قارئین !اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت دنیا کا نمبر ون دہشتگرد ملک ہے اور اسے یہ لیبل چند سال قبل خطے میں ہونیوالی دہشتگردی کے حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی خصوصی سروے رپورٹ میں دیا تھا۔اس وقت بھی بھارت افغان طالبان رجیم کی معاونت سے پاکستان میں اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہے جسکے ٹھوس ثبوت پاکستان اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں کو فراہم کر چکا ہے۔ گزشتہ سال بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں ہی پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا اور اسے جری و بہادر افواج پاکستان کے ہاتھوں منہ کی کھانا پڑی۔ فالس فلیگ آپریشن پر مبنی یہ بھارتی جھوٹ بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا اور پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھاتے ہوئے وہ امریکی صدر ٹرمپ سے جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوا مگر اس کی خصلتوں میں کوئی فرق نہیں آیا اور وہ پاکستان کے خلاف اپنے جھوٹے بیانیوں کو بروئے کار لانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔اب پھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ایک مبینہ آپریشن میں پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو دہشتگرد قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا مگر اگلے ہی مرحلے میں محمد آصف زندہ سلامت پاکستانی میڈیا کے سامنے موجود تھے۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا غیرمعمولی واقعہ ہے جس نے بھارتی فوجی دعوؤں اور ان کے ساتھ چلنے والے میڈیا بیانیے کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ اس تناظر میں اس کی حالیہ سازش محض ایک شخص کی شناخت کا معاملہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے پہلے سے کشیدہ ماحول میں بھارت کے ریاستی بیانیے کے خوفناک استعمال کا بھی ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ پہلے ہی کئی دہائیوں سے کشمیر سمیت متعدد تنازعات میں الجھا ہوا ہے جسکے فالس فلیگ آپریشن جیسے من گھڑت بیانئے سے دونوں ملکوں کے عوام کے مابین بداعتمادی کی فضا مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کا واضح موقف ہے کہ وہاں موجود دہشتگرد تنظیموں اور ان کے ٹھکانوں سے پاکستان کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان متعدد بار افغان حکام سے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ دوسری جانب افغانستان ایسے الزامات کی تردید کرتا ہے تو اس معاملے کا مستقل حل محض الزام تراشی میں نہیں بلکہ ٹھوس عملی اقدامات، مؤثر سرحدی انتظام اور مسلسل سفارتی رابطے سے ہی ممکن ہے۔بھارت کے بارے میں پاکستان کا ریاستی موقف تو بالکل واضح ہے کہ نئی دہلی پاکستان کیخلاف منفی سرگرمیوں اور دہشتگردی کے معاملات میں ملوث عناصر کی سرپرستی کرتا ہے۔بے شک کشمیر کا مسئلہ کسی فالس فلیگ آپریشن ، میڈیا مہم یا عسکری کارروائی سے حل نہیں ہو سکتا۔ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، خطے میں پائیدار امن اور پاکستان بھارت تعلقات کی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ واقعات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے بجائے حقائق سامنے لائے جائیں۔پاکستان کو ہر صورت اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر چوکس رہنے کی ضرورت ہے مگر ساتھ ہی عالمی برادری کو بھی جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بنیادی اسباب پر توجہ دینا ہوگی۔دوسری جانب بھارتی سکیورٹی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے2 نہتے پاکستانی شہریوں کی شہادت اور ایک کا زخمی ہونا اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا اور امن کے قیام کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنا ہے۔ جو لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے، جن کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہ تھا اور جو کسی تنازعے کا حصہ نہیں تھے انہیں نشانہ بنانا نہ صرف انسانی اقدار کی پامالی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ایک عرصے سے معمول بن چکی ہیں۔ ہر بار اسلام آباد نے تحمل کا مظاہرہ کیا، سفارتی ذرائع سے احتجاج کیا اور مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی مگر نئی دہلی کی قیادت نے ہر مرتبہ اسے کمزوری سمجھا۔ پاکستان کا مؤقف روزِ اول سے واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کی ضمانت دیتی ہیں مگر بھارت نے 8 دہائیوں سے ان قراردادوں کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔ جب کوئی ریاست عالمی اداروں کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرے اور بے گناہوں کا خون بہائے تو دنیا کی خاموشی بجائے خود ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ اس صورتحال میں اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور با اثر ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر ان اداروں کا وجود دنیا میں انصاف اور امن کے قیام کیلئےہے تو پھر انہیں محض بیانات اور تشویش کے اظہار سے آگے بڑھنا ہو گا۔ جوہری طاقت کے حامل 2ملکوں کے درمیان کشیدگی کا برقرار رہنا پوری دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست کی حیثیت سے ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے لیکن اپنے شہریوں کے خون کا حساب مانگنا اور اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا اسکا جائز حق ہے۔ ہماری مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور قوم اپنے شہیدوں کے لہو کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اس واقعے کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کرے۔ دفترِ خارجہ کو چاہیے کہ ثبوتوں اور شواہد کیساتھ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی و بین الاقوامی فورمز سے رجوع کرے۔