آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کمپنی اینتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ چھوٹے اے آئی ماڈلز آنے والے کچھ مہینوں میں ایسے کمپیوٹر وائرس کی طرح کام کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں جو خود کو ایک انٹرنیٹ سے منسلک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس تک منتقل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق اس نوعیت کے خطرے کو ’اے آئی ورمز (AI worms)‘ یعنی اے آئی وائرس کہا جا رہا ہے۔
کمپنی نے بتایا ہے کہ روایتی کمپیوٹر وائرس کے برعکس یہ اے آئی وائرس اپنی نقل تیار کرنے اور اسے دوسرے آلات میں منتقل کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے جس کے نتیجے میں سائبر سیکیورٹی کے نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
انتھروپک کے مطابق ایسے اے آئی وائرس کمزور حفاظتی انتظامات رکھنے والی ڈیوائسز کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جن میں اسمارٹ ٹی وی باکسز، کچن کے اسمارٹ آلات جیسے اوون، سیکیورٹی کیمرے اور دیگر انٹرنیٹ سے منسلک گھریلو مشینیں شامل ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان آلات میں موجود کمپیوٹنگ صلاحیت کو استعمال کر کے اے آئی ماڈلز ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کیے بغیر بھی کام کر سکتے ہیں، یوں ایک متاثرہ ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس تک پھیلنے والا نیٹ ورک تشکیل پا سکتا ہے۔
انتھروپک کے محققین ولیم ژو اور ڈینیئل فری مین کا کہنا ہے کہ ممکنہ اے آئی وائرس تیزی سے پھیلنے کے بجائے ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس تک اپنی نقل منتقل کرنے میں کئی دن لے سکتا ہے لیکن ایک بار پھیل جانے کے بعد اسے روکنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا کوئی ایک مرکزی نظام نہیں ہو گا جسے بند کر کے پورے نیٹ ورک کو روکا جا سکے۔
یونیورسٹی آف الینوائے کے اسسٹنٹ پروفیسر ورون چندر سیکرن کے مطابق یہ تحقیق پہلے سے سامنے آنے والے خدشات سے مطابقت رکھتی ہے لیکن نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ تھرمواسٹیٹس اور گھریلو سیکیورٹی کیمروں جیسے آلات کے حفاظتی انتظامات تاریخی طور پر کمزور رہے ہیں۔
ورون چندر سیکرن نے بتایا کہ فی الحال خود مختار ہو جانے والے اے آئی نظاموں سے زیادہ فوری خطرہ ایسے افراد سے ہے جو اے آئی کی مدد سے سائبر حملوں کو زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں۔
یہ خدشات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ٹیکنالوجی کمپنیاں موبائل فونز، کمپیوٹرز، گاڑیوں اور گھریلو آلات میں اے آئی کی صلاحیتیں شامل کر رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں چھوٹے اے آئی ماڈلز اپنی نقل خود تیار کرنے اور مختلف ڈیوائسز میں منتقل ہونے کے قابل ہو گئے تو ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہو گی۔
