• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطرف 3 محققین کے الزمات پر اوپن اے آئی کی وضاحت

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

اوپن اے آئی نے 3 محققین جیسمین وانگ، میکیتا بالیسنی اور ٹومیک کورباک کی برطرفی کا دفاع کرتے ہوئے اپنے اوپر لگنے والے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

اوپن اے آئی کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تینوں محققین کو مصنوعی ذہانت کی حفاظت سے متعلق خدشات اٹھانے پر نہیں بلکہ حساس معلومات سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی پر ملازمت سے نکالا گیا۔

کمپنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ اندرونی تحقیقات کے دوران اعتماد کی سنگین خلاف ورزی سامنے آنے کے بعد تینوں کی ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل برطرف محققین نے ایک مشترکہ خط میں دعویٰ کیا تھا کہ ہمیں مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈل کی حفاظت سے متعلق خدشات اٹھانے پر ملازمت سے نکالا گیا۔

ٹومیک کورباک نے الزام لگایا تھا کہ مجھے مصنوعی ذہانت کی حفاظت پر کام کرنے والے بیرونی ادارے ایم ای ٹی آر سے رابطوں کے باعث برطرف کیا گیا جبکہ میکیتا بالیسنی کا کہنا تھا کہ تیسرے فریق کے حفاظتی اداروں سے زیادہ رابطے ہماری برطرفی کی وجہ بنے۔

اوپن اے آئی نے واضح کیا ہے کہ کمپنی میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت پر کھل کر تنقید، تحقیق اور بحث کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ایسے خدشات اٹھانے پر ملازمین کو برطرف نہیں کیا جاتا۔

کمپنی نے مزید کہا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی نگرانی ممکن بنانے کے لیے پوری صنعت کو مل کر کام کرنا ہو گا، اس مقصد کے لیے کمپنی سرمایہ کاری، تحقیقی اشاعتوں اور اوپن سورس جانچ کے طریقوں پر کام کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق اوپن اے آئی بیرونی ماہرین سے آزادانہ جائزے کے معاہدوں کو حتمی شکل دے رہی ہے اور ان کی تفصیلات جَلد جاری کی جائیں گی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید