وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے باعث ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گزشتہ روز دونوں ایوانوں سے ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ آج مشترکہ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اس کی توثیق کی جا رہی ہے، جس کی منظوری ضروری ہے، اسی مقصد کے لیے مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ دن بدن شدت اختیار کر رہی ہے اور گزشتہ 4 ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر قانون کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2025ء تک دہشت گردی کے 3 ہزار 700 سے زائد واقعات پیش آچکے تھے، جب کوئی صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہو تو سیاست روک کر ریاست کو ترجیح دینے کا وقت ہوتا ہے، لیکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تمام تر توجہ سیاست پر مرکوز تھی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر کسی صوبے کے معاملات آئینی طریقۂ کار سے ہٹ کر چلائے جا رہے ہوں تو گورنر صدرِ مملکت کو خط لکھتا ہے، صدرِ مملکت نے اطمینان کرنے کے بعد وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کی۔
انہوں نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حالات اتنے سنگین ہونے کے باوجود فرانزک لیبارٹری موجود نہیں، جبکہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کا ڈھانچہ بھی مکمل نہیں تھا۔
وزیر قانون نے مزید کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے تک تمام صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی، اب اس ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا اختیار ہے۔