• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی سرزمین نے دنیا کو صرف ایک قدیم تہذیب نہیں دی بلکہ شہری زندگی کے ایسے اصول بھی دیے جنہیں دیکھ کر آج کا انسان حیران رہ جاتا ہے۔ موہن جو دڑو تقریباً پانچ ہزار سال قبل ایک ایسا منظم شہری مرکز تھا جہاں سڑکوں کی منصوبہ بندی، مکانات کی تعمیر، پانی کی فراہمی، غسل، گندے پانی کی نکاسی اور شہری صفائی کیلئے باقاعدہ نظام موجود تھا۔ آج جب سندھ کے بڑے شہر مون سون کی بارشوں میں چند گھنٹوں کے اندر پانی میں ڈوب جاتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے ہمارے آباؤ اجداد پانی کو شہر کے لیے مسئلہ بننے سے روکنے کے اصول جانتے تھے، تو ہم جدید دور میں ان اصولوں سے کیا سیکھ رہے ہیں؟موہن جو دڑو کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اس کا منظم شہری نقشہ اور نکاسیٔ آب کا نظام شامل تھا۔

آثارِ قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں کنوؤں، غسل خانوں، نالیوں، سیوریج لائنوں اور گندے پانی کو جذب کرنے والے انتظامات کا مربوط نظام موجود تھا۔ سڑکیں باقاعدہ ترتیب سے بنائی گئی تھیں اور شہری صفائی کو محض گھر کی حدود تک محدود نہیں رکھا گیا تھا بلکہ اسے پورے شہر کے نظم کا حصہ بنایا گیا تھا۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ موہن جو دڑو کے باشندوں کے پاس آج کے دور جیسی مشینری، پمپ، جدید کنکریٹ یا کمپیوٹرائزڈ نقشے موجود نہیں تھے، لیکن ان کے پاس ایک بنیادی چیز موجود تھی:منصوبہ بندی۔وہ جانتے تھے کہ پانی کہاں سے آئے گا، کہاں جائے گا، گندا پانی کیسے نکالا جائے گا اور آبادی کے اندر صفائی کا نظام کیسے برقرار رکھا جائے گا۔ یہی وہ بنیادی سوچ ہے جس کی آج ہمارے شہروں کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

سندھ میں ہر سال مون سون آتا ہے، بارش ہوتی ہے اور پھر کئی شہروں میں وہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، نشیبی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں اور شہری کئی کئی گھنٹے بلکہ بعض اوقات دنوں تک بارش کے پانی کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں شدید بارشوں اور شہری سیلاب نے یہ واضح کیا ہے کہ موجودہ شہری انفراسٹرکچر موسمی شدت کے مقابلے میں کئی جگہوں پر ناکافی ہے۔کراچی جیسے بڑے شہر میں بارش کا پانی نکالنے کے لیے مختلف ادارے کام کرتے ہیں، لیکن جب نالے کچرے سے بھرے ہوں، قدرتی برساتی راستے تعمیرات کی زد میں آ جائیں، نکاسی کے نظام اور سڑکوں کی منصوبہ بندی ایک دوسرے سے مربوط نہ ہو اور پمپنگ اسٹیشن بجلی کی بندش سے رک جائیں تو چند گھنٹوں کی بارش بھی شہری بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

حیدرآباد میں بھی حالیہ بارشوں کے دوران پمپنگ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے پانی کی نکاسی میں مشکلات سامنے آ چکی ہیں۔ہاں موہن جو دڑو ہمیں ایک بنیادی سبق دیتا ہے: پانی کو دشمن سمجھ کر نہیں بلکہ قدرتی نظام کا حصہ سمجھ کر شہر کی منصوبہ بندی کی جائے۔

سندھ حکومت کو چاہیے کہ صوبے کے بڑے شہروں کے لیے ایک جامع مون سون ڈرینج ماسٹر پلان تیار کرے۔ اس منصوبے میں صرف موجودہ نالوں کی صفائی شامل نہ ہو بلکہ بارش کے پانی کے پورے سفر کا نقشہ بنایا جائے۔ بارش کہاں سے شروع ہوتی ہے، پانی کس سمت بہتا ہے، کہاں جمع ہوتا ہے، کہاں سے اسے قدرتی یا مصنوعی راستے کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے اور کہاں پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ان تمام سوالات کا سائنسی بنیادوں پر جواب تلاش کیا جائے۔

موہن جو دڑو کے نظام کو آج کے سندھ میں لفظ بہ لفظ نقل کرنا ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں۔ پانچ ہزار سال پہلے کی آبادی، زمین، آب و ہوا اور شہری ضروریات آج سے مختلف تھیں۔ لیکن اس تہذیب کا اصول آج بھی قابلِ غور ہے: شہر پہلے منصوبہ بندی سے بنتا ہے، پھر اس میں آبادی اور تعمیرات شامل کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ پہلے تعمیرات پھیلتی ہیں اور بعد میں سوچا جاتا ہے کہ پانی کہاں جائے گا۔

سندھ کے لیے ایک جدید بارشی پانی کے نظام میں زیرِ زمین ڈرینج، کھلے برساتی نالے، قدرتی آبی گزرگاہوں کا تحفظ، بڑے واٹر ریزروائر، ریچارج ویلز، پمپنگ اسٹیشنز، بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ہنگامی نکاسی کے راستے شامل کیے جا سکتے ہیں۔ جہاں ممکن ہو وہاں سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں ایسی سطحیں استعمال کی جائیں جو بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے کا موقع دیں۔اسی طرح ہر بڑے شہر میں واٹر میپ تیار ہونا چاہیے۔ اس نقشے میں برساتی نالوں، قدرتی گزرگاہوں، نشیبی علاقوں، پمپنگ اسٹیشنز، پانی ذخیرہ کرنے کے مقامات اور سیلاب کے ممکنہ راستوں کی مکمل نشاندہی ہو۔ نئی ہاؤسنگ اسکیم، سڑک یا کمرشل منصوبہ منظور کرتے وقت یہ بھی دیکھا جائے کہ وہ قدرتی پانی کے بہاؤ کو متاثر تو نہیں کرے گا۔

یہاں ایک اور اہم سبق موہن جو دڑو سے ملتا ہے۔ وہاں شہری صفائی اور نکاسیٔ آب کو الگ الگ چیزیں نہیں سمجھا گیا تھا۔ آج سندھ کے شہروں میں بھی بارشی پانی اور سیوریج کے نظام کو الگ اور سائنسی انداز میں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف سیوریج کی نالیوں کو برساتی پانی کے لیے استعمال کرنا طویل مدت میں مسائل پیدا کرتا ہے۔ جدید شہری منصوبہ بندی میں storm-water management کو باقاعدہ الگ نظام کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں شہری سیلاب پر ہونے والے حالیہ تجزیوں میں بھی کمزور اور پرانے انفراسٹرکچر، اداروں کے درمیان عدم رابطے اور ناکافی storm-water management کو اہم مسائل قرار دیا گیا ہے۔

سندھ حکومت کے لیے موہن جو دڑو صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ ایک زندہ سبق ہونا چاہیے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ خود موہن جو دڑو آج بھی بارش، سیلاب، نمکیات اور پانی کے مسائل سے خطرے میں ہے۔ 2022ء کی غیر معمولی بارشوں نے آثارِ قدیمہ کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے بعد نکاسیٔ آب کی بحالی اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پر خصوصی توجہ دی گئی۔ 2026ء میں بھی یونیسکو نے موہن جو دڑو کے تحفظ کے لیے مؤثر مجموعی ڈرینج نظام کو اہم ضرورت قرار دیا ہے۔

ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ موہن جو دڑو کے لوگ پانچ ہزار سال پہلے اپنے شہر کو پانی اور گندگی سے بچانے کے لیے منصوبہ بنا سکتے تھے تو آج ہمارے پاس جدید سائنس، انجینئرنگ، سیٹلائٹ میپنگ، موسمیاتی ڈیٹا اور اربن پلاننگ کے باوجود ہر مون سون میں وہی بحران کیوں پیدا ہوتا ہے؟

تازہ ترین