اس وقت معاشرے میں بے معنویت بہت بڑھ گئی ہے۔ یوکرین اور روس کی زبردستی کی جنگ، عوام کی ہتھیاروں سے نفرت میں بدل رہی ہے ۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ امریکہ نے وہ لڑائی کا بم مارا کہ عزیز از جان آیت اللہ اور تمام سربراہان کو راکھ بنا دیا۔ شاید ٹرمپ کو شو ق ہے کہ مسلسل خبروں میں رہے اور کبھی اسرائیل کو وہ اکسائے تو کبھی خبر رکھے کہ حوثیوں کی یورش میں بھی حصہ دار بنے۔ ادھر پاکستان پرانی بات ہے مگر یاد ہے کہ ایک مذہبی جماعت نے ماڈل ٹاؤن میں اپنےحامیوں کا اجتماع کیا۔
اس وقت بھی پنجاب میں کسی بھی قسم کی لڑائی ہوتی تو ایک وزیر آگے بڑھتے ، جوبھی خون خرابہ ہو ان کا ہی نام آتا تھا۔ جب اسلام آباد کی جانب عمران خان نے چوکی بچھائی اور شام کو ہلا گلا ہوتا تو ساتھ میں ایک مذہبی رہنما نے بھی اپنا جھروکا بنا لیا۔
اب شام ہوتےہی کچھ بلائے گئے اور اکثر بن بلائے خواتین و حضرات، کپڑے بدل کر آ جاتے ، گیارہ بارہ بجے تک شور شرابے میں نوجوانوں کے ساتھ مل کر کبھی دھمال ڈالتے اور کبھی نعرے مارے جاتے۔ اس منظر نامے میں وہ مذہبی رہنما تو پھر مغربی دنیا میں تقریروں کے ذریعے مال سمیٹنےچلے گئے اور سیاست کی شہ زوری، اس کے حق میں دی گئی جو اونچے درجے کے لوگوں کی بات مانتا رہا۔
ایک اور بات ماننے کے لئے اس کو اور کارندوں کو باقاعدہ تربیت دی گئی۔ نقشے بنا کر دئیے گئے۔ بھانڈا پھوٹ گیا اور وہی سربراہ، منہ چھپا کے ایک تو کابل میں چائے پیتا دیکھا گیا اور سب سے بڑا مہرہ سنا ہے کہ کچھ مرض لاحق ہوا۔ اور اب 47کی پرچی والے راتوں رات، پاکستان کے تیرھویں انقلاب کے داعی ہوئے۔ 9مئی کو انقلاب لانے والے سارے چھوٹے بڑے سزاؤں کے مستحق ٹھہرے۔
ساڑھے تین سال، پاکستان میں کوئی حکومت مشکل سے ٹھہرتی ہے۔ مگردیدہ وروں نے ان کو سمجھایا کہ ٹرمپ کے آگے جھکو اور کچھ خوشامند نما جپھیاں ۔ یہ تو سارے عرب ملکوں کو ہم نے سکھا دیا۔ انڈیا ، جو سات برس سے جےرام جی کہہ رہا تھا۔ یکایک پاکستان پہ حملہ آورہوا اور چند گھنٹے بعد، جب انڈیا کے پانچ جہاز معہ پائلٹ زمین برد ہوئے تو ٹرمپ نے آگے بڑھ کر سیز فائر کروائی۔ پاکستان میں اب فوجی تا ویلات، عربی ناموں سے شناخت کی جانے لگیں۔ فتنہ الہند اور خروج کے نام پر افغانستان میں غالب آئے طالبان سے انڈیا نے دوستی کر لی اور پھر ہر روز 30یا 40طالبان، ہماری فوج کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمارے جوان بھی شہیدہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ ختم ہونے پر نہیں آتا۔
ادھر ایران کے ساتھ امریکہ نے ایسی چھیڑ ڈالی کہ ان کے جید رہنما کو پہلے دن ہی بم مار کے ، امریکا نہال ہو گیا۔ وہ ایرانیوں کی قوت اور جلال سے آگاہ نہ تھا۔ اب تک کبھی حوثیوں کے ساتھ، ایران ہی کیا، سعودی عمارات تک پہ بری نظر کیے ہے۔ پورے مشرق وسطیٰ کے ممالک جو امریکی فوجوں کے نگہبان بنے تھے۔ ان کو بھی شیخ و تفنگ کا ہوش آیا۔
پاکستان میں، ایوب خان کے زمانے سے اب تک تان ٹوٹتی نظر آئے تو مذاکرات کا ڈول ڈالا جاتا ہے۔ ویسے سب لوگ عدالتوں سے گزر چکے ہیں۔ ایک دوست کا پرانا قصہ پھر دہرا دیا جاتا ہے۔ مذاکرات بیچ میں اس لیے ہو جاتے ہیں کہ دونوں طرف ہوم ورک مکمل نہیں ہوتا۔
اب اچانک موجود حکومتوں اور چیف کمشنرکو بلدیاتی انتخابات یاد آنے لگے۔ ہو گا وہی جو ہوتا آیا ہے۔ غریبوں سے ووٹ ڈلوائیں گے اور اشرافیہ کلف لگے کپڑے پہنے سامنے آجائیگی۔ یہ سب سیاسی شعبدہ بازی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ایوب خان کے بعد، پاکستان کی سیاست پر دو خاندانوں کا غلبہ ہے۔ یہ دونوں خاندان پاکستان کو اپنی وراثت سمجھتے ہیں۔ اس لیے جب بھی نئے لوگ سامنے آتے ہیں ان کی کوئی تربیت نہیں ہوتی۔ ورنہ ہونا تو یہ چاہیے ہر علاقے کا منتخب شخص، اپنے علاقے کا بجٹ بنانے کے قابل ہو۔ نئے نظام میں ٹیکس وصولی بھی اپنے اپنےعلاقے تک مثبت انداز میں کی جائے۔بزرگوں نے بہت باریاں لے لیں اب نوجوان سامنے آئیں، خواتین اور مردوں کا برابر حصہ رکھا جائے۔ اس طرح خاندانی سیاست کی یہ بیل توڑ دی جائے۔ اسی طرح اسکول، ہسپتال اور تعلیمی ادارے ، نئے نصاب کےساتھ دئیے جائیں۔ علاقائی سطح پر چونکہ چھوٹے یونٹس ہونگے، سب پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ میں نے خود شمالی علاقہ جات کے سب پہاڑی علاقوں میں عورتوں کو اپنے تہذیبی انداز کے کھانے بناتے دیکھااور جو سیاح آئیں وہ ان کو پیش کرتی ہیں۔ انہیں سکھایا جائے کہ ہر گھر میں ایک صاف ستھرا کمرہ رکھا جائے، جہاں سیاح ٹھہر سکیں وہ بھی خوش ہونگے اور ہمارے گھروں میں ہنسی اور خوشی دونوں کا سلسلہ قائم ہو۔ چھوڑو یہ بوسیدہ سیاست آؤ نوجوانو! بلدیاتی نمائندے بنو اور ملک چلاؤ۔