• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں سر پکڑ کر سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ پاکستان میں کھیلوں کے ساتھ آخر کیا ہورہا ہے۔ میرے سامنےایشین گیمز میں شریک پاکستانی دستے کے نام، عمریں، نتائج اور انتظامات کی تفصیلات تھیں۔ ہر صفحہ ایک نیا سوال اٹھا رہا تھا۔ ہم یہاں مقابلہ کرنے آئے تھے، تجربہ حاصل کرنے یا محض قومی پرچم کے ساتھ اپنی موجودگی درج کرانے؟ تقریباً ڈھائی سو افراد کی نمائندگی کے پیچھے تیاری کا کون سا منصوبہ تھا اور اس منصوبے کا جواب دہ کون ہے؟میری نظر اعصام الحق قریشی کے نام پر ٹھہر گئی۔ چھیالیس سالہ اعصام پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر بھی ہیں اور قومی ٹیم کے کھلاڑی بھی۔ ان کی سابقہ کامیابیاں اپنی جگہ، مگر صدر کے منصب کے ساتھ انتخابی عمل کی شفافیت کا سوال زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ ان کے مکسڈ ڈبلز مقابلے میں ابتدائی شکست کی تفصیل پڑھ کر یہی خیال آیا کہ فیڈریشن اپنے نوجوانوں کے بارے میں کیا جواب دے گی؟اسی ٹیم میں چھیالیس سالہ عقیل خان بھی تھے۔ ان کی خدمات سے انکار نہیں، لیکن قومی کھیلوں کا مستقبل چند پرانے ناموں کے گرد کب تک گھومتا رہے گا؟ اعصام اور عقیل کے بعد آنے والی نسل کہاں ہے؟پھر پچپن سالہ نوشین اسلم کا نام سامنے آیا، جنہوں نے ٹیبل ٹینس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ پاکستانی خواتین کی ٹیم اپنے گروپ کے تمام مقابلے ہار کر باہر ہوگئی۔ نوشین کی ذاتی کوشش سے زیادہ بڑا سوال اس فیڈریشن سے ہے جس کے ذمہ نئے کھلاڑی پیدا کرنا ہے۔ قومی ٹیم میں جگہ حاصل کرنے کے لیے کون سے ٹرائلز ہوئے، کتنی نوجوان خواتین شریک ہوئیں اور ان کے نتائج کیا تھے؟ یہ معلومات کسی دفتر کی الماری میں بند رکھنے کی چیز نہیں۔ٹرائی تھلون میں، جس میں تیراکی، سائیکلنگ اور دوڑ شامل ہوتی ہیں، میڈیا رپورٹس میں اکتالیس سالہ بتائی گئی ثنا عارف نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان پر مشتمل پاکستانی مکس ریلے ٹیم ریس مکمل نہ کرسکی۔ تیراکی میں خطرناک مشکلات اور ڈوبنے سے بچاؤ کی ضرورت کی اطلاعات کی تصدیق اور تحقیقات ضروری ہیں۔ کھلے پانی میں اہلیت کس نے جانچی، مقابلے کی رفتار پر کتنی مشق ہوئی اور حفاظتی تیاری کیا تھی؟سب سے بڑا سوال دستے کی تعداد ہے۔ مجموعی طور پر 246افراد بھیجنے کی اطلاع تھی۔ 234 کھلاڑیوں اور متعلقہ آفیشلز میں سے 93 کی سرکاری معاونت اور 141کی سیلف فنانس شرکت کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ ان اعداد کا دستاویزی حساب جاری ہونا چاہیے۔ کس نے منظوری دی؟ ہر آفیشل کا کام کیا تھا؟ ہر کھلاڑی کے لیے کارکردگی کا ہدف کیا مقرر ہوا؟ سفر، قیام اور الاؤنسز پر کتنا خرچ آیا؟ایشیائی مقابلوں میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے نتائج پہلے سے دستیاب ہوتے ہیں۔ ہماری فیڈریشنز کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کس ایونٹ میں مقابلہ کتنا سخت ہے اور پاکستانی امیدوار کہاں کھڑے ہیں۔ جہاں مطلوبہ معیار سے واضح فاصلہ تھا، وہاں تیاری بہتر بنانے کا منصوبہ کیا تھا؟ محض دستے کی تعداد بڑھانے سے تمغوں کے امکانات نہیں بڑھتے۔ٹریک سوٹس اور جوتوں کی محرومی کی اطلاعات نے اس تصویر کو مزید افسوسناک بنادیا۔ لباس بروقت نہ پہنچنے اور ٹریک سوٹ کے لیے پینتیس ہزار روپے طلب کرنے کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ خریداری کی قیمت، وصولیاں اور تقسیم کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔ اتنے بڑے دستے کی روانگی کے انتظامات کرنے والوں سے بنیادی سامان کی فراہمی کا سوال تو پوچھا ہی جاسکتا ہے۔نورین حسین پول والٹ میں کوئی مارک درج نہ کرا سکیں اور ارشد ندیم چوتھے نمبر پر رہے۔ شکست کھیل کا حصہ ہے، مگر ہر نتیجے سے سبق نکالنا انتظامی ذمہ داری ہے۔ ارشد کی فٹنس کا فیصلہ ظاہری جسامت یا طنز سے نہیں، طبی اور تربیتی ریکارڈ سے ہونا چاہیے۔ ایک اولمپک چیمپئن کو بھی مسلسل معیاری معاونت درکار ہوتی ہے۔پاکستان نے دو چاندی اور آٹھ کانسی کے تمغے حاصل کیے، کوئی طلائی تمغہ نہیں جیتا۔ ان دس تمغوں کے لیے محنت کرنے والوں کا حق تسلیم کرتے ہوئے بھی مجموعی تیاری کا حساب مانگا جاسکتا ہے۔ بھارت نے اکیس طلائی سمیت پچاسی تمغوں کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ وسائل کا فرق اپنی جگہ، مگر ہمارے اپنے اہداف کہاں تھے؟ کن کھیلوں میں تمغے کی امید تھی اور ان کے لیے کتنی تیاری ہوئی؟اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی وزارتِ کھیل کی تحلیل ہوئی، لیکن اسپورٹس بورڈ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے تحت موجود ہے۔ رانا ثنا اللہ اس کے وزیر ہیں لہٰذا کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ نگرانی کی ذمہ داری ہی ختم ہوگئی۔ وفاق، صوبے، اولمپک ایسوسی ایشن اور فیڈریشنز اپنے اپنے حصے کا جواب دیں۔ ذمہ داری کی تقسیم اسے غائب کرنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔پاکستان کے نوجوان میدان، تربیت، کوچ اور مواقع مانگ رہے ہیں۔ انکے حصے میں انتظار نہیں، باقاعدہ تربیتی راستہ آنا چاہیے۔ ہر فیڈریشن بتائے کہ اس نے کتنے نئے کھلاڑی تیار کیے، کتنے مقابلے کرائے اور مختص رقم سے کیا نتائج حاصل کیے۔ انتظامی عہدے صرف اختیار کیلئے نہیں، نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے بھی ہوتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف سے میری گزارش ہے کہ انتخاب، اخراجات، حفاظتی تیاری اور سامان کی فراہمی کی آزاد جانچ کرائیں۔ رپورٹ عوام کے سامنے آئے اور ثابت شدہ غفلت پر کارروائی ہو۔ ساتھ ہی 2030ءکے ایشین گیمز کی تیاری آج سے شروع کی جائے۔ نوجوانوں کے ٹرائلز، مستقل تربیت، بین الاقوامی مقابلے اور سالانہ کارکردگی کے اہداف مقرر ہوں۔ اگلے چار سال بھی وضاحتوں میں گزر گئے تو اگلے مقابلوں میں اسٹیڈیم میں پھر کوئی پاکستانی سر پکڑ کر یہی سوچ رہا ہوگا کہ ہمارے کھیلوں کا ذمہ دار آخر کون ہے۔

تازہ ترین