاکرات کی میز۔ خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف کا احتجاجی مارچ، وفاقی حکومت کی مذاکرات کی کوشش، ایک دوسرے پر عدم اعتماد اور سیاسی مطالبات نے ملک کے ماحول کو ایک مرتبہ پھر بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔ تاہم اس پوری صورتحال میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون سیاسی طور پر زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کشمکش کے اختتام پر پاکستان کتنا مضبوط اور مستحکم رہتا ہے۔
تحریک انصاف کیلئے موجودہ احتجاج محض ایک احتجاج نہیں بلکہ اپنی سیاسی طاقت کے اظہار کا ذریعہ بھی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری، انکے خلاف مقدمات، انتخابات سے متعلق اعتراضات اور پارٹی کے دیگر مطالبات تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے کا مرکزی حصہ ہیں۔ خیبرپختونخوا میں پارٹی کی حکومت اور مضبوط تنظیمی موجودگی نے اسے احتجاج کیلئے ایک اہم مرکز فراہم کیا ہے۔ اسی صوبے سے احتجاجی قافلوں کا نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ تحریک انصاف اپنی صوبائی سیاسی طاقت کو وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنےکیلئے استعمال کرنا چاہتی ہےلیکن تحریک انصاف کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ احتجاج کو سیاسی نتیجے میں کیسے تبدیل کیا جائے؟ سڑکوں پر کارکن جمع کرنا سیاسی قوت کا اظہار ضرور ہے، مگر کسی بھی احتجاج کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ مذاکرات کی میز پر کوئی قابلِ عمل سیاسی نتیجہ پیدا کرے۔ اگر احتجاج طویل ہوتا جائے، راستے بند ہوں، کاروبار متاثر ہو اور عام شہری کی زندگی مشکل بن جائے تو سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ عوامی بے چینی بھی بڑھ سکتی ہے۔
دوسری طرف حکومت کیلئے بھی یہ معاملہ صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ یہ ایک اہم موقع ہے، کیونکہ سیاسی اختلاف کا مستقل حل طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی عمل ہی سے نکلتا ہے۔ لیکن مذاکرات کی کامیابی کیلئے صرف پیشکش کافی نہیں ہوتی؛ اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے۔
اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ پہلے احتجاج ختم کیا جائے، پھر مذاکرات ہوں گے، تو تحریک انصاف کیلئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر احتجاج ہی اس کا سیاسی دباؤ ہے تو وہ اسے پہلے کیوں ختم کرے؟ دوسری جانب حکومت کا مؤقف بھی اپنی جگہ قابلِ فہم ہے کہ ریاستی امور اور معمول کی زندگی کو مسلسل احتجاج کے ذریعے مفلوج نہیں کیا جا سکتا۔ یوں دونوں فریق اپنی اپنی جگہ درست ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان اس وقت جس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا وہ یہی ہے کہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر اڑےرہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست دانوں کی اصل بصیرت کا امتحان ہوتا ہے۔ مذاکرات میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہر فریق یہ سمجھتا رہے کہ صرف دوسرا فریق ہی پیچھےہٹے تو مذاکرات کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوسکتے۔ حکومت کو بھی سیاسی اختلاف کو صرف انتظامی مسئلہ سمجھنے سے گریز کرنا ہوگا، جبکہ تحریک انصاف کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ احتجاج اگر مسلسل تصادم کی شکل اختیار کرلے تو اس کے سیاسی اور معاشی اثرات کیا ہوں گے۔
خاص طور پر خیبرپختونخوا کی صورتحال کو معمول کی سیاسی کشمکش سے الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ صوبہ پہلے ہی دہشت گردی اور سکیورٹی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کسی بھی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔ اگر سیاسی اختلاف وفاق اور صوبے کے درمیان مستقل محاذ آرائی میں تبدیل ہوگیا تو اس کے اثرات انتظامی امور، امن و امان اور عوامی زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ سیاسی استحکام ہے۔ معیشت پہلے ہی قرضوں، مہنگائی، روزگار، توانائی اور سرمایہ کاری جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں مسلسل سیاسی بے یقینی کے اثرات صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ بازار، صنعت، تجارت اور عام آدمی کی زندگی تک پہنچتے ہیں۔
دنیا بھی اس وقت کسی معمول کے دور سے نہیں گزر رہی۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، روس اور یوکرین کی جنگ کے اثرات، توانائی کے بحران، عالمی تجارت میں تبدیلیاں اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے ترقی پذیر ممالک کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کیلئے داخلی سیاسی استحکام محض ایک سیاسی خواہش نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔
پاکستان چین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کی توقع رکھتا ہے، افغانستان کی صورتحال سے نمٹ رہا ہے، بھارت کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کا سامنا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاشی معاملات بھی جاری ہیں۔ ان تمام معاملات کیلئے ایک ایسا داخلی ماحول ضروری ہے جہاں حکومت اپنی پالیسیوں پر توجہ دے سکے اور سیاسی بحران ہر وقت قومی ایجنڈے پر غالب نہ رہے۔ اس امر سے مفر ممکن نہیں کہ جمہوریت میں احتجاج اپوزیشن کا بنیادی سیاسی حق ہے، لیکن اسی جمہوریت میں حکومت کرنا بھی ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ مسئلہ احتجاج اور حکومت کے درمیان انتخاب کا نہیں بلکہ دونوں کے درمیان ایک قابلِ عمل توازن پیدا کرنے کا ہے۔