نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ معاملات سیاسی مفاہمت سے بہت آگے چلے گئے ہیں۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ سہیل آفریدی کے دور میں دہشت گردی کے واقعات دگنے ہوگئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مفاہمت کا سب سے بڑا حامی ہوں، ہم نے اپنی پوری کوشش کی، معاملات سیاسی مفاہمت سے بہت آگے چلے گئے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ 800 ارب روپے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے خیبر پختونخوا میں جا چکے ہیں، ان سے پوچھ لیں یہ وہ سارا پیسا انہوں نے بجٹ میں لگادیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر بلوچستان کی حکومت مکمل آن بورڈ ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں فرانزک لیب اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نہیں بنے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کابینہ میں ان کی تجویز پیش کی تو کابینہ ارکان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کبھی سندھ تو کبھی پنجاب ہوتے ہیں، 13 سال ہم نے یہ بربادی ہوتے دیکھی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے درست فیصلہ کیا سیاسی مفاہمت اب ختم ہے، وزیراعلیٰ نے کوئی پرفارم نہیں کیا، کہا وزیراعلیٰ تبدیل کرلیں، دہشت گردی کی مذمت کریں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے پروفیشنل لوگوں کو لگایا ہے، وفاق پوری طرح ایڈوائزری بورڈ کی معاونت کرے گا، 6 ماہ بعد اسمبلی بحال ہو جائے گی، حکومت کو سال ڈیڑھ سال لگ جائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے کب دہشت گردی کی مذمت کی؟ بہت بھاری دل کے ساتھ ایمرجنسی کا فیصلہ کیا گیا، ہم نے ایمانداری سے ایک صوبے کے مفاد میں فیصلہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کیسی تقریر کر رہے تھے، ملک کو آگ لگانا چاہتے ہیں، ان کا رویہ وزیراعلیٰ کا تھا ہی نہیں، معاملہ سیاسی مفاہمت سے آگے جاچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے پی دہشت گردی کے خلاف انفرااسٹرکچر صوبائی حکومت نہیں بنا سکی، دہشت گردی کےخلاف جنگ کے لیے این ایف سی سے 1 فیصد آج تک صوبے کو مل رہا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اللّٰہ تعالی انہیں جیل سے باہر لے آئے گا، جو ہوا وہ آئین کے مطابق ہے، ہم ہر چیز کی پوری تسلی کریں گے، دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا میں کیا گیا۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم سب لیڈرشپ کو درست مشورہ دیں، ایمرجنسی کی ساری سمری کو پوری کابینہ نے پڑھا، کہا کہ چیف منسٹر دہشت گردی کی مذمت کر دے اور وفاق کےساتھ مل کرجنگ لڑیں گے، متاثر اضلاع میں ایمرجنسی لگے گی آپ کا جواب نہیں آیا۔