• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہتے ہیں کہ جب سے انسان پیدا ہوا ،اس کرہ ء ارض پہ ایک ہی کہانی بار بار دہرائی جا رہی ہے ۔ سورۃ المائدہ میں لکھا ہے ۔ آدمؑ کے ایک بیٹے کا دوسرے سے تنازع تھا۔ فیصلہ یہ ہو اکہ دونوں اپنی اپنی قربانی خدا کے حضور پیش کریں ۔ آسمان سے اترنے والی آگ جس کا جانور جلاڈالے ،اس کا حق تسلیم کر لیا جائے۔ ہارنے والے نے خدا کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔اس نے کہا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا ۔آدمؑ کے متقی فرزند نے کہا: میں اپنا ہاتھ تجھے قتل کرنے کیلئے نہیں اٹھاؤں گا۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ روزِ حشر تو اپنے اور میرے دونوںکے گناہوں کا بوجھ اٹھائے اوردوزخ کا ایندھن ہوجائے ۔اسے قتل کر دیا گیا۔

جب سےاس زمین پہ انسان نے ہوش کی آنکھ کھولی ، یہی عمل بار بار دہرایا جا رہاہے ۔ زمینوں پہ قتل ، وسائل پہ قتل اور اقتدار پہ قتل ۔ انسان وسائل اور شہواتِ دنیا حاصل کرنے میں ناکامی پہ مشتعل ہو جاتا ہے ۔ دوسرے کا حق مارنے کا فیصلہ کرتاہے ۔ تنازع اٹھتا ہے ، قتل و غارت ہو جاتی ہے ۔ آج سے ستر لاکھ سال پہلے وہ پہلا آدمی نما شخص اس دنیا میں پیدا ہوا تھا، پہلی بار جو دو ٹانگوں پہ سیدھا کھڑا ہو کرچلتااورانسان نمانظر آتاتھا۔اس کانام تھا سہیلین تھروپس چاڈینسز Sahelanthropus Tchadensis۔اس سے لے کر آج تک انسان کے اپنے ہم جنس کے ہاتھوں قتل ہونے کے آثار دریافت ہو رہے ہیں ۔سہیلین تھروپس سے لے کر تین لاکھ سال پہلے پیدا ہونے والے ہمارے آباؤ اجداد تک ،آج کے ٹرمپ ، نیتن یاہو، پیوٹن اور مودی تک ، یہ قتل وغارت جاری ہے ۔ انسان سے پہلے چمپنزی اور دیگربوزنے قتل و غارت کرتے رہے ۔ دودھ پلانے اور رینگنے والے جانور ایک دوسرے کو قتل کر تے رہے ۔ خوراک اور مادہ کو حاصل کرنے کا واحد راستہ یہی تھا کہ حریف کو قتل کر دیا جائے ۔ شیر سے لے کر بڑی چھپکلیوں تک ،آج بھی نر ایک دوسرے کی ریڑھ کی ہڈی توڑڈالتے ہیں ۔

پوری دنیا میں روزانہ کی بنیاد پر نا انصافی اوراس سے اٹھنے والے تنازعات پہ قتل وغارت ایک معمول کی بات ہے ۔ فرق کیا ہے ؟ پچھلی انسانی نسلیں قتل کر کے پھینک جاتی تھیں ۔ انہیں یہ فکر لاحق نہیں ہوتی تھی کہ انہیں جارح کہا جائے گا۔آدم ؑ کی اولاد قتل کرتی تو دفناتی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ ماڈرن، سوٹ بوٹ پہننے والا فصاحت کے موتی لٹاتا اور خود کو حق پر ثابت کرتاہے ۔ لابنگ کے ذریعے لوگوں کو اپنے حق میں رام کرتا اور قتل ہونے والے کو انسانیت کا دشمن ثابت کرتاہے ۔چونکہ وہ طاقتور ہوتاہے ، اسلئے سبھی اسے حق پر قرار دینے کا ڈھول بجاتے ہیں ۔ کمزور شخص کو نہ صرف قتل کیا جاتاہے ، بلکہ لوگ آپس میں یہ اتفاق رائے بھی کرتے ہیں کہ مرنے والا انسانیت کا دشمن تھا چنانچہ اسی حشر کا مستحق۔

کیا اسرائیل نے دہائیوں اور امریکہ نے صدیوں یہی کام نہیں کیا۔ پانچ کروڑ ریڈ انڈینز امریکیوں کے آباؤ اجداد نےقتل کیے ۔ کیا آج بھی ٹرمپ ایران کو تباہی و بربادی کا مستحق اور خود کو انسانیت کا ٹھیکیدار قرار نہیں دیتا ۔ساتھ ہی ساتھ وہ امن کا نوبل انعام بھی مانگتا ہے ۔ اس زمین پہ جارحیت کرنے والا کوئی شخص خدا سے نہیں ڈرتا ، ڈرتا کیا ایمان ہی نہیں رکھتا۔ خدا اور یومِ حشر پرایمان اگر حقیقی ہوتو قتل کرنے کی اسے ہمت ہی نہ ہو۔ اس کےبرعکس وہ لوگوں سے کہتاہے کہ مذہبی طورپر بھی میں حق پر ہوں اور دوسرا باطل ہے۔ اپریل میں صدر ٹرمپ نے اے آئی تصویر میں حضرت عیسیٰؑ کو اپنے سر پہ دستِ شفقت رکھتے ہوئے دکھایا۔

مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہاہے ۔ تقسیم کے وقت جو طے شدہ فارمولا تھا ، اس کے مطابق اسے پاکستان کا حصہ بننا تھا ۔بھارت نے انکار کیا اور یہ ایک تنازعے میں بدل گیا۔ اقوام متحدہ نےاستصوابِ رائے کا فیصلہ پیش کیا۔ کشمیریوں سے پوچھ لیا جائے کہ وہ پاکستان اور بھارت میں سے کس کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔یہ ایک سادہ سا کام تھا ۔ بھارت کی مضبوط عالمی لابنگ کے زیرِ اثر آج تک مکمل نہیں ہو سکا ۔ لاکھوں لوگ قتل ہو چکے ۔ یٰسین ملک جیسے لیڈر تباہ شدہ صحت کے ساتھ سزائے موت کے فیصلے سن رہے ہیں ۔

پاکستان میں کیا ہوا؟ 70ء کے انتخابا ت واضح تھے ،نا انصافی کرنے والوں نے ماننے سے انکار کردیا ۔ شیخ مجیب الرحمٰن الیکشن جیت گیاتھا ۔اقتدار منتقل کرنے کی بجائے الیکشن جیتنے والوں کو غدار قرار دے دیا گیا ۔ پاکستان دو لخت ہو گیا ۔ سبق نہ سیکھا گیا ۔ شیخ حسینہ واجد نے کیا ظلم کیا؟ اس نے 71ء کے سارے زخم ہرے کرتے ہوئے اس وقت کے پاکستان حامی لیڈروں کو پھانسی پہ لٹکایا ۔ وہ سمجھتی تھی کہ جذبات کو جس قدر بھڑکایا جائے گا ،اقتدار اتنا ہی طویل ہوتا جائے گا ۔ہوا اس کے برعکس ۔ آج بھارت میں بیٹھی وہ منہ بسور رہی ہے ۔

خود بھارت ایک انقلاب سے گزر رہا ہے ۔ ہمارے ہاں مگر ایک ہی کھیل ۔ کسی نہ کسی صورت اقتدار پہ قبضہ اور الیکشن جیتنے والوں کوتہمتوں کی بھرمار ۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں

دیکھتے ہیں ، لاکھوں برسوں سے دہرایا جانے والا یہ کھیل اب کی بار کیا رنگ لاتا ہے ۔ ہوسکتاہے آئن سٹائن غلط ثابت ہو جائے اور بار بار دہرایا جانے والا تجربہ اب کی بار مختلف نتائج سے ہمکنار ہو۔ لاکھوں سال سے کھیل بہرحال وہی ہے ، کردار اگرچہ بدل جاتے ہیں !عوام بیچارے تالیاں  بجاتے بجاتے تھک گئے ہیں ۔

تازہ ترین