• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوپن اے آئی کے دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے کے الزام میں انجینئر گرفتار

---فوٹو بشکریہ دی نیوز انٹرنیشنل
---فوٹو بشکریہ دی نیوز انٹرنیشنل 

امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے اوپن اے آئی کے سابق انجینئر عبدالرحمٰن الفوزان کو دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ کے لیے آلہ نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف نے بتایا ہے کہ اوپن اے آئی کو 30 ستمبر کو سان فرانسسکو میں واقع اپنے ایک دفتر کے انتظامی اجلاسوں کے کمرے میں ٹیلی ویژن کے پچھلے حصے میں نصب یو ایس بی آلے سے ریکارڈنگ ڈیوائس ملی جس کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔

تحقیقات کے مطابق انگوٹھے کے حجم کا یہ آلہ مائیکروفون سے لیس تھا اور کیمرے سے منسلک ہو سکتا تھا، اسے ٹوائلٹ پیپر میں چھپایا گیا تھا اور مبینہ طور پر 28 ستمبر کے آس پاس نصب کیا گیا تھا، آلے میں محفوظ معلومات خفیہ تھیں اور ابتدائی طور پر ان تک رسائی ممکن نہیں تھی۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام کی مدد سے آلے کا تجزیہ کیا اور مبینہ طور پر اسے نصب کرنے والے ملازم کی شناخت کی۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق کمپنی نے فوری طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اطلاع دی جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 35 سالہ عبدالرحمٰن الفوزان جولائی 2025ء سے اوپن اے آئی میں بطور انجینئر کام کر رہے تھے۔

تفتیش کاروں نے  عبدالرحمٰن الفوزان کے ذاتی بیگ سے بھی اسی نوعیت کا ایک مخصوص ساخت کا آلہ برآمد کیا ہے۔

حکام اور کمپنی کے نمائندوں کے مطابق ابتدائی فرانزک تحقیقات میں ایسے شواہد نہیں ملے کہ ملزم نے کمپنی کے ملکیتی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، ان کے بنیادی کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی ہو یا یہ معلومات باہر منتقل کی ہوں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید