• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تصور کیجیے، ایک صُبح ایک ماں اپنے دو سالہ بچّے کو گود میں اٹھائے سرحدی گزرگاہ پر کھڑی ہے۔ پیچھے وہ گاؤں ہے، جسے وہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ آئی ہے اور سامنے ایک نئی زندگی کی نامعلوم راہ۔ اُس کی گود میں بچّہ نہ رو رہا ہے، نہ بِیمار ہے، وہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن اُس کے حصّے میں وہ دو قطرے نہیں آئے، جو اُسے عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتے تھے۔ اور وجہ والدین کا انکار نہیں، وجہ یہ ہے کہ جس دن ویکسی نیشن ٹیم اُس کے گاؤں پہنچی، اُس دن یہ خاندان سفر میں تھا۔ اور جس دن یہ خاندان شہر پہنچا، وہاں مہم ختم ہوچُکی تھی۔

یہ ایک بچّہ نہیں، ہزاروں بچّے ہیں، جو اس وائرس کے لیے دروازہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں، جسے دنیا نے تقریباً شکست دے دی ہے۔ سوال یہ ہے، آخر کیوں؟ اگر دنیا نے امریکا سے افریقا، یورپ سےجنوب مشرقی ایشیا تک، ہرجگہ اس وائرس کو شکست دے دی، تو یہ دو ممالک ہی کیوں پیچھے رہ گئے؟ کیا یہ ویکسین کی ناکامی ہے؟ نہیں۔ کیا یہ علم کی کمی ہے؟ نہیں۔ یہ کہانی ویکسین کی نہیں، نظام کی ہے۔ یہ کہانی اُن بچّوں کی ہے، جو کسی نہ کسی سبب دو قطروں سے محروم رہ گئے۔ سفر، غربت، خوف، سرحدوں یا کم زور نظامِ صحت کے باعث۔ اور یہ کہانی اُس آخری جنگ کی ہے، جس کا اختتام باقی ہے۔

ہر سال 24 اکتوبر کو دنیا بھرمیں ’’پولیو کے انسدادکا عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے (امسال یہ یوم اس تھیم (عزم ) کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ ’’ایک دن، ایک ہی مقصد: پولیو کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ‘‘) یہ تاریخ DR. Jonas Salk کی پیدائش کی یاد دلاتی ہے، وہ سائنس دان، جس نے1955 ء میں پولیو ویکسین تیار کرکے دنیا بھر کے لاکھوں بچّوں کو معذوری سے بچایا۔ یہ دن منانے کا مقصد محض ایک مہم چلانا نہیں، یہ یاد دلانا ہے کہ دنیا نے ایک ایسی بیماری کے خلاف تقریباً ناممکن فتح حاصل کی، جو کبھی ہر برِاعظم کے ہر گھر کا خوف تھی، لیکن یہ مکمل فتح نہیں۔

دنیا کے 125 سےزائد ممالک، جہاں 1988 ء میں ہر سال اندازاً 350,000 بچّے مفلوج ہوجاتے تھے، آج پولیو سے پاک ہیں۔ صرف دوممالک محفوظ نہیں، پاکستان اور افغانستان۔ جہاں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 اب بھی گردش کررہا ہے۔ یہ دونوں ممالک، درحقیقت ایک وبائی خطّے کی مانند ہیں کہ کوئی بھی وائرس سرحدوں کونہیں جانتا۔

جینومک سیکوینسنگ سے ثابت ہوچُکا ہے کہ دونوں ممالک میں پائے جانے والے وائرس کے 85 فی صد سے زیادہ نمونے آپس میں جینیاتی طور پر جُڑے ہوئے ہیں، یعنی وائرس دونوں طرف یک ساں طور پر سفر کرتا ہے۔ کوئٹہ سے قندھار اور پشاور سے ننگرہار تک پھیلے یہ ٹرانزٹ کوریڈورز روزانہ ہزاروں افراد کی آمدورفت کے گواہ ہیں۔

کچھ مہاجر ہیں، کچھ مزدور، کچھ وہ خاندان، جو جنگ، غربت یا بے گھری کے باعث بار بار ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور یہی نقل وحرکت وائرس کی زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک مُلک کا نہیں، یہ ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ جب ایک طرف ویکسی نیشن مہم تیز ہوتی ہے، تو وائرس دوسری طرف کی غیر ویکسینیٹڈ آبادیوں میں پناہ لے لیتا ہے، اور جب سرحدیں کُھلتی ہیں، تووہ واپس آجاتا ہے۔

سو، پولیو کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک مل کر، ایک حکمتِ عملی کے تحت، ان سرحدی کوریڈورز پر کام کریں کہ جب تک وائرس کو دونوں طرف یک ساں طور پر روکا نہیں جائے گا، کوئی بھی محفوظ نہیں۔ 2021ء میں دونوں ممالک میں مجموعی طور پر صرف 5 کیسز رپورٹ ہوئے، یعنی تاریخ میں سب سے کم، مگر یہ کمی کووِڈ۔19 کی سرحدی بندشوں کا مصنوعی نتیجہ تھی، حقیقی فتح نہیں۔ چارسال بعد،2025 ء میں یہ تعداد 52 تک پہنچ گئی۔

پاکستان میں 31 اور افغانستان میں 21۔ یعنی جیسے ہی سرحدیں کھلیں، وائرس واپس آ گیا۔ سبق واضح ہے، صرف پولیو کے شکار بچّوں کی گنتی سے پوری تصویر نہیں بنتی۔اور یہی وہ نکتہ ہے، جس میں پولیو کی اصل کہانی چُھپی ہوئی ہے۔

واضح رہے، پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر بچّے مفلوج نہیں ہوتے، 200 میں سے ایک بچّہ فالج کاشکار ہوتا ہے، جب کہ باقی تمام علامات کے بغیر وائرس پھیلاتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند فالج کے کیسز کا مطلب یہ نہیں کہ وائرس چند بچّوں ہی تک محدود ہے۔

سیوریج کے نمونے، ماحولیاتی نگرانی ثابت کرتی ہے کہ جہاں کوئی بچّہ مفلوج نہیں ہوا، وہاں بھی وائرس خاموشی سے گردش کررہا ہے اور یہ خاموش پھیلاؤ صرف ویکسین سے انکار کی وجہ سے نہیں۔ اصل مسئلہ وہ بچّے ہیں، جو مہم کے وقت گھر پر موجود نہیں تھے۔ اور یہی متحرک، مہاجر آبادیاں سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

ایک خاندان آج کوئٹہ میں ہے، کل چمن میں اور پرسوں افغانستان میں۔ پولیومہم مخصوص وقت میں مختلف جگہوں تک پہنچتی ہے، لیکن اگرکوئی خاندان اُس وقت وہاں موجود نہ ہو، تو بچّہ قطروں سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی لیے سرحدی گزرگاہوں، بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنز پر ٹرانزٹ ویکسی نیشن مزید اہم ہوجاتی ہے۔ نیز، ہمارے حفاظتی ٹیکاجات کے پروگرام میں بھی کئی کمیاں ہیں۔

عالمی سطح پر ڈیپتھیریا، ٹیٹنس اور پرتھسس (Pertussis) ویکسین کی تیسری خوراک کی کوریج تقریباً 85 فی صد ہے، لیکن ہمارے یہاں پنجاب کے بعض اضلاع میں اس کی کوریج 80 فی صد سے اوپر، جب کہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصّوں میں بہت کم ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ’’صفر خوراک والے بچّوں‘‘ کی تعداد بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

یعنی وہ شیرخوار، جنہیں کبھی کوئی بنیادی ویکسین ملی ہی نہیں۔ ایسے بچّوں کی قوت مدافعت بہت کم زور ہوتی ہے، یہاں تک کہ پولیو کے قطرے بھی مکمل اثر نہیں کرتے۔ اس لیے پولیو کا خاتمہ صرف ’’دو قطرے‘‘ پلانے سے ممکن نہیں،’’مضبوط بنیادی نظامِ صحت‘‘ لازم ہے۔

باہمی اعتمادکا فقدان بھی مرض کے خاتمے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، صرف کوئٹہ بلاک میں56 فی صد انکار کی وجہ ویکسین کی حفاظت سے متعلق پائی جانے والی مختلف غلط فہمیاں ہیں۔ اپریل 2019 ء میں پشاور میں محض ایک جعلی ویڈیو نے 45,000 والدین کو انکار پر مائل کیا۔ جب کہ کئی پس ماندہ کمیونٹیز اجتماعی طور پر پولیو ویکسین سے انکار کو، اپنے بنیادی سہولتوں سے محرومی کے مطالبات منوانے کا ہتھیار بھی بناتی ہیں۔

پولیو کے خلاف جنگ کے اصل مجاہد وہ ہیں، جو روزانہ گھر گھر جاتے ہیں، خاص طور پر وہ خواتین ہیلتھ ورکرز، جو دشوار گزار،حسّاس علاقوں میں جا کر بچّوں کو قطرے پلاتی ہیں۔ گرچہ پاکستان نے300,000 سے زائد فرنٹ لائن کارکن تعینات کیے ہیں، لیکن یہ راستہ کسی کے لیے بھی آسان نہیں۔ سیکیوریٹی کی فراہمی کے باوجود اب تک 100 سے زیادہ پولیو ورکرز دہشت گردی کے مختلف واقعات کا شکار ہوچُکے ہیں۔

حکومت نے نیشنل ایمرجینسی آپریشنز سینٹر کے تحت ایک منظم کمانڈ ڈھانچا قائم کیاہے،جس میں فوج کے ساتھ ہیلتھ ورکرز اور بین الاقوامی شراکت دار شامل ہیں۔ 120 سے زیادہ مقامات پر گندے پانی کی ماحولیاتی نگرانی کی جا رہی ہے۔

سرحدی گزرگاہوں، ریلوے اسٹیشنز اور ٹول پلازاز پر ٹرانزٹ ویکسی نیشن ٹیمز لاکھوں متحرک بچّوں کو قطرے پلارہی ہیں۔ مقامی خواتین ورکرز کے ذریعے اعتماد بحال کرنے اور ’’صفرخوراک بچوں‘‘ کی ڈیجیٹل رجسٹریشن جیسے اقدامات بھی کیے گئےہیں۔

یعنی منظرنامہ مکمل تاریک نہیں، کام ہو رہا ہے، مگر منزل ابھی بھی دُور ہے۔ پولیو ویکسین کےقطروں (OPV) سے متعلق بس اتنا جان لیں، یہ آنتوں میں مدافعت پیدا کرکے وائرس کی منتقلی روکتے ہیں، جب کہ انجیکشن والی ویکسین (IPV) فالج سے تحفّظ دیتی ہے اور زیادہ خطرے والے ماحول میں بچّوں کو متعدد خوراکیں دینے کی وجہ ویکسین کی خرابی نہیں، اُن کو میسّر سخت حیاتیاتی ماحول کی تلافی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مکمل کام یابی کیسے حاصل ہو، تو اس کے چار مراحل ہیں۔ پہلا، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار ہم آہنگی، دونوں ممالک کوایک حکمتِ عملی کے تحت، ایک ہی وقت میں مہمات چلانی ہوں گی۔

دوم، متحرک اور صفر خوراک بچّوں کی بہتر شناخت، ٹرانزٹ پوائنٹس پر رجسٹریشن، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور ٹیمز کی مؤثر تعیناتی۔ سوم، معمول کے حفاظتی ٹیکا جات، بنیادی نظامِ صحت کی مضبوطی، تاکہ پولیو مہم تنہا نہ لڑے۔ اور چہارم، مقامی سطح پر علماء کرام، کمیونٹی اور خواتین ہیلتھ ورکرز کے ذریعے اعتماد کی مکمل بحالی۔ نیز، پولیو ورکرز کی حفاظت بھی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

یاد رکھیں، دنیا نے پولیو کے خلاف وہ کر دکھایا ہے، جسے ایک وقت میں ناممکن سمجھا جاتا تھا اور یہ کوئی معمولی کام یابی نہیں۔ صحتِ عامہ کےضمن میں یہ بہت بڑی فتح ہے، لیکن ہر فتح کا آخری قدم سب سے بھاری ہوتا ہے۔ اور یہ قدم صرف ویکسین سے نہیں، نظام کی اصلاح، کمیونٹی کےاعتماد اورسرحدپارہم آہنگ کوششوں سے اُٹھے گا۔

آج بھی یہ جنگ صرف پاکستان، افغانستان کی نہیں، پوری دنیا کی ہے۔اور24 اکتوبر کا عالمی یوم بھی صرف ایک مہم، ایک نعرے کا دن نہیں۔ یہ اِس عہد کا دن ہے کہ دنیا کو اس وائرس سے ہر صُورت آزاد کروانا ہے، کیوں کہ جب تک یہ دنیا میں کہیں بھی سانس لے رہا ہے، نہ جنگ ختم ہوگی اور نہ ہی دنیا محفوظ۔

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید