غربت کسی قوم کا مقدر نہیں ہوتی، یہ اکثر غلط معاشی ترجیحات، کمزور حکمرانی، سیاسی عدم استحکام اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا نتیجہ ہوتی ہے۔ پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف اشرافیہ کیلئے مراعات، بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے اور حکومتی اخراجات ہیں، تو دوسری طرف عام آدمی کے لئے آٹا، بجلی، گیس، علاج اور بچوں کی تعلیم کا حصول روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی بینک کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت سے متعلق رپورٹ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کے لئے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہمارے خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم آمدن پر زندگی گزارنے والے افراد میں سے تقریباً نصف پاکستان میں رہتے ہیں۔ یہ فرق معمولی نہیں۔ دنیا میں غربت بڑھنے کی وجوہات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وبا نے لاکھوں افراد کے روزگار کو متاثر کیا، روس یوکرین جنگ نے خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا، موسمیاتی تبدیلی نے زرعی معیشتوں کو نقصان پہنچایا اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے متعدد حکومتوں کی سماجی شعبوں پر سرمایہ کاری کی صلاحیت محدود کر دی۔ پاکستان کی کہانی بھی تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ ہمارے پاس زرخیز زمینیں ہیں، چار موسم ہیں، دریا ہیں، معدنی وسائل ہیں، نوجوان افرادی قوت ہے اور دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے محنتی پاکستانی موجود ہیں۔ اسکے باوجود ملک کی ایک بڑی آبادی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس صنعتیں کم، سرمایہ محدود اور انتظامی مسائل بہت زیادہ تھے۔ ابتدائی عشروں میں زرعی پیداوار، صنعت کاری اور بیرونی امداد کے ذریعے معاشی ترقی حاصل کی گئی۔ 1980ء کی دہائی میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات، بیرونی مالی معاونت اور زرعی و صنعتی سرگرمیوں نے معیشت کو سہارا دیا۔ 1990ء کی دہائی میں سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی، قرضوں اور کمزور معاشی پالیسیوں نے ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔ 2000ء کی دہائی کے بعض برسوں میں معاشی نمو اور غربت میں کمی کے رجحانات سامنے آئے۔ تاہمبعد کے برسوں میں توانائی کا بحران، دہشت گردی، سیاسی کشمکش، عالمی معاشی جھٹکے اور قدرتی آفات نے مشکلات بڑھائیں۔ 2020ء کے بعد کورونا وبا، 2022ء کے تباہ کن سیلاب، روپے کی قدر میں کمی اور شدید مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی بچتیں ختم کر دیں۔ عالمی بینک کی ستمبر 2025ء کی غربت سے متعلق تشخیص کے مطابق قومی غربت کی شرح 2001-02ء میں 64.3فیصد تھی، جو 2018-19ء میں21.9فیصد تک آ گئی، لیکن 2024ء تک دوبارہ تقریباً 25 فیصد تک پہنچ گئی۔
اکتوبر 2026ء کی رپورٹ اس بحران کی ایک نئی تصویر سامنے لاتی ہے۔ پاکستان میں یومیہ تین ڈالر کی بین الاقوامی غربت کی حد کے تحت غربت کی شرح 2018-19 ء سے 2024-25ء تک 6.4فیصد پوائنٹس بڑھی۔ یہ اضافہ محض عالمی حالات کا نتیجہ قرار دیکر حکومتی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی بحران ضرور اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن ان کا سامنا کرنے کے لیے حکومتوں کو اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاکستان میں غربت کے سیاسی اسباب پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔ ہماری سیاست میں اکثر اقتدار کی تبدیلی کو قومی ترقی کا متبادل سمجھ لیا جاتا ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، منصوبوں کے نام بدلتے ہیں اور ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں، مگر عوام کے بنیادی مسائل اپنی جگہ رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں طویل المدتی معاشی حکمت عملی پر اتفاق کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو ناکام ثابت کرنے میں توانائیاں صرف کرتی ہیں۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوف زدہ ہوتا ہے، صنعت کار نئی سرمایہ کاری سے گریز کرتا ہے اور روزگار کے مواقع محدود رہتے ہیں۔
دوسری بڑی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ ایک طرف عام شہری بجلی، گیس، خوراک اور ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہے، دوسری طرف طاقت ور طبقات کی مراعات اور ٹیکس نظام کی کمزوریاں قومی وسائل پر دباؤ ڈالتی ہیں۔
تیسرا مسئلہ تعلیم اور روزگار کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ پاکستان کے نوجوان ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں، مگر ہر ڈگری روزگار کی ضمانت نہیں بنتی۔ اگر پاکستان نے اپنے نوجوانوں کو اس تبدیلی کیلئے تیار نہ کیا تو نئی ٹیکنالوجی بھی معاشی فرق کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتی ہے۔غربت کے خاتمے کے لیے حکومت کو فوری امداد اور مستقل معاشی اصلاحات کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ مستحق خاندانوں کیلئے سماجی تحفظ کے پروگرام مضبوط کیے جائیں، مگر امداد کی تقسیم سیاسی وفاداری کے بجائے شفاف معیار پر ہو۔ چھوٹے کسانوں، گھریلو صنعتوں، چھوٹے کاروبار اور نوجوانوں کو آسان قرض، فنی تربیت اور منڈی تک رسائی فراہم کی جائے۔
عوام کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ بچوں کی تعلیم، ہنر کے حصول، وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور قانونی و معاشی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو ترجیح دینا ہوگی۔ ووٹ دیتے وقت برادری، شخصیت اور وقتی نعروں سے آگے بڑھ کر یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا امیدوار روزگار، تعلیم، صحت اور مقامی ترقی کیلئے قابلِ پیمائش منصوبہ پیش کرتا ہے۔
پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت سیاسی اتفاقِ رائے اور پالیسیوں کے تسلسل کی ہے۔ تمام بڑی سیاسی جماعتیں کم از کم تعلیم، صحت، روزگار، ٹیکس اصلاحات، توانائی اور سماجی تحفظ کے معاملات پر ایک مشترکہ قومی لائحہ عمل تشکیل دیں۔ ایسا لائحہ عمل جو حکومت بدلنے سے ختم نہ ہو۔جب تک قومی ترقی کے ثمرات عام شہری تک نہیں پہنچتے، معاشی نمو کے اعداد و شمار خوش حالی کی مکمل تصویر پیش نہیں کر سکتے۔ غربت کے خلاف اصل کامیابی تب ہوگی جب کسی باپ کو بچوں کی فیس ادا کرنے کیلئے قرض نہ لینا پڑے، کسی ماں کو علاج اور خوراک میں سے ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے اور کسی نوجوان کو روزگار کیلئے اپنا وطن چھوڑنا مجبوری محسوس نہ ہو۔ پاکستان کو غربت کے اعداد و شمار پر افسوس کرنے سے آگے بڑھ کر ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں محنت کرنے والا شہری عزت سے زندگی گزار سکے۔ یہی حقیقی معاشی آزادی اور ریاست کی کامیابی کا معیار ہے۔