• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا: سروگیسی سے پیدا ہوئے بچوں پر بدترین تشدد، گرفتار جوڑے پر سنگین الزامات

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سروگیسی کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں پر مبینہ تشدد کے الزام میں ایک جوڑے پر متعدد مقدمات درج کر لیے گئے، دونوں ملزمان نے عدالت میں الزامات مسترد کرتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

لاس اینجلس میں واقع حویلی نما گھر میں بچوں کی پرورش کرنے والے 66 سالہ گوجون شوان اور 39 سالہ سلویا ژانگ پر الزام ہے کہ ان کی زیرِ کفالت 16 بچوں میں سے 15 کو بار بار جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

استغاثہ نے عالیشان گھر کو ’خوفناک اذیت گاہ‘ قرار دیا ہے۔

حکام کے مطابق تحقیقات کا آغاز مئی 2025ء میں اس وقت ہوا جب 2 ماہ کا ایک بچہ سر پر چوٹ لگنے کے باعث اسپتال پہنچا، ایک آیا نے اسپتال لائے جانے سے 2 روز قبل بچے کو مارا تھا۔

گھر کی تلاشی کے دوران 3 کمروں میں نصب 32 کیمرے برآمد ہوئے، ان کمروں کو بچوں کا تعلیمی مراکز قرار دیا گیا تھا۔

 استغاثہ کے مطابق بچوں کو طویل وقت تک میزوں پر بٹھایا جاتا تھا جبکہ کیمروں کے ذریعے ان کی نگرانی اور آیا کے رویے پر نظر رکھی جاتی تھی۔

نگرانی کی ویڈیوز میں خواتین کو بچوں کو تھپڑ مارتے، پیٹتے اور سزا دیتے دیکھا گیا، الزام ہے کہ شوان نے بھی ایک بچے پر تشدد کیا اور ایک موقع پر آیا کو بچے کو مزید زور سے مارنے کی ہدایت کی۔

جوڑے پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی خواتین کو بچوں کے جسم پر نمایاں نشانات نہ چھوڑنے اور واقعات کے بارے میں جھوٹ بولنے کی ہدایت کی۔

حکام نے جولائی 2025ء میں کارروائی کرتے ہوئے تمام 21 بچوں کو جوڑے کی تحویل سے لے لیا، بچوں کی عمریں 2 ماہ سے 13 سال تک ہیں جبکہ زیادہ تر کی عمریں 1 سے 3 سال کے درمیان ہے، تمام بچے اس وقت ریاستی تحویل میں ہیں۔

استغاثہ کے مطابق جوڑے نے بعض خواتین کو سروگیسی کے لیے رضامند کرتے وقت بھی گمراہ کیا تھا، ملزمان پر گواہوں کو تفتیش میں تعاون سے روکنے کی کوشش کا الزام بھی ہے۔

جوڑے کے وکیل مچل کریمز نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوجون شوان کو اس کے غیر معمولی بڑے خاندان کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، 2 ماہ کے بچے پر تشدد کی اطلاع ملنے کے بعد متعلقہ آیا کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں 58 سالہ آیا چن می لی پر بھی بچے سے سنگین بدسلوکی کا الزام عائد کیا گیا ہے، وہ تاحال گرفتار نہیں ہو سکی اور اس کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

عدالت نے گوجون شوان اور سلویا ژانگ کے لیے فی کس 20 ملین ڈالرز زرِ ضمانت مقرر کیے ہیں جبکہ گھر میں نظر بندی اور بچوں سے رابطے پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

جرم ثابت ہونے پر شوان کو زیادہ سے زیادہ 17 سال 4 ماہ، ژانگ کو 11 سال 8 ماہ اور آیا لی کو 12 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید