نسل در نسل سے غزہ کی سڑکیں، بازار، اسکول، اسپتال اور عوامی مقامات روزمرہ زندگی کا بھرپور منظر پیش کرتے رہے ہیں۔ لوگ کام کرتے، تعلیم حاصل کرتے، خریداری کرتے اور دوستوں اور اہل خانہ سے ملا کرتے تھے۔
غزہ کے بیشتر مقامات ہزاروں سال پرانے اور طویل تاریخی پس منظر کے حامل تھے۔ تین سال سے جاری اسرائیلی حملوں نے 80 فیصد غزہ ملبے کا ڈھیر کردیا اور غزہ کے تاریخی مقامات کو تباہ کردیا ہے۔
یونیسکو کے مطابق غزہ میں تاریخی اہمیت کی حامل 128 عمارتیں، 14 مذہبی مقامات، نو یادگاریں، آٹھ آثارِ قدیمہ کے مقامات، دو عجائب گھر اور ثقافتی اثاثوں کے تین ذخیرے تباہ ہوچکے ہیں۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ غزہ کی عمارتیں زمین بوس ہوچکی ہیں، محلے ملبے کا ڈھیر اور واٹر اینڈ سیوریج، بجلی، گیس کا نظام برباد ہوچکا ہے۔
غزہ میں پچھلے تین برسوں میں اسرائیل کے ہاتھوں پھیلائی گئی تباہی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
غزہ کی بندرگاہ پر کبھی یہاں ماہی گیروں اور مقامی افراد کا رش ہوتا تھا لیکن آج تباہی ہی تباہی ہے۔ ہر طرف پناہ لیے ہوئے فلسطینیوں کے خیمے ہیں۔
غزہ کے ساحل کو جانے والی الرشید اسٹریٹ پر کبھی دکانوں، کیفیز، ہوٹلوں اور ریستوران کی قطاریں ہوتی تھیں۔ لیکن آج وہاں کچھ نہیں ہے۔ جو ہے وہ بےگھر فلسطینیوں کے خیمے ہیں۔
غزہ کے علاقے ریمال کے رشد الشوا کلچرل سینٹر میں نمائشیں، ثقافتی پروگرامز اور کانفرنسز ہوا کرتی تھیں۔ اسرائیلی حملوں نے کلچرل سینٹر اور گردونواح کو برباد کردیا۔
تیرہویں صدی کا مملوک محل "قصر الباشا" 2010 میں میوزم بنادیا گیا تھا۔ غزہ کا یادگار تاریخی مقام آج اسرائیلی حملوں سے تباہ ہوچکا ہے۔
غزہ میں موجود الحسینا مسجد جسے المینا مسجد بھی کہتے ہیں۔ کبھی غزہ کے ساحل کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی تھی۔ 2023 کے حملے میں اسرائیل نے مسجد مکمل شہید کردی۔
اسلامک یونیورسٹی آف غزہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کا بنیادی مرکز تھی۔اب یونیورسٹی تباہ ہوچکی۔ بچے کھچے ڈھانچے میں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
غزہ کی ساحلی پٹی کی ایک سہانی شام کا منظر ہے۔ کبھی یہاں ماہی گیروں کا رش ہوتا تھا۔ مقامی لوگ تفریح کے لیے آتے تھے، لیکن آج سب کچھ تباہ ہے اور ہر جگہ صرف خیمے نظر آتے ہیں۔
صدیوں پرانی "عظیم عمری مسجد"، جس کی تعمیر میں بازنطینی، صلیبی، مملوک اور عثمانی ادوار کے اثرات نظر آتے تھے۔ دسمبر 2023 کے اسرائیل حملوں سے یہ مسجد اب بڑی حد تک کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔
فلسطین کے سب سے پرانے اور بڑے "یرموک فٹبال اسٹیڈیم" میں 1952 سے اسپورٹس ایونٹس ہوا کرتے تھے، تاہم اب یہ اسٹیڈیم بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے خیموں کی آماجگاہ ہے۔
پانچ لاکھ مکعب میٹر پانی کی گنجائش والا "شیخ رضوان تالاب" بارش کا پانی کا ذخیرہ کیا کرتا تھا۔ جنگ سے نکاسی آب کا نظام تباہ ہوا اور آج سیوریج کا پانی تالاب کے پانی میں مل چکا ہے۔
بحیرۂ روم کے ساحل کے ساتھ 45 کلومیٹر لمبی الرشید اسٹریٹ شمالی اور جنوبی غزہ کو ملانے والی سڑک اب ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔