• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسلم لیگ ن اس حوالے سے ایک خوش قسمت جماعت ہے کہ اسے ایسے کارکن ملے جنہوں نے اپنی پارٹی اور قیادت سے تعلق مشکل ترین دنوں میں بھی قائم رکھا۔ اقتدار آیا تو ساتھ تھے، اقتدار گیا تو بھی ساتھ رہے۔ کسی نے جیل دیکھی، کسی نے روزگار متاثر ہوتے دیکھا، کسی نے پردیس میں دھمکیاں برداشت کیں۔ ان کارکنوں کی داستانیں لکھی جائیں تو کئی کتابیں بن سکتی ہیں۔ آج انہی میں سے ایک کہانی کا پردہ اٹھاتے ہیں۔

ذرا تصور کی اسکرین پر پہلا منظر دیکھیے۔ نوے کی دہائی ہے عام انتخابات کا دور ہے ،ایک دیوار ہے اور سامنے کھڑا نوجوان۔ ہاتھ میں نواز شریف کا پوسٹر، آنکھوں میں امید۔ وہ پوسٹر لگاتا ہے، ہتھیلی سے سلوٹیں درست کرتا ہے، پھر پیچھے ہٹ کر دیکھتا ہے۔ شاید دل کو تسلی ہوتی ہے کہ اپنے پسندیدہ رہنما کے لیے کچھ تو کیا۔یہ نوجوان راشد نصر اللہ ہے۔اسے کیا خبر کہ یہ کاغذ اس کی زندگی کا مستقل حوالہ بن جائے گا۔ ابھی کوئی عہدہ نہیں، کسی منصب کی یقین دہانی بھی نہیں۔ ایک کارکن ہے اور اس کی محبت۔ وہ اپنے حصے کا کام کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش بھی کسی بڑے خواب کی تکمیل میں مدد دے گی۔

اب تصور کی اسکرین پر دوسرا منظر ابھرتا ہے۔ سامنے لندن ہے۔ تعلیم، محنت اور مستقبل بنانے کی خواہش۔ بہتر روزگار، کاروبار اور آسودہ زندگی کے امکانات موجود ہیں۔ مگر پاکستان اور نواز شریف سے راشد کا تعلق برقرار رہتا ہے۔پوسٹر لگانے والا کارکن اپنے رہنما کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ نواز شریف کے لندن میں قیام کے دوران وہ ان کے ذاتی سیکریٹری کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ جس چہرے کو کبھی دیوار پر سجاتے تھے، اب اسی شخص کے ساتھ روزمرہ کے معاملات میں مصروف ہیں۔ قربت کے ساتھ اعتماد آتا ہے، لیکن ذمہ داریوں کا بوجھ بھی بڑھتا ہے۔

تیسرا منظر اچانک دل کی دھڑکن تیز کر دیتا ہے۔ستمبر 2022ءمیں لندن میں دفتر جاتے ہوئے راشد پر حملے کی خبر سامنے آتی ہے۔ ان کی پولیس شکایت کے مطابق، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور نواز شریف کی حمایت چھوڑنے کی دھمکی دی گئی۔ سیاسی وابستگی اب ذاتی سلامتی کا سوال بن چکی تھی۔ایسے واقعے کے بعد اگلی صبح گھر سے نکلنا بھی آسان نہیں رہتا۔ راستہ وہی ہوتا ہے، مگر آدمی کی نگاہ بدل جاتی ہے۔ اہل خانہ کی پریشانی الگ ہوتی ہے۔ لوگ خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، جبکہ جس پر گزرتی ہے اسے اسی شہر میں زندگی جاری رکھنی ہوتی ہے۔راشد کی نواز شریف سے وابستگی جاری رہتی ہے۔

چوتھے منظر میں ان کی زندگی کا رخ پاکستان کی طرف مڑتا ہے۔ لندن میں آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں، لیکن وطن میں نئی ذمہ داریاں منتظر ہیں۔ بیرون ملک بسنے والا جانتا ہے کہ واپسی کے ساتھ برسوں کی محنت، تعلقات اور مستقبل کے منصوبوں کو دوبارہ ترتیب دینا پڑتا ہے۔راشد پاکستان آ جاتے ہیں۔ مریم نواز انہیں اپنا معاون خصوصی بناتی ہیں اور زکوٰۃ و عشر کی ذمہ داری ملتی ہے۔ نواز شریف کے ساتھ تعلق بھی برقرار رہتا ہے۔ اب ان کے سامنے کسی بیوہ کی ضرورت، کسی بچے کی تعلیم اور کسی گھر کے چولہے کی فکر ہے۔ اعتماد کو خدمت میں بدلنے کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ جو اب تک کامیابی سے جاری ہے۔

راشد کی کہانی مجھے نہال ہاشمی کی یاد دلاتی ہے، جن کی نواز شریف سے رفاقت تین دہائیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ کراچی میں، جہاں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی گرفت مضبوط تھی، نواز شریف کا نام لے کر کھڑا ہونا آسان نہیں تھا۔ نہال ہاشمی نے اسی ماحول میں مسلم لیگ ن کا پرچم اٹھایا اور اپنی شناخت برقرار رکھی۔پھر اکتوبر 1999 آیا۔ نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی، وہ گرفتار ہوئے اور جنرل پرویز مشرف کی آمریت قائم ہوگئی۔ نہال ہاشمی ان کارکنوں میں شامل تھے جو آواز بلند کرتے رہے۔ قانونی راستے تلاش کرنا، عدالتوں کے چکر لگانا اور گرفتار قائد تک ساتھیوں کی رسائی ممکن بنانا ان کی جدوجہد کا حصہ تھا۔نہال ہاشمی نے بعد میں خود بھی سختیاں دیکھیں۔ توہین عدالت کے مقدمے میں قید ہوئی، سیاسی مشکلات آئیں اور پارٹی کے ساتھ تعلق میں بھی دشوار مراحل گزرے۔ تاہم ان کا سفر اسی جماعت کے ساتھ جاری رہا۔ پہلے سینیٹ اور پھر گورنر سندھ کا منصب ملا۔ پرانے کارکن پر اعتماد کا اظہار پوری جماعت کیلئے حوصلے کا سبب بنتا ہے۔

جاپان میں ملک نور اعوان کی کہانی بھی اسی سلسلے کی ایک دردناک کڑی ہے۔ شائع شدہ بیان کے مطابق، جولائی 2018 میں نواز شریف کے ساتھ پاکستان پہنچنے کے بعد انہیں لاہور ایئرپورٹ سے اٹھایا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں مردہ سمجھ کر سرحد کے قریب پھینک دینے کی تفصیل بھی بیان ہوئی ہے۔ وہ بچ گئے، مگر جسمانی تکلیفیں ان کے ساتھ رہیں۔اتنی تکلیفیں برداشت کرنے کے باوجود ملک نور اعوان کی نواز شریف سے محبت میں کمی نہیں آئی۔ تشدد کے زخم اور جسمانی تکلیفیں اپنی جگہ، مگر وہ آج بھی اسی جوش سے نواز شریف کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ ان کی یہ ثابت قدمی بتاتی ہے کہ اپنے قائد سے ان کا تعلق کتنا گہرا ہے۔

پھر جاپان میں ایک خوبصورت منظر سامنے آیا۔ مریم نواز ایک سرکاری دورے پر جاپان آئیں اور اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کرملک نور اعوان کے گھر پہنچیں، ان کی اہلیہ اور بچوں سے ملیں اور ان کے نواسے کو گود میں لیا۔ قیادت کی یہ آمد محبت اور پذیرائی ایک جانثار کارکن اور قائدین کے درمیان گہرے رشتے کا اظہار تھی۔ شاید ایسے لمحے تکلیف تو مٹا نہیں سکتے، مگر دل کو تسلی دیتے ہیں کہ تعلق یک طرفہ نہیں۔امید ہے مستقبل میں ملک نور اعوان جیسے کارکنوں کی خدمات کو مزید توجہ ملے گی۔ راشد نصر اللہ، نہال ہاشمی اور ملک نور اعوان جماعت کی اجتماعی یادداشت ہیں۔ ان کی قدر سے اس نوجوان کو بھی حوصلہ ملتا ہے جو آج کسی دیوار پر پوسٹر لگا رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی آواز کبھی اپنے قائد تک پہنچے۔

تازہ ترین