بھارت میں 13 کروڑ سے زائد نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کا تنازع اب عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں بھی آنے لگا۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ بھارتی چیف الیکشن کمیشن نے 13 کروڑ سے زائد نام ووٹر لسٹ سے نکالے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تعداد میکسیکو کی پوری آبادی سے بھی زیادہ ہے، اسی تنازع پر اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی اور مظاہرین احتجاج کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اور ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل سے خصوصاً مسلمان ووٹرز متاثر ہوئے اور نریندر مودی کی بی جے پی کو مزید فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
بھارت کی اپوزیشن ہو یا جین زی کی قیادت میں کاکروچ جنتا پارٹی، دونوں اسی حوالے سے چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی ووٹ کے حق اور جمہوری عمل کے تحفظ کی ہے۔ دلی، ممبئی اور بنگلورو کے بعد 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر ایک اور بڑا احتجاج بھی متوقع ہے۔