آج او پی ڈی میں ایک خاتون کوئی 17،18 سالہ لڑکی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی۔ خاتون تو چہرے سے ہی پریشان لگ رہی تھیں، مگر ساتھ والی لڑکی پریشان کے ساتھ خوفزدہ بھی تھی۔ جی بی بی بتائیں کیا ہوا ہے؟۔ ڈاکٹر صاحبہ...پھر وہ کچھ جھجک اور شرمندہ سے لہجے میں بولیں، ’’ڈاکٹر صاحبہ! یہ میری بیٹی عائشہ ہے، اس کو بائیں چھاتی میں گلٹی ہے اس کی تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ کب سے ہے یہ گلٹی؟ نجانے کب سے ہے، مجھے تو دو تین دن پہلے ہی بتایا ہے۔
بیٹے آپ بتائیے کتنا عرصہ ہوا ہے؟ جی ڈاکٹر! کوئی چار ماہ پھرآپ نے بتایا کیوں نہیں؟ مجھے شرم محسوس ہوتی تھی۔ اس بچی اور اس کی والدہ کو سمجھایا کہ چھاتی کہ ہر گلٹی یا گانٹھ خطرناک نہیں ہوتی، آپ پریشان نہ ہوں، پھر اس کو بریسٹ کا الٹرا ساؤنڈ اور کچھ بنیادی ٹیسٹ تجویز کیے۔ تھوڑی دیر بعد جونیئر ڈاکٹر نے بتایا کہ کل جو مریضہ آئی تھی چھاتی میں گلٹی کی شکایت لے کر،، وہ اپنی الٹرا ساؤنڈکی رپورٹ لے کر آئی ہے۔
میں نے اُنہیں اندر بلایا۔ کوئی 40-45سالہ خاتون، اداس اور متوحش چہرے کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی، رپورٹ میں بریسٹ میں چھوٹی سی گانٹھ کی تشخص ہوتی تھی۔اس نے آتے ہی کہا، ڈاکٹر میں بہت ڈر گئی ہوں۔ میری خالہ زاد بہن کا بھی بریسٹ کینسر سے انتقال ہوا تھا۔ مجھے یہ گانٹھ 6-7 ماہ سے تھی، مگر گھریلو مصروفیات اور درد نہ ہونے کی وجہ سے میں ٹال رہی تھی۔
اس کی رپورٹ دیکھی۔ غیر تسلی بخش اور مشکوک تھی، اس وجہ سے اسے بٹھا کر سمجھایا اور حوصلہ دیا اور سرجری ڈیپارٹمنٹ کو ریفر کر دیا، تاکہ اسکرینگ، بایوپسی اور علاج ہو سکے۔ چھاتی کا سرطان یا بریسٹ کینسر ایک خاموش خطرہ ہے، جسے بر وقت پہچاننا بہت ضروری ہے۔
بریسٹ کینسر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب چھاتی کےبعض خلیے غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ رسولی یا گلٹی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ بروقت تشخیص نہ ہو تو بیماری بڑھ کر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل سکتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت(WHO) کےGLOBOCAN 2022 کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے دوران تقریباً 30682 نئے بریسٹ کینسر کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر بتایا جاتا ہے کہ ہر 9 میں سے 1 عورت کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ ہے۔
پاکستان میں بریسٹ کینسر سب سے زیادہ تشخیص ہونے والا سرطان ہے۔ چھاتی کے سرطان کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے، تاہم یہ بیماری کم عمر خواتین میں بھی ہو سکتی ہے۔ بریسٹ کینسر کے خطرے کو بڑھانے کے عوامل میں:
٭ عمر میں اضافہ٭ خاندان میں چھاتی کے سرطان کی ہسٹری ٭موٹاپا (خصوصاً سنِ یاس یا مینوپاز کے بعد)٭جسمانی سرگرمی کی کمی ٭کچھ ہارمونل بیماریاں ٭کچھ موروثی جینیات٭ کم عمر ی میں ماہواری کا شروع ہونا ٭کسی بیماری کے سبب سینے پر ریڈی ایشن کی سابقہ ہسٹری چھاتی میں نمودار ہونے والی ہر گانٹھ یا گلٹی کینسر نہیں ہوتی، لیکن چھاتی میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو نظر انداز بھی نہیں کرنا چاہیے۔٭خصوصاًچھاتی میں گلٹی یا گانٹھ محسوس ہو جو پہلے سے موجود نہ ہو٭چھاتی کی شکل یا حجم میں غیر معمولی تبدیلی ٭ چھاتی کی جلد کا اندر کی طرف کھنچنا یا گڑھے سے بن جانا٭ نپل سے غیر معمولی رطوبت کا اخراج ،اندر کی طرف دھنس جانا ٭چھاتی کی جلد میں سرخی یا ساخت میں تبدیلی نظر آنا٭بغل میں گانٹھ یا سوجن محسوس ہونا ٭چھاتی میں ایسی تبدیلی یا تکلیف جو مسلسل برقرار رہے۔
یہ علامات صرف کینسر کی وجہ سے نہیں ہوتیں، مگر ان میں سے کوئی بھی علامت یا تبدیلی ہو تو ڈاکٹر سے معائنہ بہت ضروری ہے۔ چھاتی کے سرطان کے ابتدائی مرحلے میں اکثر درد کی شکایت نہیں ہوتی، اس لیے درد کا انتظار نہ کریں، اپنی چھاتی کا خود معائنہ کرنا بھی اہم ہے۔
عام خواتین کو مہینے میں ایک بار آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر دونوں چھاتیوں کی شکل، سائز اور نپلز کا معائنہ کرنا چاہیے، پھر بازو اوپر اٹھا کر سینے کی جلد میں سوجن یا غیر معمولی تبدیلی کا جائزہ لیں۔ ساتھ ہی بغل کے حصّوں کو بھی چیک کریں کہ کوئی سختی یا گلٹی وغیرہ تو نہیں۔ ڈاکٹرز پہلے طبّی معائنہ کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق الٹرا ساؤنڈ، میمو گرافی اور بایوپسی تجویز کرتے ہیں۔
بایوپسی سے حاصل ہونے والے نمونے (ٹشو) کو لیبارٹری میں چیک کر کے حتمی تشخیص کی جاتی ہے۔ جہاں تک بریسٹ کینسر کے علاج کے طریقے کا تعلق ہے، تو اس کا انحصار بیماری کی قسم، بیماری کا مرحلہ، مریض کی مجموعی صحت اور دیگر طبی حالات پر ہوتا ہے، جس میں سرجری ، ریڈیو تھراپی ،ہارمونل تھراپی، کیمو تھراپی ، ٹارگیٹڈ تھراپی (Targeted Therapy) اور دیگر ادویہ شامل ہیں۔
بریسٹ کینسر سے مکمل بچاؤ تو ہمارے اختیار میں نہیں، کیوں کہ کچھ عوامل جیسے عمر اور جینیاتی عوامل، تاہم کچھ اقدامات بیماری کی شدت اور سنگین نتائج کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جیسے٭ صحت مند طرزِ زندگی اپنانا٭ باقاعدہ ورزش یا واک ٭ مناسب وزن رکھنا ٭بچّوں کو اپنا دودھ پلانا ٭تمباکو نوشی سے اجتناب ٭خود چھاتی کا معائنہ اور اگر کوئی تبدیلی محسوس ہو تو ہرگز نظر انداز نہ کریں اور نہ ہی خود تشخیص کرنے کی کوشش کریں۔
… اسکرینگ …
40 سے 44 سال یا 45 سے 54 سال کی عمر میں سال میں ایک بار اور 55 سال سے زیادہ عمر میں ہر دو سال کے بعد اسکرینگ ضرور کروانی چاہیے ۔عورت کی صحت صرف اس کی اپنی زندگی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے خاندان کی صحت، خوشی اور مستقبل اس کی صحت سے جڑا ہوتا ہے۔
کبھی کبھی ایک چھوٹی سی رسولی یا گلٹی پوری زندگی بدل دیتی ہے، لیکن اس گلٹی کی بروقت تشخیص ہو جائے تو علاج اور مرض سے نجات کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے ہر عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم سے باخبر رہے۔ چھاتی میں پیدا ہونے والی کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو نظر انداز نہ کرے اور ڈاکٹر سے بروقت مشورہ کرے اور خوف یا سماجی دباؤ کی وجہ سے علاج میں تاخیر نہ کرے۔
بریسٹ کینسر سے ڈرنا نہیں ہے، اسے سمجھنا ہے۔ شرمانا نہیں ،بتانا ہے۔ اسے چھپانا نہیں، بروقت پہچاننا ہے۔ اکتوبر کا مہینہ ’’گلابی ا’مید‘‘ کا مہینہ کہلاتا ہے۔ اکتوبر کے شروع ہوتے ہی دنیا بھر میں ایک خوبصورت رنگ نمایاں ہو جاتا ہے۔گلابی رنگ یہ صرف ایک رنگ نہیں بلکہ ان لاکھوں بہادر خواتین کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہے، جو بریسٹ کینسر سے لڑ رہی ہیں۔
ان خواتین کی یاد ہے جو اس بیماری کی وجہ سے ہم سے بچھڑ گئیں اور ان تمام ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے اُمید کا پیغام ہے، جو اپنی صحت کے بارے میں آگاہی حاصل کررہی ہیں۔ بریسٹ کینسر کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت آگاہی اور بروقت تشخیص ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سی خواتین چھاتی میں گانٹھ یا غیر معمولی تبدیلی محسوس کرنے کے باوجود شرم، خوف، لاعلمی، گھریلو مصروفیات یا اس خیال سے کہ ’’خود ہی ٹھیک ہو جائے گی‘‘ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتیں، مگر کبھی کبھی یہ تاخیر بیماری کو اس مرحلے پر پہنچا دیتی ہے جہاں علاج زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
بریسٹ کینسر کا نام خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ آگاہی پیدا کرنے کے لیے لینا ضروری ہے۔ پاکستان میں اس وقت ہر تین خواتین میں ہونے والے کینسر کے کیسز میں ایک کیس بریسٹ کینسر کا ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ہزاروں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور خاندانوں کی زندگیوں سے جڑی ایک حقیقت ہے۔ پاکستان میں باقی مسائل کے ساتھ اخراجات کے لیے وسائل یا طبّی سہولتوں تک محدود رسائی کی وجہ سے بھی مریض ڈاکٹر تک دیر سے پہنچ پاتے ہیں۔
کبھی کبھی ایک چھوٹی سی گلٹی یا گانٹھ ایک سوال بن کر سامنے آتی ہے۔کیا ہم نے اسے بروقت پہچانا؟ آئیے، اس اکتوبر میں اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور سہیلیوں سے صرف ایک سوال کریں: ’’کیا تم نے اپنی چھاتی کی صحت کے بارے میں کبھی ڈاکٹر سے بات کی ہے؟‘‘ کیوں کہ، بریسٹ کینسر کے خلاف جنگ صرف اسپتال میں نہیں لڑی جاتی یہ جنگ آگاہی کے ایک لفظ، بروقت معائنے اور ایک درست فیصلے سے بھی جیتی جا سکتی ہے۔ پنک اکتوبر کا واضح پیغام ہے خوف نہیں، آگاہی، شرم نہیں، بات چیت، تاخیر نہیں، بروقت تشخیص۔