• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جوہری جنگ اور مصنوعی ذہانت انسانیت کو 2100 تک مٹا سکتی ہیں، رپورٹ

کراچی (نیوز ڈیسک) جوہری جنگ اور مصنوعی ذہانت انسانیت کو 2100تک مٹا سکتی ہیں، لینسٹ کمیشن نے انسان کو لاحق 17بڑے خطرات کی نشاندہی کردی، موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور غذائی قلت شامل، اے آئی حیاتیاتی ہتھیار بھی بڑا خطرہ، امیر ممالک کی امداد میں کمی سے 1.5ارب صحت مند زندگیوں کے سال ضائع ہونیکا خدشہ ہے۔ طبی جریدے لینسٹ کے ایک نئے عالمی جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ جوہری جنگ یا مصنوعی ذہانت کے بدنیتی پر مبنی استعمال کے نتیجے میں 2100 تک انسانیت کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلے 75 برسوں میں انسانی صحت کو لاحق 17 بڑے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں جوہری تنازع، مصنوعی ذہانت سے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری، موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی، وبائی امراض، بچوں میں غذائی قلت اور اینٹی بایوٹکس کے خلاف جراثیم کی بڑھتی مزاحمت شامل ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ جوہری جنگ اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے بعض خطرات کے باعث انسانیت کے مکمل خاتمے کا امکان موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی حدت کو 4.4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے دینے کے بجائے تقریباً 1.8 ڈگری تک محدود رکھنے سے صحت مند زندگی کے ضائع ہونے والے 1.89 ارب سال بچائے جاسکتے ہیں۔ جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا اور برطانیہ سمیت امیر ممالک کی جانب سے بین الاقوامی امداد میں نمایاں کمی یا اس کے خاتمے سے 2100 تک صحت مند زندگی کے 1.5 ارب سال ضائع ہوسکتے ہیں، جن میں تقریباً 70 فیصد نقصان سب صحارا افریقہ میں ہونے کا خدشہ ہے۔ کمیشن میں شامل 35 ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ خطرات کو بحران بننے سے پہلے روکنے، صحت کے نظام مضبوط بنانے اور نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے اقدامات کریں۔
اہم خبریں سے مزید